سیاست میں مذہب کااستعمال

پاکستان کے سیاسی وانتخابی نظام میں مذہب کا استعمال کوئی نئی چیز نہیں لیکن گزشتہ ایک دو ماہ سے یہ فیکٹربتدریج تشویش ناک حد تک بڑھتا جا رہا ہے۔حالیہ عرصہ میں سیاست میں مذہب کا استعمال سابق وزیراعظم عمران خان کے خلاف عدم اعتماد کی تحریک پیش ہونے کے بعد دیکھنے میں آیا۔

عدم اعتماد کی تحریک پیش ہونے کے بعد سابق وزیراعظم کی جانب سے شروع ہونے والی مہم میں مذہب کا استعمال کیا گیا جو  چند ہفتوں بعدتشویش ناک شکل میں اب عمران خان اور ان کی جماعت کے خلاف استعمال ہو رہا ہے۔عدم اعتماد کے ماحول میں سابق وزیراعظم عمران خان اور ان کی جماعت نے مذہبی حوالے اور اصطلاحات کا استعمال کرتے ہوئے عوام کو یہ تاثر دینے کی کوشش کی کہ جیسے صرف ان کی جماعت حق پر ہے اور حق پر ہونے کی وجہ سے انہیں نیکی کی تبلیغ اور برائی سے روکنے کی کوشش کرنی چاہیے۔پی ٹی آئی کی جانب سے سیاست میں مذہب کا استعمال اس حد تک بڑھ گیا کہ انہوں نے اسلام آباد جلسے کا تھیم ہی امر بلمعروف رکھنے کا اعلان کیا جس کے بعد سوشل میڈیا پر پی ٹی آئی کے سرگرم کارکنوں اور سپورٹرز نے اپنی ڈی پیز بھی اسی تھیم سے تبدیل کر لیں۔عدم اعتماد کی تحریک کامیاب ہونے کے بعد عمران خان اور ان کی جماعت کا رویہ نہایت ہی جارحانہ ہوتا گیا۔

اسلام آباد سے لے کر لاہور جلسے تک عمران خان نے اپنے ووٹرز کو اس حد تک جذباتی کر دیا کہ انہوں نے گلی محلے کی سیاست سے لے کر سوشل میڈیا پر ہونے والی بحثوں میں کسی قانونی و عقلی دلیل کو بھی خاطر میں لانا چھوڑ دیا۔تعصب ونفرت اور عدم برداشت و گالم گلوچ کی سیاست میں اس حد تک اضافہ ہو گیاکہ سیاسی مخالفت میں پی ٹی آئی کے سپورٹرز نے مسجد نبویﷺکے تقدس کو بھی ملحوظ خاطر نہ رکھا۔اس معاملے نے اس وقت گھمبیر رخ اختیار کیا جب سابق وزیراعظم عمران خان، فواد چودھری، شہباز گل اور شیخ رشید سمیت 150افراد کے خلاف توہین مذہب کا مقدمہ درج کر ا دیاگیا۔اس حوالے سے تازہ ترین پیش رفت یہ ہوئی ہے کہ سابق وفاقی وزیر انسانی حقوق شیریں مزاری نے اقوام متحدہ کے خصوصی مندوبین کو خط لکھ کر درخواست کی ہے کہ وہ حکومت کو عمران خان اور پارٹی کے دیگر رہنماؤں کے خلاف توہین مذہب قانون کے غلط استعمال سے روکنے کے لیے اپنا کردار ادا کریں۔شیریں مزاری کے مطابق مسجد نبویﷺ میں پیش آنے والا واقعہ کسی طور بھی منظم واقعہ نہیں تھا لیکن مدینے میں پیش آنے والے واقعے کو توہین مذہب کے تحت مقدمات درج کرنے کے لیے بہانے کے طور پر استعمال کرنے سے عمران خان اور پارٹی کے دیگر رہنماؤں کی زندگیوں کو خطرات لاحق ہو سکتے ہیں۔

تلخ حقائق یہ ہیں کہ ہمارے ہاں سیاسی امور اور انتخابی مہمات میں سیاسی وفوجی حکمرانوں کی جانب سے اقتدار کے حصول، اقتدار کو بچانے اور اقتدار کو دوام بخشنے کے لیے مذہب کا استعمال ہوتا رہا ہے۔اگرچہ قائد اعظم کی11اگست کی تقریر کے مطابق مذہب کسی بھی فرد کا ذاتی معاملہ قرار پایا تاہم قائد کی جلد رحلت کے بعد منظور ہونے والی قرارداد مقاصد، احمدیہ مخالف فسادات، بنیادی اصول کمیٹی کی رپورٹ اور 1962 کے آئین نے پاکستان کے سیاسی ارتقاء میں مذہب کے کردار کو غیر معمولی اہمیت دلا دی۔اگرچہ ایوب خان نے خود کو کافی حد تک کمال اتاتر ک کے روپ میں پیش کرکے ظاہری طور پر علماء کی مخالفت مول لی تاہم حقیقی طور پر انہوں نے مذہب کوماڈرن اسلام اور ملا کے اسلام کی جنگ بنا کر اپنے اقتدار کو مستحکم کرنے کے لیے استعمال کیا۔

یحییٰ خان کے دور میں نافذکیے جانے والے لیگل فریم ورک آرڈرمیں کہا گیا کہ اسلامک آئیڈیالوجی کے خلاف کوئی کام کرنے والی کوئی بھی سیاسی جماعت الیکشن میں حصہ نہیں لے سکے گی۔بھٹو صاحب نے ایک طرف اسلام، سوشلزم اور ڈیموکریسی کا نعرہ لگایاتو دوسری طرف ان کے دور میں احمدیوں کو غیر مسلم قرار دیا گیا۔سیاست کے تضادات ملاحظہ فرمائیں کہ 73کے متفقہ اسلامی آئین دینے اور احمدیوں کو کافر قرار دلوانے والے بھٹو کے خلاف 1977میں سیاسی اختلافات کی بنیاد پر چلنے والی تحریک بہت جلد مذہبی رنگ اختیار کرکے"تحریک نظام مصطفی"میں تبدیل ہو گئی۔ اس تحریک کے اثرات کم کرنے کے لیے بھٹو صاحب نے "اسلامائزیشن" کا پورا پیکج متعارف کروایاجس میں جمعہ کی چھٹی، ریس کورس اور نائٹ کلبوں کی بندش اور شراب کو حرام قرار دے دیا۔اس کے بعد جنرل ضیاء آئے جنہوں نے بھٹو صاحب کے اسلامائزیشن پیکج کو عملی طور پر نافذ کر نے کے علاوہ معاشرے کو مذہبی بنانے کے لیے دیگر بہت سے اقدامات کیے۔  تاہم ان کے جانے کے بعد ثابت ہوا کہ انہوں نے بھی مذہب کا بس نام ہی استعمال کیا تھا۔

نوے کی دہائی میں جہاں ایک طرف میاں نواز شریف نے امیر المومنین بننے کی کوششیں کیں تو وہیں دوسری طرف محترمہ بے نظیر بھٹو ہر وقت ہاتھ میں تسبیح پکڑ کر عام ووٹر کو اپنے مذہبی ہونے کا احساس دلاتی رہیں۔اگرچہ پرویز مشرف کے دور میں وقتی طور پر روشن خیالی کا پرچار ضرور ہوا اور ان کی رخصتی کے بعد 2008اور2013کی انتخابی مہمات اور حکومتوں میں مذہب کارڈ استعمال نہیں ہوا لیکن 2016میں ختم نبوت کے معاملے پر تحریک لبیک کے زور پکڑنے سے سیاست میں مذہب کا استعمال پھر سے شروع ہو گیا۔

2018کی انتخابی مہم میں مذہب کا تشویش ناک حد تک استعمال ہوا۔پی ٹی آئی نے قریبا ساری انتخابی مہم میں توہین کے معاملے پر سیاست کرتے ہوئے (ن) لیگ کا سخت نقصان پہنچایا۔شیخ رشیداور پی ٹی آئی کے دیگر رہنماؤں کے بیانات نے توہین کے معاملے پر حساسیت کو تشویش ناک حد تک بڑھاوا دیا۔اس دور کے وفاقی وزیر قانون زاہد حامدالیکشن تک نہ لڑ سکے، خواجہ آصف پر سیاسی پھینکی گئی، احسن اقبال گولی کا نشانہ بنے، بذات خود نواز شریف کو جوتا مارا گیا۔پی ٹی آئی نے نہ صرف 2018کے عام انتخابات میں اپنی سب سے بڑی حریف جماعت (ن) لیگ کے خلاف مذہب کا بے دریغ استعمال کیا بل کہ حکومت میں آ کر بھی مذہب کارڈ کا استعمال کیا۔کہنے والے تو یہاں تک کہتے ہیں کہ نوے کی دہائی کے بعد یہ عمران خان ہی ہیں جنہوں نے ایک نئے انداز میں مذہب کو سیاست میں کھڑا کر دیا ہے۔

آج عمران خان اور ان کی جماعت کے خلاف مذہبی بنیادوں پر قائم ہونے والے مقدمات کو بہت سے لوگ مکافات عمل کا نام دے کر جسٹیفائی کر رہے ہیں تو وہاں ایسے لوگوں کی بھی کمی نہیں جو موجودہ حکومت کو ماضی سے سیکھتے ہوئے مذہب کارڈ کے استعمال سے باز رہنے کا مشورہ دے رہے ہیں۔حقیقت یہ ہے کہ آج مسلم معاشروں کے علاوہ کہیں یہ سوال زیر بحث نہیں کہ سیاست میں مذہب کا کوئی کردار ہونا چاہیے یا نہیں۔صدیوں پہلے یورپی ممالک مذہب اور سیاست کو اکھٹارکھنے سے پیدا ہونے والی پیچدگیوں کے پیش نظر سیاست اور مذہب کو الگ الگ کر چکے لیکن ہمارے ہاں اس سوال کو اٹھانا بھی گناہ سمجھاجاتا ہے۔