اختلاف رائے کے ساتھ جینا سیکھیں

مسلمانوں میں جتنا زور وحدت، یگانگت، اتفاق و اتحاد اور باہمی بھائی چارے پر دیا جاتا ہے، افسوسناک حقیقت یہ ہے کہ ہم میں اتنی ہی تناسب سے نااتفاقی، نفاق، انتشار، منافرت، فرقہ پرستی اور باہمی سرپٹھول زیادہ ہے۔

ہر سچیار اپنے آپ کو اعلیٰ اور دوسروں کو ادنیٰ و کمتر خیال کرتا ہے۔ جس قدر باہمی کدورتیں، فکری مغالطے اور نظری انتشار ہم مسلمانوں میں ہیں شاید ہی دنیا کی کوئی قوم اس میں ہمارا مقابلہ کر سکے۔ ہمارے راسخ العقیدہ مسلمان اس بات پر دکھی و رنجیدہ ہیں کہ امسال ہمارے ملک میں دو عیدیں کیوں منائی گئی ہیں۔ ان کا استدلال ہے کہ ایک ہی سب کا نبی، دین بھی، ایمان بھی ایک، حرم پاک بھی، اللہ بھی، قرآن بھی ایک، کیا بڑی بات تھی ہوتے جو مسلمان بھی ایک۔ فرقہ بندی ہے کہیں اور کہیں ذاتیں ہیں، کیا زمانے میں پنپنے کی یہی باتیں ہیں؟۔ ان لوگوں کا دکھ محض عیدین تک محدود نہیں ہے آگے بڑھ کر نمازوں کے اوقات پر بھی ہے ایک جگہ نماز جمعہ ادا کی جا رہی ہوتی ہے، دوسری جگہ سے نماز عصر کی اذان سنائی دینے لگتی ہے۔ یہی تکلیف سحری و افطاری کے تفاوت پر بھی ہے، اذانوں کی ادائیگی پر بھی ہے اور بات بڑھتے بڑھتے نمازوں اور دیگر عبادات کی ادائیگیوں تک چلی جاتی ہے۔

اگر غور کیا جائے تو اس سوچ کی پریشانی محض کسی ایک ملک تک نہیں رہتی، اس سے کہیں آگے بڑھ کر ایک امہ، ایک خلیفہ، ایک جھنڈے اور ایک ترانے تک چلی جاتی ہے۔ یہ درد مندی مزید بڑھ جاتی ہے کہ امت واحدہ کے دعویدار، ستاون ممالک کی ٹکڑیوں میں کیوں بٹے ہوئے ہیں؟ اس کے بعد انہیں خلافت عثمانیہ کی یاد ستانے لگتی ہے اور وہ درد میں ڈوبے ہوئے یہ الفاظ گنگنانے لگتے ہیں کہ ’’بولی اماں محمد علی کی، جان بیٹا خلافت پہ دے دو‘‘۔ مابعد انہیں ناداں ترک ہیرو پر غم و غصہ آنے لگتا ہے جس نے خلافت کی قبا چاک یا لیرولیر کر دی۔ یوں غصہ اپنوں سے زیادہ غیروں کی طرف منتقل ہونا شروع ہو جاتا ہے۔ ’’چاک کر دی ترک ناداں نے خلافت کی قبا، سادگی مسلم کی دیکھ اوروں کی عیاری بھی دیکھ‘‘۔

 اپنے طاقتوروں کے خلاف یوں کھل کر بول نہیں سکتے اس لئے ساری بھڑاس پہلے فرنگی کے خلاف نکالتے تھے اور ان دنوں انکل سام اور مبینہ ’’امریکی سازش‘‘ پر نکالتے ہیں۔ اگر باریک بینی سے جائزہ لیا جائے تو ہم مسلمانوں میں 1924 کے بعد جتنی بھی راسخ العقیدہ یا بنیاد پرست متشدد فکری تحریکیں ابھری ہیں خواہ عقیدے و مذہب کےنام پر یا سیاسی تطہیر کے مقاصد پر مبنی نعروں کے ساتھ ان کا مطمح نظر ہمیشہ امت مسلمہ کی عظمت رفتہ یا نشاۃ ثانیہ کی بحالی رہا ہے۔ امت واحدہ میں ایک خلافت کے پرچم تلے علاقائی ملکی تقسیم کو ہمیشہ قابل نفریں خیال کرتے ہوئے جدید تصور وطنیت پر بے رحمانہ وار کئے گئے ہیں۔ ’’خاص ہے ترکیب میں قوم رسول ہاشمی‘‘ پر ایمان رکھنے والوں نے وطن کے جدید تصور پر حملے کرتے ہوئے کچھ حجاب نہیں رکھا۔ جسے شک ہے وہ حضرت علامہ کی نظم وطنیت ملاحظہ فرمالے۔ ان تازہ خداؤں میں بڑا سب سے وطن ہے، جو پیرہن اس کا ہے وہ مذہب کا کفن ہے۔ اقوام میں مخلوق خدا بٹتی ہے، اس سے قومیت اسلام کی جڑ کٹتی ہے۔

درویش معذرت خواہ ہے کہ بات آگے سے آگے جا رہی ہے جو اصل میں اتنی تھی کہ ان دنوں ہمارے پیارے ملک میں دو عیدیں کیوں منائی گئی ہیں؟ جن کا ہمارے زیادہ تر لوگوں کو بہت ملال ہے اور میڈیا میں بھی وہ یہ کہتے سنائی دے رہے ہیں کہ قومی یکجہتی اور اتحاد و اتفاق کا کچھ تو خیال رکھو، پورا مغرب ایک ہی دن اگر کرسمس یا ایسٹر کے تہوار منا سکتا ہے تو ہم مسلمان کیوں اتحاد و اتفاق کا یہی عملی مظاہرہ نہیں کر سکتے؟ اس نوع کا استدلال کرنے والے یہ بھول جاتے ہیں کہ ان کی تواریخ شمسی ہیں جبکہ ہماری قمری، کیونکہ ظہور اسلام کے وقت عرب میں قمری مہینوں کا چلن تھا اس لئے انہی کی مطابقت میں نہ صرف یہ کہ عبادات کا تعین ہوا بلکہ مابعد سیدنا عمرؓ کے دور میں اسی کو بطور کیلنڈر اختیار کر لیا گیا۔ اور ہمارے علما اس پر تفاخر کرتے رہے کہ یہ بدلتے موسموں اور خطوں کی مطابقت میں مواقع بہم پہنچاتا ہے۔

راسخ حاوی سوچ میں یہ درد مندی اس وجہ سے بھی ہے کہ ہم نے زندگی بھر اس نوع کی مبارک تحریریں پڑھ رکھی ہوتی ہیں کہ مسلمان تو ایک جسد کی مانند ہیں جس کے ایک حصے کی تکلیف دوسرے حصے کو محسوس ہونی چاہئے۔ ظاہر ہے اس اصول سے ایک حصے کی راحت بھی دوسرے حصے میں منائی جانی چاہئے۔ اس طرح یہ بھی کہا گیا ہے کہ عید والے دن صرف شیطان روزہ رکھتا ہے مطلب یہ کہ جب عید منائیں تو سبھی منائیں اور اگر روزہ رکھیں تو دوسرے بھی اس کا احترام و لحاظ پیش نظر رکھیں۔ درویش کو قدرت نے امسال یہ موقع مرحمت فرمایا کہ اس نے بمع اہل وعیال 2مئی کو پشاور اور 3 مئی کو لاہور یعنی ہر دو مقامات پر عید منائی۔ یوں مختلف لوگوں کے اس حوالے سے تاثرات ملاحظہ کیے اور اسے یہ رنگا رنگی بوجوہ بری نہیں لگی۔ بلکہ مولانا مفتی پوپلزئی کا خصوصی شکریہ ادا کرتے ہوئے لاہوری دوستوں کا یہ پیغام پہنچایا ہے کہ حضرت دعا فرمائیں خداوند تعالیٰ اہلیان لاہور کو بھی ایک مفتی پوپلزئی عنایت فرما دیں۔

یہاں پنجاب کے ایک علاقے ہیڈ فقیریاں میں قاری محمد الیاس نے اس نوع کی کاوش فرمائی بھی ہے جنہوں نے پیر کی صبح ساڑھے آٹھ بجے عید پڑھانے کا اعلان فرما رکھا تھا مگر مقامی پولیس نے حکومتی رٹ کی خلاف ورزی کا کہتے ہوئے مقدمہ درج کر لیا۔ یوں امام قاری الیاس اور دیگر چودہ نمازیوں کو گرفتار کرکے لے گئی ۔ سوال یہ ہے کہ ایک ہی ملک میں قانون کا دوہرا معیار کیوں ہے؟ کیا پشاور اور کے پی ریاست پاکستان کا حصہ نہیں ہیں؟ حکومت پاکستان کی رٹ اگر ہیڈ فقیریاں کیلئے ہے تو ملک کے دیگر خطوں کیلئے کیوں نہیں ہے؟ واضح جواب یہ ہے کہ آپ اس نوع کی رٹ پشاور میں نہیں چلاسکتے، ایسا سوچئے گا بھی نہیں بے شک صوبائی حکومت اس کی مطابقت میں فیصلہ کرے یا نہ کرے۔ پختون اپنے مذہبی معاملات میں بیرونی مداخلت کسی قیمت پر قبول نہیں کر سکتے ۔ قاری الیاس مسکین تھا آپ نے پکڑ لیا رویت ہلال کمیٹی کے بہادر ذرا مفتی پوپلزئی کے سامنے کھڑے ہو کر دکھا دیں۔

اب اپنی اصل بات پر آتے ہیں جو زندگی بھر کے مطالعہ و مشاہدہ کا نچوڑ ہے یہ کہ ریاست لوگوں کے مذہبی معاملات میں مداخلت کرنے سے باز آ جائے۔ کوئی اپنے عقیدے، نظریے یا سوچ کے زیر اثر کب عید منانا چاہتا ہے اور کیسی عبادت کرنا چاہتا ہے۔ اگر وہ کسی دوسرے انسان کی زندگی، صحت یا عقیدے کو انگلی نہیں لگا رہا یا اپنی صحت خراب نہیں کر رہا تو کسی ریاست یا حکومت کو قطعی یہ حق نہیں ہونا چاہئے وہ اس کے مذہبی معاملے میں ٹانگ اڑائے یا کسی نوع کی چھیڑ خانی کرے۔ مثال کے طور پر اگر قاری الیاس یہ سمجھتا ہے کہ آج مکے مدینے میں عید یا روزہ ہو چکا ہے اور وہ اس کی مطابقت میں چلنا چاہتا ہے، مولانا عبدالخبیر یا ڈاکٹر راغب نعیمی صاحب کا یہ حق نہیں ہے کہ وہ اپنی سوچ اس پر مسلط کرنے کیلئے ریاستی یا حکومتی طاقت کو اس کے یا کسی کے بھی خلاف استعمال کرنے کی کوشش فرمائیں۔ وہ تو کمزور تھا اس لئے پکڑا گیا۔ آپ سوچیں اگر وہ مفتی صاحب جتنا تگڑا ہوتا تو کیا حکومت یہ نقص امن افورڈ کر سکتی تھی ؟ (جاری ہے)