نئی حکومت قائم ہونے کے بعد قومی اسمبلی کا پہلا اجلاس

  • اتوار 08 / مئ / 2022

 وزیر اعظم شہباز شریف کے زیر قیادت اتحادی حکومت قائم ہونے کے بعد قومی اسمبلی کا پہلا اجلاس سوموار کو منعقد ہوگا۔ پاکستان تحریک انصاف کے 123 قانون سازوں کی جانب سے استعفوں کے بعداسپیکر قومی اسمبلی راجا پرویز اشرف کو ایوان کو فعال کرنے میں چیلنجز کا سامنا ہے۔

 قومی اسمبلی سیکریٹریٹ کے اعلان کے مطابق صدر عارف علوی نے آئین کے آرٹیکل 54 (1) کے تحت ایوانِ زیریں کا اجلاس پیر کی شام 4 بجے بلانے کا سمن جاری کیا ہے۔ اتوار کو اجلاس کا ایجنڈا جاری کیا جائے گا۔ ذرائع نے ڈان کو بتایا کہ اسپیکر کی جانب سے اجلاس کا آغاز پی ٹی آئی کے اراکین قومی اسمبلی کے استعفوں کی تصدیق سے شروع کیے جانے کا امکان ہے۔ جس کے لیے وہ اجلاس کے دوران مستعفیٰ اراکین کو انفرادی طور پر یا گروپ کی صورت میں اپنے چیمبر میں بلائیں گے۔

سابقہ حکمران جماعت سے تعلق رکھنے والے تقریباً دو درجن اراکین قومی اسمبلی پہلے ہی اسپیکر سے رابطہ کر چکے ہیں جو اپنے مؤقف کی وضاحت کے لیے ملاقات کرنا چاہتے ہیں۔ قومی اسمبلی سیکریٹریٹ میں موجود ذرائع نے تصدیق کی ہے کہ پی ٹی آئی کے اراکین قومی اسمبلی کی جانب سے جمع کروائے گئے اکثر استعفے ہاتھ سے تحریر نہیں کیے گئے اور تمام پر پارٹی کے لیٹر ہیڈ پر یکساں مواد لکھا گیا ہے۔

سیکریٹریٹ کے عملے کو کچھ اراکین کے دستخط پر بھی شبہ ہے جو اسمبلی میں درج ان کے دستخط سے مختلف ہیں۔ بڑے پیمانے پر قومی اسمبلی کی رکنیت سے مستعفی ہونے کا فیصلہ عمران خان کی زیر صدارت پی ٹی آئی کی پارلیمانی کمیٹی کے اجلاس میں کیا گیا تھا اور 11 اپریل کو ایوان میں وزیر اعظم کے انتخاب سے قبل اس فیصلے کا اعلان پارٹی کے نائب چیئرمین شاہ محمود قریشی نے کیا تھا۔

اس دوران بطور قائم مقام اسپیکر خدمات سرانجام دینے والے سابق ڈپٹی اسپیکر قاسم سوری نے فوری طور پر استعفے قبول کرتے ہوئے سیکریٹریٹ کو اعلامیہ جاری کرنے کی ہدایت کی تھی۔

اسپیکر راجا پرویز اشرف کو درپیش ایک اور چیلنج اپوزیشن لیڈر کا تقرر ہے۔ پی ٹی آئی کی قیادت بضد ہے کہ وہ اسمبلی میں واپس نہیں آئی گی جس کے بعد ان کے پاس تقریباً دو درجن پی ٹی آئی منحرف اراکین میں سے اپوزیشن رہنما کو منتخب کرنے کے علاوہ کو دوسرا راستہ موجود نہیں ہے۔

ذرائع کے مطابق اس عہدے کے لیے نور عالم خان اور راجا ریاض اہم امیدوار ہیں جو پہلے ہی اپنے ساتھیوں کے دستخط کے ساتھ اسپیکر کو درخواست جمع کروا چکے ہیں۔ پی ٹی آئی اراکین کے استعفوں اور وزیراعظم نواز شریف کی جانب سے نئی کابینہ کی تشکیل کے بعد نامکمل کمیٹیوں کی وجہ سے پارلیمنٹ تقریباً غیر فعال ہوگئی ہے۔

پارلیمنٹ کے دونوں ایوانوں کے تمام پینلز کی تشکیل کے تجزیے کے مطابق قومی اسمبلی کی تمام کمیٹیاں اب نامکمل ہیں اور 60 فیصد سے زائد سربراہان کے بغیر ہیں۔