مسجد نبوی ﷺ کا واقع اور پاکستانی سیاست و معاشرت

مسجد نبوی صلی اللہ علیہ وسلم میں پیش آنے والا واقع ایک ناقابلِ فہم واقع ہے اور اس واقعے کی جتنی مذمت کی جائے وہ کم ہے۔

یہ واقع اس لیے بھی افسوس ناک ہے کہ رب ذوالجلال نے قرآن حکیم کی سورۃ الحجرات میں ایمان والوں کو واضح حکم دیا ہے کہ وہ اپنی آواز کو نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے پست رکھیں، کہیں ایسا نہ ہو کہ ان کے اعمال ضائع ہوجائیں اور انہیں پتا بھی نہ چلے۔ یہ آیت روضہ رسول صلی اللہ علیہ وسلم پر نصب سنہری جالیوں پر بھی واضح طور پر لکھی گئی ہے۔ ان آیات مبارکہ کی شان نزول کے بارے میں احادیث کی کتب سے معلوم ہوتا ہے کہ کسی معاملے میں شیخین یعنی خلیفہ اول حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ تعالیٰ عنہ اور خلیفہ ثانی حضرت عمر فاروق رضی اللہ تعالیٰ عنہ مختلف آراء کے قائل تھے اور دونوں آپس میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی موجودگی میں اس معاملے پر مباحثہ کر رہے تھے کہ آپ حضرات کی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی موجودگی میں آوازیں کچھ بلند ہوئیں اور یہ آیات مبارکہ نازل ہوئیں۔ ان آیات مبارکہ پر تبصرہ کرتے ہوئے حضرت ابوبکر کے پوتے حضرت عبداللہ بن زبیر بن العوام رضی اللہ تعالیٰ عنہ کا یہ قول منقول ہے کہ قریب تھا کہ کائنات کی دو عظیم ترین ہستیوں کے اعمال ضائع کردیے جاتے ۔
مسجد نبوی صلی اللہ علیہ وسلم میں لوگوں کا وزیر اعظم کے وفد کو چور چور کے ساتھ استقبال کیا۔ یہ ایک غیر معمولی اور سر شرم سے جھکا دینے والا عمل افسوسناک ہے۔ اس معاملے کو دیکھنے کا ایک طریقہ تو یہ ہے کہ اسے عین سورۃ الحجرات کی روح سے دیکھا جائے اور مان لیا جائے کہ نعرہ بازی کرنے والوں نے غلطی کی ہے اور ان کی بھرپور مزمت کی جائے۔ اگرچہ اس میں ایک معاملہ یہ بھی ہے کہ آیا کہ نعرہ بازی مسجد کے اندر ہوئی یا مسجد کے باہر۔ بہر حال نعرہ بازی چاہے مسجد کے اندر ہوئی ہو یا باہر، اس سے اتنا زیادہ فرق اس لیے نہیں پڑھتا کہ شہر تو پھر بھی وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا ہے اور پورا کا پورا مدینہ ہی حرم کی حیثیت رکھتا ہے۔
بہرحال اس کا ایک پہلو اور بھی ہے اور وہ یہ ہے کہ اسلامی تاریخ کا ایک عظیم واقعہ یہ بھی ہے کہ جب مسجد نبوی صلی اللہ علیہ وسلم میں خلیفہ ثانی حضرت عمر بن الخطاب رضی اللہ تعالیٰ عنہ منبر رسول صلی اللہ علیہ وسلم پر مسلمانوں کو خطبہ دینے کیلئے موجود تھے کہ اچانک ایک عام مسلمان نے امیر المومنین کو خطبہ دینے سے روکتے ہوئے یہ مطالبہ کیا کہ امیر المومنین ذرا اس بات کا جواب دیں کہ  بیت المال سے جو کپڑا ہر مسلمان کو فراہم کیا گیا ہے اس کی پیمائش اتنی نہیں کہ امیر المومنین جیسے لمبے چوڑے انسان کے کپڑے بن سکیں۔ لہذا امیر المومنین کو اس بات کی وضاحت کرنی چاہیے کہ وہ اس کپڑے کا لباس کیسے زیب تن کیے ہوئے ہیں؟ اس شخص کی یہ بات سن کر یقینی طور پر حاضرین پر کچھ سناٹا چھا گیا ہوگا کیونکہ اس شخص نے بھرے مجمعے میں خلیفہ ثانی امیر المومنین عمر بن خطاب رضی اللہ تعالیٰ عنہ پر ایک طرح سے بیت المال میں خردبرد اور چوری کا شک ظاہر کیا جبکہ خلیفہ ثانی کے بارے میں پہلے ہی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جنت کی بشارت دے چکے تھے۔

بہرحال وہ عمر بن الخطاب تھے اور انہوں نے وہی جواب دیا کہ جو انہیں دینا چاہیے تھا۔ نہ تو انہوں نے کہا کہ وہ پہلے ایمان لانے والوں میں سے ہیں، نہ انہوں نے کہا کہ جب تک وہ ایمان نہیں لائے تھے مسلمان کعبتہ اللہ میں نماز ادا نہیں کر سکتے تھے، نہ ہی انہوں نے کہا کہ وہ بدر و احد و خندق و حنین کی جنگوں میں شامل تھے۔نہ ہی انہوں نے کہا کہ وہ فاتح ایران و عراق و شام و بیت المقدس ہیں، نہ ہی انہوں نے کہا کہ وہ ام المومنین حضرت حفصہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے والد ہیں، نہ ہی انہوں نے کہا کہ جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں جنت کی بشارت دے دی ہے تو کوئی اور کون ہوتا ہے جو ان سے حساب مانگے، نہ ہی انہوں نے خلیفتہ المسلمین ہونے کی حیثیت سے کوئی استثناء مانگا اور نہ ہی انہوں نے کسی پر منبر رسول صلی اللہ علیہ وسلم اور مسجد نبوی صلی اللہ علیہ وسلم کی توہین کا الزام لگایا۔ انہوں نے وہی کیا جو مناسب تھا، انہوں نے اختیارات کے ناجائز استعمال اور چوری کے الزام کا جواب ذرائع آمدن بتا کر دینا مناسب سمجھا۔ لہذا انہوں نے اپنے بیٹے کو حکم دیا کہ وہ اٹھے اور ذرائع آمدن بتائے، جس پر ان کے بیٹے نے واضح کیا کہ بیت المال سے ہر عام مسلمان کی طرح ایک کپڑا عمر بن الخطاب کو ملا اور ایک ان کے بیٹے کو ملا اور جب ان کے بیٹے نے دیکھا کہ عمر بن الخطاب کو ملنے والا کپڑا ان کی جسامت کے حساب سے ناکافی ہے تو انہوں نے اپنا کپڑا عمر بن الخطاب کو دیا جس سے انہوں نے لباس بنوایا۔ یوں جناب فاروق اعظم رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے ذرائع آمدن بتا کر معاملے کو ہمیشہ ہمیشہ کے لیے ختم کردیا۔
واضح رہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی حیات طیبہ میں فرمایا تھا کہ تم میرے بعد بہت اختلافات دیکھو گے اور تم پر لازم ہے کہ میری اور میرے خلفاء راشدین کی سنت پر عمل کرو۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ حکم شاید اس لیے دیا کہ شاید آپ صلی اللہ علیہ وسلم جانتے تھے کہ تیس سال کی خلافتِ راشدہ میں ایسے واقعات رونما ہو جائیں گے کہ رہتی دنیا کہ لیے واضح دلیل بن جائیں گے۔  لہذا آج جو کچھ مسجد نبوی صلی اللہ علیہ وسلم میں ہوا وہ کوئی نئی بات نہیں، یہی سب کچھ خلیفہ ثانی امیر المومنین عمر بن الخطاب رضی اللہ تعالیٰ عنہ کہ زمانے میں بھی ہوا تھا لیکن افسوس کہ آج ہم خلیفہ ثانی کے طرز عمل اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی واضح ہدایت کہ تم پر لازم ہے کہ میری اور میرے خلفاء راشدین کی سنت پر عمل کرو کو بھلا بیٹھے ہیں۔

اس ضمن میں یہ بات واضح رہے کہ خلیفہ ثانی کا اس بات کو برداشت کرنا اور اس سوال کا جواب دینا ہی اس بات کی دلیل ہے کہ مسجد نبوی صلی اللہ علیہ وسلم میں حکومتی مال میں خرد برد اور چوری کے بارے میں پوچھنا جائز ہے اور حدیث نبوی صلی اللہ علیہ وسلم کی روح سے حکمران پر لازم ہے کہ وہ رسول اللہ صلی اللہ کا حکم مانتے ہوئے خلیفہ ثانی کی سنت پر عمل کرے اور ذرائع آمدن بتائے۔ مزید یہ کہ یہ حدیث ہے بھی امت کے آپس کے اختلافات اور انہیں دور کرنے کہ طریقہ سے متعلق ہے اور حدیث کے الفاظ  "تم پر لازم ہے" بھی یہی بتاتے ہیں کہ اس پر عمل کرنا انتہائی ضروری ہے۔  میری نظر میں ایسی صورتحال میں اس حدیث پر عمل کیے بنا امت کے آ پس کے اختلافات ختم کرنا ناممکن ہوگا۔
آپ اس کے علاوہ کچھ بھی لائحہ عمل اپنا سکتے ہیں لیکن وہ جو بھی ہوگا صرف اور صرف آپ کے دل کی آواز اور اس حدیث کو ترک کرنے کے برابر ہوگا اور اس سے کچھ بھی ہوجائے امت کے آ پس کے اختلافات ختم کرنا ناممکن ہوگا۔ مزید یہ کہ اگر مسجد نبوی صلی اللہ علیہ وسلم میں حکمرانوں سے ناجائز ذرائع آمدن پر سوال کرنا توہین مسجد نبوی صلی اللہ علیہ وسلم ہوتا تو کیونکہ خلیفہ ثانی ویسے بھی دین کے معاملے میں نرمی کے قائل نہیں تھے تو سب سے پہلے خلیفہ ثانی عمر بن الخطاب رضی اللہ عنہ ان سوال کرنے والے کی گردن اڑا دیتے یا کوئی اور سزا تجویز کرتے۔ پھر ایسی صورت حال میں ہم سب پر بھی یہ لازم ہوجاتا کہ ہم بھی اسی سزا پر آج کے دور میں عمل کرواتے۔
اس سلسلے میں آج کل کی سیاست کا المیہ یہ ہے کہ ایک تو اب وہ دور نہیں کہ جہاں پہلے کی طرح شہری ریاستیں ہوں اور لوگ مساجد میں جاکر حکومتی اراکین سے جواب طلب کرسکیں۔ موجودہ نظام کے تحت پارلیمان وہ جگہ ہے کہ جہاں لوگوں کو اپنے سوالات کا جواب مل سکتا ہے، تاہم پارلیمان کو ہمارے سیاستدانوں نے خود بے توقیر کردیا ہے اور کبھی ان سے پارلیمان میں اثاثوں کی تفصیلات طلب کرلی جائیں تو یا تو وہ بتانا پسند نہیں کرتے یا پھر اگر بتا دیں تو عدالتوں میں جاکر اسے سیاسی بیان قرار دے دیتے ہیں۔ اس پر مزید یہ کہ جو اس سب کہ خلاف آواز بلند کرتے ہیں آگے جاکر وہ بھی توشہ خانہ کی تفصیلات فراہم کرنے سے کتراتے ہیں۔

یہ وہ المناک معاملات ہیں کہ جو مسجد نبوی صلی اللہ علیہ وسلم جیسے سانحات کو جنم دیتے ہیں۔ اگرچہ مسجد نبوی صلی اللہ علیہ وسلم میں ہر طرح کی بلند ہوتی آواز قابل مزمت ہے لیکن انہی آوازوں میں سے ایک آواز یہ بھی تھی کہ دیکھ کیا رہا ہے میں اپنے پیسوں سے آیا ہوں۔ گویا وہ شخص یاد دلا رہا تھا کہ سرکاری پیسوں سے مقامات مقدسہ کی زیارت جائز نہیں۔ یہ وہ المیہ ہے جو اس ملک میں جنم لے رہا ہے کہ جہاں پارلیمان کو لوگ احترام کی نگاہ سے نہیں دیکھتے اور وجہ اس جملے سے واضح ہے کہ عوام پارلیمان میں موجود نمائندوں کو امین نہیں سمجھتے۔ افسوس کہ ہمارے حکمران اور عوام دونوں ہی کس مقام پر پہنچ گئے ہیں۔
اگرچہ  لوگ اس بات میں آزاد ہیں کہ آیا وہ اس معاملے میں سورۃ الحجرات کی آیات کو مدنظر رکھیں یا پھر اسے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی حدیث کے مطابق خلیفہ ثانی حضرت عمر فاروق رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی سنت کے مطابق فیصلہ چاہیں۔ لیکن اس میں بھی ایک مسئلہ یہ ہے کے ہمارے ہاں اکثر لوگ ایسے ہیں کہ جو اپنا یہ اصول بھی محض اس لیے بدل لیتے ہیں کہ وہ کس پارٹی کے حامی ہیں اور وقت ضرورت پھر اپنے سیاسی مقاصد کے لیے دوسری طرف کا اصول اپنا لیتے ہیں۔ دراصل یہ وہ معاملہ ہے کہ جو اس ملک کی بدقسمتی ہے اور درحقیقت یہی ہماری اس اخلاقی پستی کا شاخسانہ ہے جو ہمیں من حیث القوم برباد کر رہا ہے ۔