گلگت بلتستان میں گلیشیئر پگھلنے سے سیلاب، شاہراہ قراقرم پر پل تباہ

  • اتوار 08 / مئ / 2022

گلگت بلتستان کے ضلع ہنزہ میں شیشپر گلیشیئر پر بننے والی جھیل پھٹنے کے نتیجے میں سیلابی ریلے سے گلگت اور ہنزہ کو ملانے والا پل ٹوٹ گیا ہے۔ شاہراہ قراقرم ٹریفک کے لیے مکمل طور پر بند ہو چکی ہے۔

شاہراہ قراقرم بند ہونے کی وجہ سے چھوٹی گاڑیوں کو متبادل راستے کے ذریعے نگر سے گینش کے مقام پر دوبارہ شاہرائے قراقرم پر چڑھایا جا رہا ہے۔ تاہم بڑی گاڑیوں کو مرتضیٰ آباد کے علاقے سے آگے نہیں جانے دیا جا رہا۔ اس کی وجہ سے علاقے میں پیٹرولیم مصنوعات اور غذائی اجناس کے حوالے سے تشویش بڑھ گئی ہے۔

حکام کا کہنا ہے کہ گلیشیئر کے باعث متعدد گھر بھی متاثر ہوئے تاہم متعلقہ افراد کو محفوظ مقامات پر منتقل کر دیا گیا ہے اور اس حوالے سے کوئی جانی نقصان رپورٹ نہیں ہوا ہے۔ گلگت بلتستان کے قدرتی آفات سے نمنٹنے والے ادارے کے ایک اہل کار نے بتایا کہ شیشپر گلیشیئر کے پھٹنے کے بعد پانی کا اخراج 10 ہزار کیوسک فٹ تک پہنچ گیا تھا تاہم اب پانی کے بہاؤ کا لیول 6 ہزار کیوسک فٹ ہے۔

طغیانی کی وجہ سے گھروں، باغات، جنگلات اور ایک جماعت خانے کو بھی نقصان پہنچا ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ زمین کی کٹائی کی وجہ سے پانی کے چینلز بھی شدید متاثر ہوئے ہیں۔ جس کے بعد لوگوں کو پانی کی کمی کا سامنا ہے۔

شیشپر گلیشیئر کے پانی کا بہاؤ اتنا شدید تھا کہ حسن آباد کے مقام پر 200 فٹ لمبے پل کے علاوہ تقریباً آدھے کلومیٹر تک شاہراہ قراقرم کو متاثر کیا ہے۔ سڑک کی بحالی اور پانی کی سپلائی لائن کی بحالی میں کافی وقت لگ سکتا ہے۔ ماہرین کے مطابق شیشپر گلیشیئر گلگت بلتستان کے ان درجنوں گلیشیئرز میں سے ایک ہے جو مختلف وجوہات کی وجہ سے خطرے سے دوچار ہیں۔

اس گلیشیئر میں آنے والی تبدیلیوں کی وجہ سے مقامی آبادی پہلے سے ہی خوف کا شکار تھی اور موجودہ ہیٹ ویو کے باعث لوگوں کی تشویش میں مزید اضافہ ہو گیا تھا۔ مقامی افراد کے مطابق اس وقت شیشپر گلیشیئر کا جھکاؤ تقریبا ڈھائی کلومیٹر نیچے وادی کی جانب ہے اور جب تک یہ ڈھائی کلومٹیر پر پھیلی ہوئی برف پگھل کر نیچے نہیں آ جاتی، اس وقت تک ہر سال علاقے کے لیے یہ خطرہ برقرار رہے گا۔