ہماری کوشش ہوگی پیٹرول کی قیمت نہ بڑھائیں: مفتاح اسمٰعیل

  • جمعرات 05 / مئ / 2022

وزیر خزانہ مفتاح اسمٰعیل نے کہا ہے کہ ہم پیٹرول 145 روپے کا دے رہے ہیں اور ہماری کوشش ہوگی کہ پیٹرول کی قیمت کو نہ بڑھائیں۔ اگر پیٹرول کی قیمت میں رودبدل کیا بھی تو پیٹرولیم لیوی اور سیلز ٹیکس عائد نہیں کریں گے۔

کراچی میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے وفاقی وزیر مفتاح اسمٰعیل نےکہا کہ عمران خان کے آئی ایم ایف سے معاہدے کے مطابق پاکستان میں پیٹرول کی قیمت 245 روپے ہونی چاہیے تھی لیکن ہم پیٹرول 145 روپے کا دے رہے ہیں اور ہماری کوشش ہوگی کہ پیٹرول کی قیمت نہ بڑھائیں۔

وزیر خزانہ کا کہنا تھا کہ پاکستان کی تاریخ میں حکومت نے کبھی بھی نقصان میں پیٹرول نہیں فروخت کیا، لیکن اب فی لیٹر پیٹرول پر 30 روپے نقصان اٹھا رہے ہیں۔ ایک تخمینے کے مطابق 70 فیصد پیٹرول گاڑی والے اور 30 فیصد موٹر سائیکل والے استعمال کرتے ہیں۔ اسی طرح ڈیزل پر بھی عمران حکومت نے 30 فیصد لیوی اور 17 فیصد سیلز ٹیکس لگانے کا وعدہ کر رکھا ہے لیکن پاکستان میں قیمت 144 روپے پر فکسڈ کردی۔

مفتاح اسمٰعیل نے بتایا کہ اس وقت عالمی مارکیٹ میں تیل کی قیمت 90 ڈالر تھی جبکہ آج 110 ڈالر ہے۔ اس طرح ڈیزل پر حکومت کو 70 روپے فی لیٹر نقصان ہو رہا ہے۔  ڈیزل پر بھی پاکستان کی تاریخ میں کبھی نقصان نہیں اٹھایا گیا۔ عمران خان کے آئی ایم ایف سے وعدے کے مطابق ڈیزل کی قیمت 295 روپے ہونی چاہیے۔

انہوں نے کہا کہ پیٹرول و ڈیزل کے پیسے ہماری جیب میں نہیں جاتے ہیں، حکومت کے پاس پیسے نہ ہونے کے باعث مارکیٹ سے قرض لینا پڑتا ہے۔ اس مہینے حکومت کو فیول کی مد میں اپنے پاس سے 102 ارب روپے ادا کرنا پڑیں گے جبکہ ایک مہینے کا پوری سویلین حکومت چلانے کا خرچہ 45 ارب روپے ہے۔ اس میں کورٹس، پولیس، عدالت، ہسپتال، وزارتوں اور تمام محکمے شامل ہیں۔

وفاقی وزیر کا کہنا تھا کہ اسٹیٹ بینک کی خودمختاری کے باعث ہم اسٹیٹ بینک سے قرضہ نہیں لے سکتے۔ مارکیٹ سے قرض لینے میں مشکلات درپیش ہیں۔ اس سے شرح سود میں بھی اضافہ ہوتا ہے۔ اسی طرح حکومت مارکیٹ سے قرض لے تو انڈسٹری کو قرض نہیں مل پاتا۔ تیسرا ایل سی کھولنے کے لیے بھی بینکوں کے پاس پیسے نہیں ہوتے۔

ان کا کہنا تھا کہ عمران خان واشنگٹن ڈی سی میں کچھ بولتے ہیں، اسلام آباد میں کچھ اور بولتے ہیں۔ ان کے قول و فعل میں 100 روپے فی لیٹر کا تضاد ہے۔ وزیر خزانہ نے کہا کہ پی ایس او کو 500 ارب روپے سے زائد وصول کرنے ہیں۔ اگر وہ پیسے انہیں نہیں ملتے تو وہ کام نہیں کرسکیں گے۔ سوئی ناردن گیس پائپ لائن میں پچھلے تین سالوں میں 200 ارب روپے سے زیادہ کا نقصان ہوچکا ہے۔

 ایل این جی سستے داموں میں بیچ دی گئی، 3 ہزار روپے کی گیس کو 200 روپے میں نہیں بیچتے۔ اس نقصان کا بھی ازالہ کرنا ہے ورنہ گیس سپلائی کے مسائل بھی سامنے آجائیں گے۔ ان کا کہنا تھا کہ عمران خان کی حکومت ہر جگہ اپنی نااہلی اور کرپشن کی وجہ سے مسائل چھوڑ کر گئی ہے۔ سوئی سدرن گیس کی 20 فیصد گیس ہوا میں اڑ گئی ہے یا چوری ہو گئی، انہیں پتا ہی نہیں ہے۔

مفتاح اسمٰعیل کا کہنا تھا کہ 2018 میں گیس سیکٹر میں سرکلر ڈیٹ کا آپ نے سنا بھی نہیں ہوگا، آج گیس سیکٹر میں 1500 ارب روپے کا سرکلر ڈیٹ ہے۔ ایک ہزار 500 ارب روپے کہاں سے لائیں؟ بجلی سیکٹر میں نواز شریف دور میں 12 ہزار میگاواٹ کا اضافہ ہوا۔ ان کے دور میں ایک میگاواٹ کا بھی اضافہ نہیں ہوا اور سرکلر ڈیٹ 2 ہزار 600 ارب روپے سے تجاوز کرچکا ہے، وہ 2 ہزار 600 ارب روپے کون دے گا؟

انہوں نے مزید کہا کہ شہباز شریف نے ایسا کیا کر دیا کہ چند دن میں چینی 2019 کے بعد 70 سے 75 روپے کلو میں فروخت ہورہی ہے۔ عمران خان نے آئی ایم ایف کی ایم ڈی کو خود فون کیا اور ریئل اسٹیٹ کے لیے ایمنسٹی مانگی۔ گزشتہ ڈھائی سال سے ریئل اسٹیٹ کے بڑے بڑے سیٹھ اور ملک صاحبان کو ایمنسٹی ملی ہوئی ہے، ان سے کوئی پوچھ گچھ نہیں ہوگی۔

عمران خان نے جاتے جاتے صنعت پر بھی ایمنسٹی دے دی کہ دسمبر تک جو بھی فیکٹری لگائے گا اس سے کوئی پوچھ گچھ نہیں ہوگی۔ کیا یہ بارودی سرنگ نہیں ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ عمران خان 60 لاکھ لوگوں کو بیروزگار اور 2 کروڑ لوگوں کو خط غربت سے نیچے لے کر گئے ہیں۔

مفتاح اسمٰعیل نے کہا کہ چین نے صحیح معنوں میں ہم پر احسان کیا ہے۔ ہم چین کو صحیح سیکیورٹی بھی فراہم نہیں کرسکے، امریکا اور یورپ کی سرمایہ کاری سے ہم ایک پلانٹ بھی نہیں لگا سکتے تھے لیکن ہم نے چین کےساتھ مل کر اربوں ڈالر کے منصوبوں پر کام کیا۔

انہوں نے کہا کہ ہماری بقا چین کے ساتھ ہے اور ہم سی پیک کو آگے بڑھائیں گے۔ سی پیک کے دوسرے مرحلے میں 9 انڈسٹریل زونز بنائے جائیں گے۔