کیا امریکا کو سازش کی ضرورت تھی؟
ان دنوں یوں محسوس ہو رہا ہے کہ جیسے بھٹو مرحوم کے ہٹائے جانے یا لٹکائے جانے کا درد اتنا اس کے لواحقین یا پارٹی ورکرز کو نہیں ہے جتنا درد ہمارے ایک کرکٹر کے پیٹ میں اٹھ رہا ہے۔
فرما رہے ہیں کہ امریکا نے سازش کرکے بھٹو کو حکومت سے اتارا اور پھر میر جعفروں اور چوروں سے پھانسی لگوائی۔ معلوم نہیں میر جعفروں اور چوروں سے ان کی مراد کون لوگ ہیں؟ ابھی تک تو مرحوم کے لواحقین اسے جوڈیشل مرڈرقرار دیتے ہوئے ایک طاقتورلٹھ بردار کا نام لیتے چلے آ رہے ہیں۔ رہ گئی امریکی سازش یا امریکیوں کا رول اس سے جتنی آگہی مرحوم کی والی وارث دختر مشرق محترمہ بے نظیربھٹو کو تھی، ان سے بڑا دعویدار تو کسی اور کوتسلیم نہیں کیا جاسکتا۔ یہ حقیقت پارٹی ریکارڈ میں ملاحظہ کی جاسکتی ہے کہ بی بی صاحبہ نے اس حوالے سے اپنے مشتعل کارکنان کو نہ صرف یہ کہ امریکی پرچموں کی بے حرمتی سے روک دیا تھا بلکہ امریکا کے خلاف نعرے بازی کو بھی ختم کروا کر دم لیا تھا۔
محترمہ کے والد مرحوم سے ہم لاکھ اختلاف کرتے ہوئے جتنی چاہے تنقید کرلیں پھر بھی ان کی سیاسی اہمیت و پہچان سے انکار نہیں کیا جاسکتا۔ پاکستان کے نیو کلیئر پروگرام میں ان کا بنیادی رول بھی سب کے سامنے ہے۔ اس پس منظر میں انہوں نے اگر کوئی ایسا شوشہ چھوڑا بھی تھا تو اس کی سمجھ آتی ہے۔ مگر ایک ایسا شخص جس کی ساری زندگی کھیل تماشے یا لہو و لعب میں گزری ہو اور اس کاسیاسی کردار سوائے طاقتوروں کی تھپکی کے زیرو رہا ہو۔ اسے اس نوع کے بلند بانگ دعوے کرتے دیکھ کر حیرت ہوتی ہے۔ اگر کوئی شخص محض ایک کال کی مار ہو اور آپ اس کے لئے اتنا تردد بھی نہ کریں، وہاں سازشی تھیوری کو سوائے بڑھک بازی کے اور کیا نام دیا جائے۔
جس مبینہ خط کا یوں ڈھول پیٹ پیٹ کر اتنا واویلا کیا جارہا ہے بقول ڈاکٹر اسد مجید کے سفارت کار ی میں ایسی کیبل کوئی غیرمعمولی یا حیرت انگیز چیز نہیں ہے۔ رہ گئی امریکی سازش تو اس کی جڑ ڈی جی آئی ایس پی آر نے اپنی حالیہ پریس کانفرنس میں یہ کہتے ہوئے کاٹ دی ہے کہ قومی سلامتی کمیٹی کے علامیہ میں ’’سازش‘‘ کا لفظ تک نہیں ہے۔ اگر غیر سفارتی زبان کو مداخلت کہہ دیا جائے تو اس پر بھی ڈیمارش کیا جاسکتا ہے۔ ساتھ میں انہوں نے ایبسولیوٹلی ناٹ کا پتہ بھی یہ کہتے ہوئے صاف کردیا ہے کہ امریکیوں کی طرف سے ایسا کوئی مطالبہ سرے سے آیا ہی نہیں تھا۔ اگر آتا بھی تو اس پر ہمارا بھی یہی جواب ہوتا۔ یہاں ایسے بقراط بھی ہیں جنہیں سازش اور مداخلت میں فرق کی سمجھ نہیں آ رہی۔ حالانکہ سازش میں تو ایک نوع کی پلاننگ ہوتی ہے جبکہ مداخلت تو اچھی بری کسی بھی بات کو قرار دیا جاسکتا ہے۔ مثال کے طور پر سنکیانگ میں مسلمانوں پر جو مظالم ڈھائے جا رہے ہیں اگر ان کے خلاف امریکا کوئی بیان جاری کرتا ہے تو چینی یہ کہہ سکتے ہیں کہ امریکی ہمارے داخلی معاملات میں مداخلت کر رہے ہیں لیکن اگر امریکا ان مظلوم مسلمانوں کو کمیونسٹ جبر سے چھٹکارا دلانے کی کوئی سکیم بناتا ہے تو چینی اسے اپنے خلاف سازش قرار دے سکتے ہیں۔
اسی چیز کو بلوچستان میں انڈیا اور کشمیر میں پاکستان کے حوالے سے بھی عالمی سطح پر بیان کیا جاسکتا ہے۔ ابھی حال ہی میں یوکرائن پر روسی حملے کے پس منظر میں امریکا نے ہندوستان کو روس سے تجارتی تعلقات پر کھلے بندوں اچھی خاصی سنائی ہیں جو ہمارے سفارتی مراسلے سے کہیں بڑھ کر ہیں۔ کیا اس پر مودی سرکار کا یہ کہنا بنتا ہے کہ امریکا یا جوبائیڈن اس کی حکومت گرانے کے لئے سازش کر رہے ہیں؟ امریکا کا اسرائیل یا سعودی کنگڈم سے بڑا اتحادی کون ہوگا۔ کئی مواقع پر امریکی حکومتوں نے اپنے ان ہر دو اتحادیوں یا ان کی حکومتوں کے حوالوں سے بہت کچھ کہا ہے عالمی سفارت کاری میں اس نوع کی ایک سو ایک مثالیں پیش کی جاسکتی ہیں۔ اس نوع کی کڑیاں ملاتے ہوئے خود کو عالمی سطح کا لیڈر یا مدبر ثابت کرنا سوائے ایک بھونڈی و سستی سیاسی شہرت کی کاوش کے اور کوئی حیثیت نہیں رکھتی ہے۔ کیا امریکیوں نے آپ کو کہا تھا کہ شیخ چلی بن کر لمبے چوڑے دعوے اور وعدے کرو اور پھر یوں بری طرح ٹھس ہو جاؤ؟ یا امریکیوں نے یہ کہا تھا کہ اپنی نااہلیوں سے ملکی معیشت کا بیڑا غرق کرتے ہوئے اپنی قوم کو مہنگائی کی سونامی میں ڈبو دو؟ کیا امریکیوں نے یہ کہا تھا کہ اپنی بدزبانی سے قومی سیاست میں منافرتوں کے زہر گھول دو اور پھر جب عدم اعتماد کی تحریک آ جائے تو طاقتوروں سے بچائو کی بھیک مانگو نہ ملے تو طاقتوروں کے خلاف گندے پروپیگنڈے کی بوچھاڑ کردو؟
آج اگر ایندھن کی کمی یا فنی خرابی کی وجہ سے 25 پاور پلانٹس پورے ایک سال سے بند پڑے ہونے کی نااہلی سامنے آئی ہے تو کیا اس کی سازش بھی جوبائیڈن نے تیار کی تھی؟ آج کس سادگی سے پوچھا جا رہا ہے کہ میرے خلاف رات بارہ بجے عدالتیں کیوں لگائی گئیں؟ کیا آپ کو اس کا واقعی علم نہیں ہے کہ آپ حکمرانی کے کس قدر حریص ہیں اور اس کے لئے آپ اخلاقیات کی کتنی نچلی سطح تک جا سکتے ہیں؟ جس شخص کو یہ تک معلوم نہ ہو کہ اگر عدم اعتماد کی قرار داد آ جائے تو آئینی تقاضا ہے کہ اس پر سات دن کے اندر اندر رائے شماری لازم ہے نیز اسمبلی توڑنے کا اختیار بھی ختم ہو جاتا ہے تو اسے اتنی اہم ذمہ داری پر براجمان رہنے کا کیا حق ہے؟ اتنی بڑی آئین شکنی کے باوجود وہ آئین اور پارلیمنٹ کی صریحاً توہین کرتے ہوئے 9اپریل کی صبح سے آدھی رات تک اقتدار سے چمٹے رہنے کی خاطر طرح طرح کے ڈرامے کر رہا ہو، آدھی رات کو عدالتیں کھلنے اور قیدیوں والی گاڑیاں گیٹ پر دیکھنے کے بعد اسے معلوم ہو کہ قانون کا ڈنڈا سامنے کھڑا ہے۔ اور پھر اسے یہ بھی سمجھ آئے کہ میں نے جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کے خلاف جس نوع کے ریفرنسز بنائے تھے وہ تو میری غلطی تھی مجھے ایسے نہیں کرنا چاہیے تھا۔
آنے والے دنوں میں ابھی اور بھی بہت سے غلطیوں کا اعتراف سامنے آتا چلا جائے گا۔ بھلے آج بھی اپنا نازی لہجہ قائم رکھتے ہوئے کہتے رہو کہ ’میں اداروں سے پوچھتا ہوں کہ نیوکلیئر پروگرام کی حفاظت کیا یہ ڈاکو کر سکتے ہیں؟ ہماری سالمیت ان چوروں کے ہاتھوں میں ڈال رہے ہو۔ کوئی خد ا کا خوف نہیں، جس دن ہم نے کال دی شہباز شریف کو چھپنے کی جگہ نہیں ملے گی‘۔ اس کو کہتے ہیں رسی جل گئی بل نہیں گیا، اپنی اس غیر پارلیمانی زبان کا وتیرہ ضرور جاری رکھیے اور پھر اس کے نتائج بھگتنے کے لئے بھی تیار رہیے۔ البتہ کل کو مظلومیت کے لبادے اوڑھنے سے احتراز کیجئے گا۔ دوسرے قومی سیاستدانوں کو چور ڈاکو کہتے اور خود کو مہاتما کے روپ میں دکھاتے ہوئے اپنے ان ’کارناموں‘ پر بس ایک نظر ڈال لیجئےجن کی تفصیلات جلد قوم کے سامنے آنے والی ہیں اور آ رہی ہیں۔
قومی سیاست میں اتنی منافرت پھیلانے والے کے لئےکسی امریکی سازش کی کیا ضرورت تھی؟۔ ماشا اللہ خود آپ سے بڑھ کر آپ کا دشمن کون ہوسکتا ہے؟۔ رہ گئی پارٹی تو توڑپھوڑ کے بعد اس کے بکھرنے کا منظر نامہ کسی اگلے کالم میں۔