طالبان حکومت کی طرف سے افغان خواتین کو برقعہ پہننے کا حکم
طالبان حکومت نے ایک افغان خواتین کو پبلک مقامات پر برقع پہہنے کا حکم دیا ہے اور کہ اکہ خواتین غیر ضروری طور سے گھروں سے باہر نہ نکلیں۔
افغانستان میں اقوام متحدہ کے معاونتی مشن یوناما نے ملک میں برسرِ اقتدار طالبان کے خواتین کو لازمی طور پر برقع پہننے سے متعلق ہدایات جاری کرنے پر شدید خدشات کا اظہار کیا ہے۔ یوناما کے مطابق طالبان نے باقاعدہ احکامات جاری کئے ہیں جن پر ذبردستی عمل درآمد کرایا جائے گا۔ طالبان نے برقع کے بارے میں حکم کو فوری طور سے پورے ملک میں نافذ کرنے کا حکم دیا ہے۔
طالبان کا کہنا تھا کہ ان ہدایات کی خلاف ورزی کرنے والی خاتون کے مرد سرپرست کو سزا دی جائے گی۔ طالبان کی وزارت امر بالمعروف ونہی عن المنکر کا ہدایت نامے میں کہنا تھا کہ خواتین کے لیے حجاب فرض اور ضروری قرار دیا گیا ہے۔
ہدایت نامے میں کہا گیا تھا کہ سیاہ رنگ کے کپڑے اور چادر کو بھی برقعے کے طور پر استعمال کیا جا سکتا ہے۔ بشرطیکہ کہ وہ باریک نہ ہو جس سے جسم نظر آنے کا اندیشہ ہو اور جسم کے اعضا نمایاں ہو سکیں۔
ہدایت نامے میں کہا گیا تھا کہ چادری جو کہ عرصہ دراز سے باعزت افغان ثقافت کا حصہ ہے، شرعی حجاب کی بہترین مثال ہے۔ خیال رہے کہ افغانستان میں چادری سے مراد سر سے پاؤں تک جسم کو ڈھانپنا ہے اور اسے برقع بھی کہا جاتا ہے۔
یوناما کی طرف سے جاری کردہ بیان میں کہا گیا ہے کہ طالبان کا یہ اقدام انسانی حقوق کے احترام اور تحفظ کے حوالے سے متعدد یقین دہانیوں سے متصادم ہے جو طالبان کی جانب سے بین الاقوامی برادری کو فراہم کی گئی تھیں۔ یہ یقین دہانیاں گزشتہ سال اگست میں افغانستان پر طالبان کے قبضے کے بعد دہرائی گئیں اور باور کرایا گیا کہ خواتین کو ان کے حقوق فراہم کیے جائیں گے۔
بین الاقوامی برادری طالبان کی جانب سے مثبت اشاروں کے انتظار میں تھی تاکہ افغانستان کے ساتھ تعلقات استوار ہوسکتے۔ خیال رہے کہ ڈیڑھ ماہ قبل افغانستان میں لڑکیوں کے لیے سیکنڈری اسکول کھولنے کے فیصلے کو ملتوی کیے جانے پر نہ صرف بین الاقوامی برادری بلکہ علاقائی اور مقامی سطح پر بھی مذمت کی گئی تھی۔
یوناما کا کہنا ہے کہ طالبان کے مذکورہ فیصلے سے ان کے بین الاقوامی برادری کے ساتھ تعلقات مزید کشیدہ ہو سکتے ہیں۔