حرم نبوی کے تقدس کی پائمالی کیوں؟
- تحریر افضال ریحان
- ہفتہ 30 / اپریل / 2022
انسانیت صدیوں ٹھوکریں کھانے اور جدوجہد کرنے کے بعد کچھ حقائق تک پہنچتی ہے تو جہلا بجائے ان کا ادراک کرنے یا سمجھنے کے الٹا مذاق اڑانا شروع کردیتے ہیں۔ اپنے مذموم سیاسی مقاصد کے لیے مذہب کا استعمال آج کوئی نئی چیز نہیں ہے اقتدار کے حریص صدیوں اس ہتھیار کا استعمال بے دردی سے کرتے رہے ہیں۔
تدریجی شعوری ترقی سے آج کی مہذب دنیا، اقوام عالم کے استحصال کی اس بنیاد تک پہنچ چکی ہے اور اپنے اپنے ملکی قوانین میں اس امر کا اہتمام کررہی ہے کہ کسی بھی صورت مذہب کا بطور سیاسی ہتھیار استعمال نہیں ہونا چاہیے۔ لیکن ہمارے ترقی پذیر ممالک بالخصوص مسلم ورلڈ میں نہ صرف یہ کہ اس کا چلن عام ہے بلکہ اچھے خاصے طاقتور گروہ اس امر پر اصرار کرتے پائے جاتے ہیں کہ ’’جدا ہو دین سیاست سے تو رہ جاتی ہے چنگیزی‘‘۔ اس جبری اپروچ کا نتیجہ یہ ہے کہ اقتدار کا ہر حریص بے شرمی اور ڈھٹائی سے اپنی سیاست چمکانے کے لیے مذہب اور مذہبی اصطلاحات کا استعمال بے دریغ کرتا ہے۔ یوں عوامی جذبات بھڑکا کر اپنے سیاسی مخالفین کے خلاف منافرت پھیلاتا اور خود کو ایک مقدس رہنما یانجات دہندہ کے روپ میں پیش کرتا ہے۔
باریک بینی سے سٹڈی فرمائیں آٹھ دہائیاں قبل شروع ہونے والی یہ بیماری ہمارے ملک میں آج بھی جوں کی توں ہے اور اس کے خلاف بولنے یا لکھنے والوں کو مختلف حیلوں اور طریقوں سے دبایا جاتا ہے۔ حالانکہ آئینی طور پر اس نوع کی قانون سازی ہونی چاہیے کہ جو شخص اپنی سیاست چمکانے کے لیے مذہبی رنگ بازی کرے، اس نوع کے نعرے لگائے، سوسائٹی میں مذہبی، نسلی یا جنسی امتیازات و تعصبات کو ابھارے، الیکشن کمیشن اسے نااہل قرار دے دے۔ مذہب کا تقدس اپنی جگہ لیکن وہ بندے اور خدا کا باہمی معاملہ ہے۔ ریاست مائی باپ کی طرح اپنے ہر شہری کو بلاامتیاز ایک نظر سے دیکھے۔ سیاسی قیادت کا کام عوامی دکھوں کا مداوا اور ملک و قوم کی تعمیر وترقی ہونا چاہیے نہ کہ مذہبی جنونیت کا پھیلاؤ۔
ہمارے ایک سابق کھلاڑی نے پچھلی دو دہائیوں سے تقریباً اپنی ہر تقریر میں یہ وتیرہ اتنی بے دردی سے اپنا رکھا ہے کہ گویا وہ کوئی اوتار ہے جو قوم کی نجات کے لیےبھیجا گیا ہے۔ حالانکہ اس کی ساری زندگی عیاشی، منافقت اور جھوٹ میں لتھڑی ہوئی ہے۔ جس نوع کے وہ واعظ کرتا ہے، ان میں بھی اس کی سٹڈی تیسری جماعت کے بچے جتنی ہے۔ چلیں خیر اس جہالت کا رونا ہم کیا روئیں اس کا ایک اور جاہ پسند ساتھی جو خود کو ایک مبلغ کے بہروپ یا حلیے میں پیش کرتا ہے، درویش اگر اس کی اصلیت تمامتر تہذیبی تقاضوں کے ساتھ کھول دے تب بھی وہ ناقابل اشاعت قرار پائے گی، حالانکہ مقدس رات میں دعا کے نام پر وہ جس طرح ہماری سپریم جوڈیشری کے خلاف منافرت پھیلا رہا تھا، اس کا پوسٹ مارٹم کرتے ہوئے اس کا حرف بہ حرف اور ترکی بہ ترکی مسکت جواب دینا چاہیے۔
کونسا مسلمان ہے جو حرمین شریفین کا احترام نہیں کرتا حرم شریف کی حرمت تو قبل از اسلام بھی اس قدر تھی کہ یہاں بدترین دشمن کی بھی عزت و وقار کا پاس و لحاظ ہوتا تھا۔ ابوجہل، ابوسفیان، عتبہ، شیبہ اور دیگر سرداران مکہ میں سے کسی ایک کی مثال نہیں دی جاسکتی کہ اس نے حرم کی حرمت کو پائمال کیا ہو یا ایسی کوئی کاوش کی ہو۔ کس کی حکومت اور نگرانی میں اپوزیشن لیڈر محترمہ مریم نواز کو رات گئے ہوٹل کے کمرے کا دروازہ توڑ کر گرفتار کرتے ہوئے جیل میں ڈال دیا گیا تھا، صرف اس جرم میں کہ ان کے غیر ذمہ دار خاوند نے جناح صاحب کے مقبرے میں جمہوریت کے نعرے لگا کر بانی پاکستان کی توہین کی ہے۔ کیا حرم نبویؐ کا تقدس و وقار جناح صاحب کے مقبرے جتنا بھی نہیں ہے؟ وہاں کس جواز کے تحت وزیراعظم شہباز شریف اور ان کے سرکاری وفد کی آمد پر چلا چلا کر نعرے بازی کی گئی ہے؟ انہیں چور، ڈاکو، بھکاری اور بے غیرت کی گالیاں دی گئی ہیں۔ ایک بلوچ لیڈر کو لوٹا لوٹا کہتے ہوئے اس کے بال کھینچے گئے ہیں، ایک خاتون ڈیلیگیٹ پر آوازے کسے گئے ہیں۔ اس طرح چلانے والوں نے سابق کھلاڑی کے لیے زندہ باد کے نعرے لگائے ہیں۔ کیا یوں گلے پھاڑ پھاڑ کر چیخنے والوں نے ادب کے اس اعلیٰ مقام کا کچھ ہلکا سا بھی خیال کیا ہے؟
ان عاشقانِ عمران نے حرمین شریفین کا تقدس ہی پائمال نہیں کیا ہے انسانی حرمت و وقار کی بھی دھجیاں بکھیری ہیں وڈیوز میں ملاحظہ کیا جاسکتا ہے کہ بلوچ رہنما زین بگٹی کے چہرے کی کس قدر ہوائیاں اڑی ہوئی تھیں، وہ ان کے شر سے بچنے کے لیے سہما ہوا تھا کیا یہ کرتوت دہشت اور ہراسمنٹ میں نہیں آتی ہے؟ درویش کے ساتھ بیٹھی ڈاکٹر خلعت النسا یہ سب دیکھتے ہوئے پوچھ رہی تھیں کہ سعودی عرب میں کیا کوئی قانون نہیں ہے جس سے حرمین شریفین جانے والوں کی عزت و آبرو کا تحفظ ہو سکے؟ اس طرح تو لوگ مقامات مقدسہ پر جاتے ہوئے بھی ڈریں گے۔ احسن اقبال روضۂ رسولؐ سے باہر آکر پوچھ رہے تھے کہ حرمین کا تقدس کیوں پائمال کیا جا رہا ہے؟
وہ ناہنجار فینز جو انٹرنیٹ پر ان نعرے بازوں کی سہولت کاری کرتے ہوئے انہیں جسٹیفائی کر رہے ہیں اور اس نوع کے دلائل دے رہے ہیں کہ چوروں کو ہر مقام پر چور کہنا چاہیے جنہوں نے ہماری حکومت کو گرایاہے اور یہ کہ خدا نے انہیں اپنے حبیبؐ کے مقام پر ذلیل و رسوا کردیا ہے، یہ آقاؐ کی نہیں ان چوروں کی توہین ہے ان حجت بازوں کو شرم آنی چاہیے جن کی یہ گالم گلوچ کرنے والے توہین کر رہے تھے۔ آقاؐ نے انہیں یہ عزت عطا فرمائی ہے کہ اپنے حجرہ مبارک کے اندر بلا کر زیارت کاعظیم موقع فراہم کیا ہے۔ امید ہے سعودی حکومت بھی روضہ رسولؐ کے سامنے توہین آمیز نعرے لگانے اور انسانی وقار و حرمت سے کھیلنے والوں کے خلاف کما حقہ کارروائی کرے گی۔
مدینتہ الرسولؐ میں یہ سانحہ اچانک نہیں ہوا ہے کئی روز پہلے اس کی باقاعدہ پلاننگ کی گئی تھی، پی ٹی آئی کے کئی لوگوں اور پنڈی کے ایک بڑبولے سابق وزیر کی وڈیوز اس حوالے سے ملاحظہ کی جاسکتی ہیں لیکن اس سب سے بڑھ کر اس کا ذمہ دار وہ انوکھا لاڈلہ ہے جو کھیلنے کے لیے اقتدار کا بدترین حریص ہے۔ جو کبھی آئین و قانون کے ساتھ کھیلتا ہے اور کبھی ملک و قوم کے ساتھ کھلواڑ کرتا ہے۔ اگر کسی کا بچہ کرکٹ کا بڑا کھلاڑی ہولیکن اسے ڈرائیونگ نہ آتی ہو تو کیا وہ اپنی گاڑی اس اناڑی کے حوالے کرے گا؟ آپ میں جب امور حکومت چلانے اور سیاسی باریکیوں کو سمجھنے کی صلاحیت مفقود ہے اور پچھلے ساڑھے تین سالوں میں آپ جس برے طریقے سے فلاپ ہو کر گرے ہیں، اس کے بعد تو ویسے ہی شرم سے گھر بیٹھ جانا چاہیےتھا۔ لیکن آپ کوئی دن نہیں چھوڑتے جب اپنے فینز کو دہشت اور تشدد پر نہیں اکساتے ہیں۔
اس اشتعال انگیزی کا کیا مطلب ہے ’’نور عالم ذرا اپنے حلقے میں نکلو لوگ تمہارے ساتھ کیا سلوک کرتے ہیں؟‘‘۔ آپ ہمہ وقت اپنے لوگوں کو اپنے سیاسی مخالفین پر حملہ آور ہونے کی ترغیب دیتے ہیں۔ کیا آپ اتنے لاڈلے ہیں کہ آئین قانون اور منتخب و عسکری اداروں کے خلاف کھلواڑ کریں بلکہ اپنے مذموم سیاسی کھیل کے لیے ملک و قوم کا ستیاناس کریں اور آپ کو کچھ نہ پوچھا جائے۔ آخر ہماری نئی حکومت واضح آئین شکنی پر سابق کھلاڑی اور ہمنواؤں کے خلاف اقدامات اٹھانے میں کیوں تساہل دکھا رہی ہے؟