بدلتے ورلڈ آرڈر کی چاپ ہم کیوں سنیں

وہ کئی لمحے دیوار پر ٹنگے دنیا کے نقشے کو دیکھتے رہے، پھر ایک گہر ا  سانس لے کر جواب دیا،  دنیا تیسری جنگ عظیم کے انتظار میں ہے۔ عالمی منظر نامے پر جدھر دیکھیں امن کے امکانات محدود اور جنگ کے امکانات لامحدود دکھائی دیتے ہیں۔ امن امن کی باتیں ایک سفارتی دکھاوے کی حد تک ٹھیک ہیں  مگر عمل اس کے الٹ ہے۔ یہ جنگ کب ہوگی، یہ تو میں ٹھیک سے اندازہ  نہیں  لگا سکتا مگر یہ اندازہ ضرور لگا سکا ہوں کہ دنیا ایک اور جنگ عظیم کی طرف بڑھ رہی ہے۔

یہ تقریباٌ  چار سال قبل کی بات ہے۔ ہم جارجیا اسٹیٹ یونی ورسٹی، اٹلانٹا، امریکہ  میں پولیٹیکل  سائنس کے پروفیسر ڈاکٹر راشد نعیم کے ساتھ بدلتے ہوئے عالمی منظر نامے اور ورلڈ ارڈر کے مستقبل کے حوالے سے بات کر رہے تھے۔  ہمارے   اس سوال تھا  کہ وہ دنیا کا مستقبل کیا دیکھتے ہیں؟ امن اور خوشحالی کو چانس ملے گا یا بڑی  طاقتیں اپنی  برتری کی خاطر سب کچھ داو پر لگا دیں گی؟

 ڈاکٹر راشد نعیم کا تعلق  بھارت کے صوبے بہار سے ہے۔ گریجوئشن علی گڑھ یونی ورسٹی سے کی، ماسٹرز جواہر لال یونی ورسٹی سے کیااور پھر پولیٹیکل سائنس میں امریکہ سے پی ایچ ڈی کی۔  اس کے بعد وہ ریسرچ اور  تعلیم کے ہو رہے۔ انٹرنیشنل ریلیشنز ان کا خاص میدان ہے۔ ان  کے علمی  پسِ منظر کے پیشِ نظر ہمیں ان کے  اس جواب  نے چونکا دیا۔ شکاگو یونی ورسٹی امریکہ کے ایک اور معروف پروفیسر میر شائمر ہیں جو انٹربیشنل ریلیشنز میں ایک منفرد مقام رکھتے ہیں، روس اور چین ان کے خصوصی میدان ہیں۔ ان کے خیال میں تاریخ کا سبق تو یہی ہے کہ جب بھی کسی  عالمی پاور  کے ہاتھ سے پاور پسھلتی ہے اور اس کے مقابلے میں کوئی اور طاقت ابھرتی ہے تو  عالمی بساط پر یہ تبدیلی بالعموم  خیریت سے انجام نہیں پاتی۔  محاذ آرائی اور جنگ  لازمی خاصہ ہے۔ پہلی جنگ عظیم ہو یا دوسری جنگ عظیم یا پچھلی صدیوں  کی بیشتر جنگیں، طاقت  میں برتری اور مقابل پر غلبے کا جنون ناں ناں کرتے جنگ کے شعلے بھڑکا دیتا ہے۔

کل تک کہنے کی باتیں تھیں مگر اب سب کے سامنے  ہے کہ اکیسویں صدی ایشیا کی ہے۔ چین کی حیرت انگیز ترقی کے ساتھ ساتھ نصف درجن سے زائد ایشیائی ممالک  ٹیکنالوجی، ایجادات، ٹریڈ  اور معاشی حجم کے اعتبار سے اب عالمی معاشی بساط کے نمایاں کردار ہیں۔چین قوت خرید   کے اعتبار سے امریکہ کا ہمسر ہے۔ چند سالوں کی بات ہے کہ ڈالرز کے پیمانے پر چین کی معیشت امریکہ کی معیشت  سے آگے نکل جائے گی۔ معاشی طاقت کے اس توازن کا پانسہ پلٹنے کے بعد امریکہ  کا رویہ بطور ایک سابقہ سپر پاور کیا ہوگاَ، وہ نئی سپر پاور کے ساتھ کس طرح ایڈجسٹ کرے گا؟ سنگاپور کے سابق سفارتکار اور اب پروفیسر کشور محبوبانی کے بقول امریکہ زعما اور پالیسی ایکسپرٹ اس سوال  کا جواب دینے سے کترا تے ہیں کہ اس صورت میں ان کا ورلڈ پالٹکس میں رویہ کیا  شکل اختیار کرے گا؟َ کس طرح ایڈجسٹ کرے گا؟   

روس یوکرائن جنگ اس ممکنہ منظر نامے  سے کچھ نقاب سرکانے کا سبب بنی ہے۔  روس کو یوکرائن پر جارحیت کی سزا دینے کے لئے ورلڈ آرڈر پوری شدت سے حرکت میں آیا۔ روس پر پابندیوں پر پابندیوں نے اس ورلڈ سسٹم اسے کاٹ کر الگ رکھ دیا ہے۔ روس میں کام کرنے والی سینکڑوں بیرونی کمپنیاں دنوں میں کاروبار بند کرکے یہ جا اور وہ جا۔ ایوی ایشن رابطے اور سمندری تجارت سب یکدم  منجمد۔ ڈالر ہی لین دین کی کرنسی ہونے کی وجہ سے روسی معیشت کا عالمی لین دین  بھی ٹھپ۔ گیس کا ہتھیار دونوں جانب سے استعمال ہورہا ہے۔ امریکہ اور اس کے اتحادی یوکرائن کو فوجی امداد اور اسلحے سے بخوشی لیس کر رہے ہیں۔

چین اس ساری صورت حال کا بغور مشاہدہ کر رہا ہے۔ اسے معلوم ہے کہ سپر پاور امریکہ  کے  ساتھ  تصادم کا میدان تائیوان اور ساؤتھ چاینا سمندر میں کب کا سجا ہوا ہے۔   معاشی میدان میں  سابق صدر ٹرمپ کے ٹیرف اقدامات کا ترکی بہ ترکی جواب ٹریلر تھا کہ محاذ آرائی کی صورت میں دونوں ممالک ایک دوسرے کو نیچا دکھانے میں کسی حد تک جا سکتے ہیں۔ یوکرائن روس جنگ کا نتیجہ کیا نکلے گا اور کب نکلے گا؟ اس کا فیصلہ آئیندہ چند ماہ میں ہو جائے گا۔ اس کے دور رس اثرات کیا ہوں گے، اس کا اندازہ دنیا کو ہونا شروع ہو گیا۔ فوڈ سپلائی  چین اور انرجی سپلائی نے ترقی یافتہ ممالک سمیت سب کو ہلا کر رکھ دیا ہے۔ سیاسی اعتبار سے امریکہ اور اس کے اتحادی  دنیا کو سیاسی تقسیم میں اسی مقام پر لے آئے ہیں جہاں صدر بش نے لکیر کھینچ کر کہا تھا کہ یا تو آپ ہمارے ساتھ ہیں یا ہمارے خلاف۔۔

پاکستان ایسی صورتحا ل سے کیسے نمٹے گا؟ اس سوال کے ممکنہ جواب پر ہمارے آپشنز قطعاٌ  حوصلہ افزا نہیں۔ معشیت قرضوں کے بوجھ تلے دبی ہوئی ہے۔ ہر نئی حکومت کا کمال یہی ہے کہ وہ پچھلے قرضوں کی ادائیگی کے لئے  نئے قرضے اٹھائے۔ معاشی نمو میں مسلسل دھوپ چھاؤں کی وجہ سے معاشی ترقی کی نمو میں تسلسل نہیں ہے۔ بیلنس آف پے منٹ کا بحران اب دمے کی طرح سانس دبوچے ہوئے ہے۔   علاقائی سیکیورٹی اپنی جگہ ایک مسلسل درد سری ہے۔ ملک کے اندر سیاسی انتشار، خلفشار اور عدم برداشت انتہاؤں کو چھو رہا ہے۔ گورننس کا بھرم کب کا ٹوٹ چکا، ادارے کمزور اور مجموعی انتظامی ڈھانچہ خستہ حال۔سعودی عرب، چین اور یو اے ای سے سفارتی دوستی اب سفارتی مفادات سے بڑھ کر معاشی لائف لائن کی مجبوری بن گئی ہے۔ کہاں کی خود مختاری، کہاں کی خودداری!

 ملک کے اندر سیاسی  بحران اس قدر شدید اور اس پر اٹھنے والا شور اس قدر کان پھاڑ ہے کہ دنیا کے بدلتے مناظر کی چاپ ہمیں سنائی ہی نہیں دے  رہی۔ سری لنکا کے معاشی دیوالئے نے اس ملک کا کیا حال کیا ہے، ہمیں اس کا اندازہ ہی نہیں۔  حالانکہ ہم بھی ٹیکنیکلی دیوالئے کے بہت قریب بسیرا رکھتے ہیں۔  سیاسی تعصب اور مخاصمت کا جادو مسجد نبوی کے تقدس کو بھی خاطر میں لانے کو تیار نہیں۔ ایسے میں مستقبل کی چاپ کون سنے؟ کیسے سنے؟