فرح خان کے خلاف انتقامی کارروائی ہورہی ہے، وہ بے قصور ہیں: عمران خان

  • اتوار 01 / مئ / 2022

سابق وزیر اعظم اور پی ٹی آئی کے چیئرمین عمران خان نے مسجدِ نبوی ﷺ واقعے کا الزام مسترد کرتے ہوئے ہوئے کہا ہے کہ موجودہ حکومت کہیں بھی جائے ان کے ساتھ ایسا ہی ہوگا۔

 روضہ رسول ﷺ پر ہونے والے واقعے کا الزام ہم پر لگانے والوں کو شرم آنی چاہیے۔ اسلام آباد میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ ہمیں شب دعا کے بعد مدینہ میں جب واقع کا پتہ چلا۔ اب جھوٹی الزام تراشی کی جارہی ہے۔ میں ان کو چیلنج کرتا ہوں یہ کہیں بھی عوام میں جائیں گے تو ان کے ساتھ یہ ہی ہوگا۔ ان کے خلاف جو لندن اور امریکا میں ہورہا ہے یہ ہی ہوگا، انہیں اندازہ نہیں ہے کہ پاکستانیوں کو ان پر کتنا غصہ ہے۔ پاکستانی اسے ذلت سمجھتے ہیں کہ چوروں کو ہم پر بیٹھا دیا ہے۔ بیرونِ ملک پاکستانی سمجھتے ہیں کہ کتنی بڑی سازش ہوئی ہے۔

ان کا کہنا تھا ہمارے اوپر ڈالنا کہ ہم نے مدینہ ان کے خلاف نعرےبازی کروائی ہے ان کو اس بات کر شرم آنی چاہیے۔ جس کے دل میں نبیﷺ بستے ہیں وہ ایسا کرنے کا سوچ بھی نہیں سکتا۔ ان کی چوری کے خلاف عوام ہمارے ساتھ ہیں

عمران خان نے بشریٰ بی بی کی سہیلی فرح خان کو بے قصور قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ ان پر انتقامی کارروائی پرمبنی مقدمہ بنایا گیا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ میں نیب سے یہ پوچھنا چاہتا ہوں کہ فرح خان پر کیسے کیس بنا سکتے ہیں۔ اس کیس کا ذریعہ آمدن سے زائد اثاثے بتائے گئے ہیں یہ کیس سرکاری عہدیدار پر کیا جاسکتا ہے۔ فرح خان ریئل اسٹیٹ کا کام کام کرتی ہے۔ یہ سیدھی سیدھی انتقامی کارروائی ہے

ان کا کہنا تھا کہ فرح کا قصور یہ ہے کہ بشریٰ بیگم بہت کم لوگوں سے ملتی ہیں، ان میں سے ایک فرح خان ہیں۔ یہ ایک کنیکشن ہے، یہ وہی کنکشن ہیں جس میں انہوں نے جمائمہ پر ٹائلوں کی اسملنگ کا کیس ڈالا تھا۔ اس کا قصور یہ ہی تھا کہ وہ میری بیوی تھی، شکست مجھے دینا چاہتے ہیں، مجھ پر کچھ ملتا ہی نہیں ہے۔

اب انہوں بشریٰ بیگم کو پکڑنے کی کوشش کی، وہ گھریلو عورت ہیں، ان سے کچھ نہیں ملا تو انہوں نے فرح کو پکڑ لیا۔ فرح خان بالکل بے قصور ہے، میں چاہتا ہوں کہ اس کو بولنے کا موقع دیا جائے۔ لوگ کہہ رہے ہیں اس کی دولت میں گزشتہ 3 سالوں میں اضافہ ہوا ہے، تو وہ ایک ریئل اسٹیٹ ایجنٹ ہے، دیکھ لیں کہ گزشتہ تین سالوں میں رئیل اسٹیٹ میں کتنا اضافہ ہوا ہے، یہ کوئی کرائم نہیں ہے۔

اسلام آباد کال کے بارے میں بات کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ یہ پاکستان کی تاریخ کی سب سے بڑی تحریک ہوگی۔ میں اس سے پہلے چاہتا ہوں کہ ساری قوم تیار ہوجائے، انتقامی کارروائی کا عمل لوگوں میں اور جوش پیدا کرے گا۔ انہوں نے 30 سالوں میں یہ ہی کیا ہے۔