فرد کو جمیعت بنائیے
- تحریر اختر چوہدری
- جمعرات 05 / مئ / 2022
میرے لیے مسجد جانا اپنی مسلم شناخت کی تصدیق کا وسیلہ ہے۔ ایک جماعت، ایک گروہ کا حصہ ہونا اور اس کی تصدیق تمام جانداروں کے لیے لازم ہے۔ میں بھی جمعہ کی نماز اور عیدین پر اپنی اسی احتیاج کو پورا کرنے کے لیے مسجد جاتا ہوں۔
عیدین اور جمعہ کی نماز کے موقع پر خطیب کا خطاب لازم ہے۔ یقین کیجیے میں یہ خطاب سننے ہرگز مسجد نہیں جاتا، بلکہ یہ کہنا غلط نہ ہوگا کہ میں اس خطاب کے باوجود مسجد جاتا ہوں۔ ایسا شاذ و نادر ہی ہوتا ہے کہ خطیب کوئی ایسی بات کرے جو نئی یا انوکھی ہو۔ وہی پرانی گھسی پٹی روایات، وہی سطحی گفتگو۔ لیکن سب سے تکلیف دہ بات یہ ہوتی ہے کہ خطیب کئی درجن، بعض اوقات کئی سو نمازیوں کے ساتھ خطاب کے بے نظیر موقع کو کسی مثبت اور اجتماعی معاملہ ہر گفتگو کرنے کی بجائے، منفی اور انفرادی معاملات پر ضائع کر دیتے ہیں۔
اس عید پر میرے خطیب نے تقویٰ کو موضوع بنایا اور نصف گھنٹہ یہ بتانے پر صرف کیا کہ موت کے بعد پہلی رات سے لے کر روزِ قیامت تک انسان دنیا میں کئے گئے اعمال کے نتیجہ میں اجر یا سزا پائے گا۔ اور تقویٰ اس وقت انسان کے کیاے کام آئے گا۔ دریں چہ شک؟ یہ صداقت ہم بچپن سے سن رہے ہیں۔ توجہ طلب نکتہ یہ ہے کہ جب ہزاروں، لاکھوں نمازی ایک جماعت، ایک گروہ بننے کے لیے نماز جمعہ یا نماز عیدین پر جمع ہوتے ہیں، خطیب ان کو فرد بنا دیتے ہیں۔ ’تمہاری قبر کی پہلی رات کیسے گزارے گی۔ یا تمہارے اعمال قبر میں تمہارے کام کیسے آئیں گے‘۔ تمہارا تقویٰ تمہیں کیسے جنت میں اعلیٰ مقام دلائے گا۔ تمہاری عبادت تمہیں کیونکر رضائے الٰہی تک پہنچائے گی‘۔
ان میں سے کسی حقیقت سے انکار مقصود نہیں ہے۔ لیکن جماعت کیسے استوار ہوگی؟ جماعت کا حال اور مستقبل کیسے سنورے گا؟ جماعت کے مسائل کیا ہیں؟ افراد کو جماعت کیسے بنانا ہے؟ جماعت کو کیونکر مقصد فراہم کرنا ہے؟ ہمارے معاشرے میں، بالخصوص خطیبوں کے ہاں، فرد کو جمیعت پر ترجیح دی جاتی ہے۔ فرد کو اپنی نجات، اپنے مفاد کی تلقین کی جاتی ہے۔ اس کا نتیجہ یہ ہے کہ ہم دنیاوی اور معاشرتی معاملات میں بھی فرد، فرد ہو گئے ہیں۔
ہر شخص اپنے گھر کی صفائی کرتا اور کوڑا کرکٹ گلی میں پھینک دیتا ہے۔ انفرادی صفائی، لیکن اجتماعی گندگی اور پراگندگی۔ ہر فرد سکول اور کالج میں داخلہ کے وقت اور اپنے امتحانی نتائج پر ساری توجہ مرکوز کرتا ہے۔ اس کے لیے ناجائز وسائل استعمال کیے جاتے ہیں۔ بس میں ڈاکٹر بن جاؤں گو کہ مجھ میں یہ قابلیت نہیں۔ میں وکیل اور جرنیل بن جاؤں، اس کا انصاف اور سرحدوں کو کیا نقصان پہنچے گا، یہ میرا مسئلہ نہیں۔ مقصود فقط انفرادی کامیابی ہوتی ہے۔ اس کا جماعت کو کیا نقصان پہنچے گا، اس پر کسی کی نظر نہیں ہوتی۔
ہر فرد اپنی بہن اور بیٹی کے احترام کا اہتمام کرتا ہے۔ جماعت اور معاشرہ کی خواتین کا کیا حال ہے، اس سے کسی کو کوئی لینا دینا نہیں - ہر فرد اپنے ذاتی امن اور سلامتی پر توجہ مرکوز کرتا ہے حالانکہ اس کا نتیجہ اجتماعی بد امنی اور عدم تحفظ ہوتا ہے۔ انفرادیت کو تقویت دینے اور اجتماعیت کو نظر انداز کرنے کا نتیجہ معاشرہ میں آپا دھاپی، خود فریبی اور انتشار پیدا ہوتا ہے۔
پاکستانی، اور مسلم، معاشروں میں ابھی بھی لوگ اجتماع کرتے ہیں۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ ان اجتماعات کو اجتماعیت کی ترغیب دینے اور اجتماعیت استوار کرنے کے لیے استعمال کیا جائے۔ مجھے دو رکعت نماز ادا کرنے اور یہ جاننے کے لیے مسجد جانے کی ضرورت نہیں کہ قبر میں حساب کیسے ہوگا۔ میں مسجد اپنی گروہی شناخت اور اجتماعی سوچ کو ابلاغ دینے جاتا ہوں۔ اسی لیے مجھے نہ صرف افسوس ہوتا ہے، بلکہ دکھ ہوتا ہے کہ خطیب مجمع کو انفرادی اکائیوں میں بانٹ کر منتشرکر دیتا ہے۔