پاکستان میں انسانی حقوق کی صورت حال
- تحریر سلیم ملک
- اتوار 01 / مئ / 2022
ہیومن رائیٹس کمیشن آف پاکستان (ایچ آر سی پی) نے پاکستان میں انسانی حقوق کی صورت حال رپورٹ سال 2021 جاری کر دی ہے۔ کل بروز جمعہ اسلام آباد میں اس رپورٹ کی لانچنگ کی گئی۔
ایچ آر سی پی پچھلے اکتیس سال سے یہ رپورٹ جاری کر رہی ہے۔ اس سال کی رپورٹ کے مطابق بھی پچھلے برسوں کی طرح پاکستان میں انسانی حقوق کی صورت حال امید افزا نہیں ہے۔سال 2021 کے دوران میں بھی ہمارے سکول جانے کی عمر کے بیس فیصد بچے سکولوں سے باہر تھے۔ ان بچوں کی تعداد 2 کروڑ سے بھی زیادہ بتائی جاتی ہے اور ہم دنیا میں سکولوں سے باہر بچوں کی تعداد کے حوالے سے دوسرے نمبر پر ہیں۔ ان دو کروڑ بچوں کا مستقبل اندھیروں کے سوا کیا ہو سکتا ہے۔ ہمارے حکمرانوں نے ہمارے لیے کیسا مستقبل چنا ہے اس کا اندازہ لگانا کچھ مشکل کام نہیں۔
سکول سے باہر بچوں کی تعداد کے ساتھ ساتھ اگر ہم اپنے سکولوں کے تعلیمی معیار کو دیکھیں تو کسی کھاتے میں نہیں آتے۔ اچھے سے اچھا سرکاری سکول بھی زیادہ سے زیادہ ہمارے بچوں کو لکھنے پڑھنے کا فن سکھا سکتا ہے لیکن انہیں پڑھا لکھا نہیں بنا سکتا۔ ہمارے سکول بچوں کو زندگی گزارنے کی مہارتیں بھی نہیں سکھاتے۔ اس کی بجائے ہمارا سلیبس بچوں کو جھوٹ سکھاتا اور پڑھاتا ہے۔ انہیں انسانوں کے درمیان برابری کی بجائے تفریق کرنا سکھاتا ہے۔ انتہائی متنازعہ یکساں تعلیمی نصاب نے تو رہی سہی کسر پوری کر دی۔ تعلیمی شعبے کے بجٹ کو کئی گنا بڑھانے کی ضرورت ہے تاکہ نئے تقاضوں کے مطابق بچوں کو تعلیم دی جا سکے۔
صحت کے شعبے کی حالت بھی دگرگوں ہے۔ سرکاری ہسپتالوں کی حالت پہلے ہی کچھ اچھی نہ تھی اور ہیلتھ کارڈ کے شور میں حکومت کی توجہ مزید کم ہو گئی ہے۔ صحت کے شعبے کا اہم ترین کام جنسی اور تولیدی صحت اور فیملی پلاننگ ہونا چاہیے تھا تاکہ آبادی کا طوفان روکا جا سکے۔ بدقسمتی سے اس سال بھی اس طرف کوئی توجہ نہیں دی گئی۔انسانی حقوق کے باقی شعبے بھی کچھ ایسی ہی تصویر پیش کرتے ہیں۔ شخصی آزادی ناپید ہے۔ غیرت کے نام پر عورتوں کا قتل جاری ہے۔ متعلقہ قانون کے نقائص دور کرنے کی جانب کوئی سنجیدہ کوشش نہیں کی گئی۔ عورتوں اور بچیوں کے حوالے سے قوانین کو انسانی حقوق کے مطابق کرنے کی ہر کوشش کو ناکام بنا دیا جاتا ہے۔ سول سوسائٹی کی سپیس مزید کم ہو رہی ہے۔ میڈیا، بشمول سوشل میڈیا کے، کو کنٹرول کرنے کی کوشش جاری رہتی ہے۔ دوسری جانب ریاست اور حکومت عوام کو گمراہ کرنے اور سازشی تھیوریز کو پھیلانے کے لیے ہر قسم کے میڈیا کا بھرپور استعمال کرتی ہے۔
جبری گمشدگیاں جاری ہیں۔ اس سلسلے میں قوانین کو بہتر کرنے کی کوئی سنجیدہ کوشش تو نہیں کی گئی لیکن ایسے قوانین بنانے کی کوشش کی گئی ہے جن سے جبری طور پر گمشدہ کیے جانے والے افراد کی فیملیز کو شکایات درج کروانے سے روکا جا سکے۔ غریب اور بے بس پاکستانی عوام کے خلاف ریاستی مظالم 2021 میں بھی جاری رہے۔ ایچ آر سی پی کی رپورٹ ایسے واقعات سے بھری پڑی ہے۔
بلاسفیمی کے الزام میں سری لنکن شہری کے ساتھ سیالکوٹ میں ہجوم نے جو کیا وہ ہم سب کے سامنے ہے۔ یہ نہ تو پہلا واقعہ تھا اور نہ آخری ہو گا کیونکہ مستقبل میں ایسے واقعات کو روکنے کے لیے ریاستی لیول پر کوئی اقدامات نہیں کیے گئے۔ سال 2021 میں 585 افراد کے خلاف توہین مذہب کے مقدمات درج کیے گئے۔ کسی بھی طرح سے اختلاف رائے رکھنے والے پاکستانیوں کو ہراساں کرنے اور انہیں جیلوں میں ڈالنے کا سلسلہ جاری رہا۔ پاکستانی شہریوں کی شخصی آزادیوں کو سلب کرنے کے لیے تو حکومت کے پاس بجٹ کی کمی نہیں ہے۔ ہاں البتہ تعلیم، صحت، پینے کا صاف پانی، سوشل سیکیورٹی اور انصاف کی فراہمی کے لیے بجٹ میسر نہیں ہے۔
(بشکریہ: ہم سب لاہور)