پاکستانی سیاست میں غداری اور توہین مذہب کے الزامات
- تحریر مزمل غیاث
- منگل 03 / مئ / 2022
پاکستانی سیاست کے بارے میں کچھ لوگوں کا خیال ہے کہ پاکستانی سیاست سے غداری کے سرٹیفکیٹ بانٹنے اور کفر کے فتوے لگانے کا سلسلہ اب بند ہو جانا چاہیے ۔
بہرحال اگر زاتی حیثیت میں بات کروں تو میں اس بات کا قائل نہیں کہ دنیا سے غداری اور توہین مذہب کا معاملہ ختم ہوگیا ہے اور اب رہتی دنیا تک نہ تو کوئی غداری کرے گا اور نہ ہی کوئی توہین مذہب کرے گا۔ لہذا میری نظر میں یہ بات بھی نامناسب ہے کہ غداری اور توہین مذہب کے معاملات کو مقدس گائے بنا دیا جائے کہ کبھی کوئی ان پر بات ہی نہ کر سکے۔ کیونکہ بہرحال دنیا سے نہ تو غداری ختم ہوئی اور نہ ہی توہین مذہب اور نہ ہی کبھی آئندہ ایسا ہو۔ لہذا ان دونوں موضوعات پر بات ہو بھی سکتی ہے اور ہونی بھی چاہیے کیونکہ دونوں ہی معاملات اور اس قسم کے الزامات انتہائی سنگین ہیں اور اگر سچ ہوں اور ان کا تدارک نہ ہو تو ملک و ملت کے لیے اس کے سنگین نتائج ہو سکتے ہیں۔
البتہ اس تمام معاملے میں ایک بات سمجھنے کی یہ بھی ہے کہ ان الزامات کا ہمارے معاشرے میں غلط استعمال بھی عام ہے اور اکثر لوگ یہ کام محض سیاسی فائدے اٹھانے کیلیے کرتے ہیں جو کہ ایک قابلِ مذمت عمل ہے۔ پاکستان کی سیاست میں ایک عجیب معاملہ یہ ہے کہ ہر کوئی دوسرے پر غداری یا کفر کہ الزامات تو بہت آسانی سے عائد کر دیتا ہے اور پھر بہت آسانی سے بوقت ضرورت انہی لوگوں کے ساتھ اقتدار میں بیٹھ جاتا ہے۔ آج کل کے حالات کا اگر جائزہ لیا جائے تو اس وقت حکومتی ایما پر حزب اختلاف کے لوگوں پر شعائر اسلام کا مذاق بنانے پر توہین مذہب کے مقدمات درج کیے جارہے ہیں اور اس سلسلے میں کچھ گرفتاریاں بھی عمل میں لائی جاچکی ہیں۔ اس سب افسانے کے موجب وہی رانا ثنااللہ صاحب ہیں کہ جنہوں نے خود ارشاد فرمایا تھا کہ نواز شریف کا استقبال کرنا حج سے بڑا کام ہے۔ اور یہ سب انہی مریم نواز کی پارٹی کی حکومت میں ہورہا ہے کہ جس نے خود آج سے تین سال پہلے مسجد الحرام میں ایک شخص کی عمران خان کے خلاف نعرہ بازی کو حوصلہ افزا قرار دے کر ٹوئٹ کیا۔
ایسی صورت حال میں دو ہی باتیی ہو سکتی ہیں۔ پہلی یہ کہ یہ لوگ واقعی حرمت رسول صلی اللہ علیہ وسلم اور شعائر اسلام کے بارے میں انتہائی سنجیدہ لوگ ہیں۔ ایسی صورت حال میں انہیں اپنی سیاسی وابستگی سے بالا تر ہو کر اپنی پارٹی کہ افراد کے خلاف بھی مقدمات درج کرا دینے چاہئیں۔ اپنے اور حزب اختلاف کے تمام لوگوں کہ خلاف قائم ان مقدمات کو منطقی انجام تک پہنچانا چاہیے۔ ایسا کرنے کی صورت میں پاکستان کے عوام انہیں سر آنکھوں پر بٹھائیں گے اور اللہ کہ ہاں بھی ان کا اجر محفوظ رہے گا۔ اگر یہ ایسا نہیں کرتے تو یہ کائنات کے وہ بدترین لوگ ہیں کہ جو جانتے بوجھتے ہوئے بھی صرف اپنی سیاسی دکان چمکانے کے لیے سرور کونین حضرت محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم کا نام اقدس استعمال کرتے ہیں۔ وقت پڑنے پر منافقین کی طرح انہی لوگوں کے ساتھ شیر و شکر ہو جائیں گے کہ جن پر آج کفر کے فتوے لگا رہے ہیں۔ درحقیقت ہمارے سیاستدانوں کا یہ وہ رویہ ہے کہ جو حقیقی معنوں میں شعائر اسلام کا مذاق اڑانا ہے اور اس ملک سے غداری ہے کیونکہ اس سے بڑھ کر شعائر اسلام کا مذاق اڑانا اور غداری کیا ہو سکتی ہے کہ اتنے سنجیدہ اور سنگین معاملات کا اس طرح سے مذاق بنادیا جائے کہ اگر آج کوئی حقیقت میں بھی شعائر اسلام کا مذاق اڑائے اور غداری کا مرتکب ہو تو کوئی اس پر لگنے والے الزامات کو سنجیدہ ہی نہ لے۔
اب وقت آگیا ہے کہ اس بارے میں سنجیدگی سے غور کیا جائے اور ایسی قانون سازی کی جائے کہ جس میں الزامات لگائے والے اور الزامات لگنے والے یعنی دونوں فریقین کو عدالتوں سے راہ فرار نہ مل سکے۔ میری نظر میں یہ اتنے سنگین الزامات ہیں کہ ان معاملات پر اگر فریقین عدالت نہ بھی جائیں تو ان پر عدالتوں کو از نوٹس لینا چاہئے۔ ان معاملات کے لیے ایسی قانون سازی ہونی چاہیے کہ لازم ہو جائے کہ اس قسم کہ معاملات کو روزانہ کی بنیاد پر سنا جائے اور ایسے مقدمات کا فیصلہ ایک ماہ میں سنایا جائے۔ ایسے مقدمات کی سماعت میں الزام عائد کرنے والوں کو ثبوت کی فراہمی کا پابند بنایا جائے اور ثبوت کی عدم فراہمی کی صورت میں الزام عائد کرنے والوں کے لیے سخت سزا تجویز کرنے کے لیے بھی قانون سازی ہونی چاہیے۔ ایسے مقدمات میں کسی بھی صورت فریقین کو باہمی رضامندی سے حل کرنے کی اجازت نہیں ہونی چاہیے۔ یہی وہ طریقہ کار ہے کہ جس سے ہم غداری اور شعائر اسلام کی توہی کا تدارک کرسکتے ہیں اور ساتھ ساتھ ان قوانین کا غلط استعمال بھی روکا جاسکتا ہے۔