اپوزیشن کی سرگرمیوں کی وجہ سے آئی ایس آئی چیف تبدیل کرنے کے خلاف تھا: عمران خان

  • جمعہ 06 / مئ / 2022

سابق وزیر اعظم نے ایک پوڈ کاسٹ میں اعتراف کیا ہے کہ وہ سیاسی صورت حال کی وجہ سے جنرل فیض حمید کو بدستور آئی ایس آئی کا سربراہ رکھنا چاہتے تھے۔ انہوں نے علیم خان اور جہانگیر پر کرپشن میں ملوث ہونے کا الزام بھی لگایا۔

پاکستان کے سابق وزیرِ اعظم عمران خان نے پوڈ کاسٹ میں مختلف موضوعات پر گفتگو کی جن میں آئی ایس آئی کے سابق سربراہ اور موجودہ کورکمانڈر پشاور جنرل فیض حمید کا ذکر بھی شامل تھا۔ ان کا کہنا تھا کہ ملک مضبوط اداروں سے چلتے ہیں اس لیے میرا کبھی بھی خیال نہیں تھا کہ میں فوج کے اندر مداخلت کروں۔ مجھے ایک تو معلوم تھا کہ افغانستان میں خانہ جنگی کا خدشہ تھا، اور مجھے ڈر تھا کہ جب امریکی جائیں گے تو اگر افغانستان میں خانہ جنگی ہوئی تو اس کے اثرات پاکستان کو پہنچنے تھے۔

عمران خان کا کہنا تھا افغانستان آزاد ہوا تو ہمارے کتنے فوجی شہید ہوئے۔ میں چاہتا تھا کہ جو سردیوں میں ہمارا سب سے مشکل وقت ہے اس دوران انٹیلیجنس چیف (جنرل فیض حمید) کو ہونا چاہیے۔

انہوں نے کہا کہ انہیں گزشتہ جولائی سے پتا چلنا شروع ہو گیا تھا کہ ن لیگ والوں نے ان کی حکومت کے خلاف منصوبہ بنایا ہوا ہے ’یہ جو انھوں نے ابھی کیا ہے یہ تو بہت پہلے سے منصوبہ بنا کر بیٹھے ہوئے تھے‘۔ اس لیے میں نہیں چاہتا تھا کہ سردیاں گزرنے تک ہمارا انٹیلیجنس چیف تبدیل ہو۔ کیونکہ انٹیلیجنس چیف حکومت کی آنکھیں اور کان ہوتا ہے۔

پاکستان کے سابق وزیرِ اعظم عمران خان نے اس پوڈکاسٹ میں علیم خان اور جہانگیر ترین کے بارے میں پہلی مرتبہ کھل کر بات کی۔ انہوں نے کہا کہ جہانگیر ترین اور علیم خان کا مقصد اقتدار میں آ کر فائدہ اٹھانا تھا۔ قوم تب تباہ ہوتی ہے جب چھوٹے چور پکڑ لیں اور بڑے کو چھوڑ دیں۔’علیم خان مجھ سے توقع کرتے تھے کہ میں ان کی زمین قانونی کروا دوں، علیم خان راوی پر 300 ایکڑ زمین خرید کر قانونی کروانا چاہتے تھے۔ وہاں سے علیم خان اور میرے درمیان دوریاں پیدا ہوئیں‘۔ اس کے علاوہ ان پر نیب کے کیسز بھی تھے اور پینڈورا پیپرز میں بھی ان کا نام آ گیا۔

انہوں نے جہانگیر ترین سے متعلق بات کرتے ہوئے کہا کہ ان کا مسئلہ چینی بحران تھا جس پر کمیشن بھی بنایا۔ جہانگیر ترین ان لوگوں کے ساتھ کھڑے ہو گئے جو ملک کے سب سے بڑے ڈاکو ہیں، شوگر مافیا پر انکوائری بٹھائی تو جہانگیر ترین سے اختلافات ہو گئے۔

عمران خان نے تسلیم کیا کہ وہ انہیں کچھ تبدیلیاں حکومت میں آتے ہی کر لینی چاہیے تھیں کیونکہ بعد میں وہ بہت مشکل ہو جاتی ہیں۔  حکومت میں آنے کے بعد پہلے سے پتا ہونا چاہیے کہ اہم عہدوں پر کس نے بیٹھنا ہے۔ نیب اور عدلیہ تو ہمارے ہاتھ میں نہیں تھی لیکن باقی اداروں کی بھی آخری سال میں سمجھ آئی۔

انہوں نے کہا اگلی بار وہ پہلے سے پلاننگ کرکے آئیں گے، پتا ہو گا کہ کرنا کیا ہے اور اہم عہدوں پر کسے بٹھانا ہے۔ انہوں نے کہا کہ میں نے وار آن ٹیرر کی بھی مخالفت کی، میں ہمیشہ سے چاہتا تھا پاکستان ایک آزاد اور خوددار ملک ہو جس کی اپنی آزاد خارجہ پالیسی ہو ۔اور ہمیں آئی ایم ایف کے پاس نہ جانا پڑے۔  میں نے اپنی فارن پالیسی اس کے مطابق رکھی۔