نازش لوح و قلم از ڈاکٹر افروز عالمؔ

شعورِ تقدیس ادب کے حوالے سے گفتگو کا سلسلہ اردو کی ادبی روایت کا حصہ رہا ہو یا نہ رہا ہو لیکن اس کی اہمیت و افادیت اور معنویت سے انکار نہیں کیا جاسکتا۔

 بالکل اسی طرح جیسے ایہام گوئی سے لے کر رومانیت، نرگیسیت اور حقیقت پسندی تک اور پھر اصلاح پسندی سے لے کر ترقی پسندی، جدیدیت اور مابعد جدیدیت تک کو اردو کی ادبی روایت میں فکر، رجحان اور تحریک کی حیثیت سے تو دیکھا بھی جاتا رہا اور اس پر گفتگو بھی ہوتی رہی لیکن تصوف پسندی یا متصوفانہ فکر کو ادبی سطح پر باضابطہ رجحان کے طور پر متعارف کرنے یا کرانے کی کوئی مخلصانہ کوشش نہ کبھی کی گئی اور نہ ہی اس طرح کی دانشورانہ کوششوں کو کبھی قابلِ اعتنا سمجھا گیا۔ شاید اردو والوں کے اسی تجاہلِ عارفانہ کا نتیجہ رہا کہ نہ کبھی علی گڑھ تحریک کو اپنی اصل روح کے ساتھ بلاامتیاز قبول کرانے اور اپنی معنویت کو سمجھانے کا موقع میسر آیا اورنہ ترقی پسندی کو اپنی ناقابلِ فراموش شہرت و مقبولیت کے باوجود طویل عمری نصیب ہوئی اور نہ ہی جدیدیت کو رجحان سے آگے بڑھ کر تحریک کی حدود میں داخلے کی اجازت ملی۔ یہاں تک کہ اردو میں مابعد جدیدیت کا کوئی واضح تصور پروفیسر وہاب اشرفی، پروفیسر گوپی چند نارنگ، پروفیسر شہپر رسول، دیویندر اسرّ اور ان جیسے بہت سارے دوسرے لوگوں کے ہزار سرمارنے کے باوجود قائم نہ ہوسکا۔ جس کے نتیجے میں تقریباً تین دہائی سے زیادہ کی طویل مدت گزر جانے کے باوجود اردو ادب و تدریس کے اعلیٰ مطالعے میں سرگرداں طلبا و طالبات اور ریسرچ اسکالرز سے لے کر اساتذہ تک کے ذہن میں اس کا کوئی واضح تصور اپنی جگہ نہ بناسکا۔ اس صورتِ حال کے پیش نظر بھی ادب کا قاری اب اسے اگر بڑا ادبی المیہ نہ قرار دے تو اس مصلحت پسندی یا مصلحت پرستی پر کیا کہا جاسکتا ہے؟

اردو کی کلاسیکی شعری روایت کا مطالعہ کرتے ہوئے بھی اس بات کا احساس ہوتا ہے کہ عہد قلی قطب شاہ میں فائزؔ اور ولیؔ کے ایک انتہائی قابلِ قدر ہم عصر شاعر سراج اورنگ آبادی نے بڑی ہی توانائی اور استحکام کے ساتھ متصوفانہ فکر کو شاعری کے ذریعہ پیش کرنے کی سعی مستحسن کی اور یہ سلسلہ بعد میں بھی وقتاًفوقتاً جاری رہا۔ لیکن کبھی کبھی یہ فکر ادب و شعر کے غالب موضوع کے طور پر اپنا مقام متعین نہ کرسکی باوجود اس کے کہ اسے شہرت بھی حاصل رہی اور مقبولیت بھی۔ بیسویں صدی کے اواخر میں اردو کے بالخصوص دو اہم اور معتبر اہل قلم نے ادبی نظریے کے طور پر متصوفانہ فکر کو رائج کرنے کی سعی بلیغ کی بلکہ تصوف پسندی کے رجحان کے قیام کے لئے انجمن تصوف پسند مصنّفین کا قیام بھی کیا اور اپنی جہد مسلسل کے ذریعہ بڑی حد تک کامیابی بھی حاصل کی اور اس میں ایک بڑے حلقے کی شمولیت بھی ہوئی۔ اس بڑے حلقے میں شامل ناموں کے درمیان جو دو انتہائی اہم نام شامل تھے وہ پروفیسر عنوان چشتی اور پروفیسر حسین الحق کے تھے، لیکن باوجوہ یہ سلسلہ قائم نہ رہ سکا۔

شعورِ تقدیس ادب کے حوالے سے گفتگو کرتے ہوئے یہ چند تمہیدی سطور میں نے اس لیے رقم کیں کہ اگر متصوفانہ فکر رائج ہوئی ہوتی یا تصوف پسندی کے رجحان کو قابلِ اعتنا سمجھا گیا ہوتا تو اردو میں شعورِ تقدیس ادب کا فقدان نہ ہوتا اور یہ چیز اردو کی ادبی روایت کے ایک اہم حصے کے طور پر متعارف ہوتی۔

ان چند سطور کے ذریعہ مجھ سے آپ کی سمع خراشی کا جو عمل سرزد ہوا اس کے لئے  معذرت خواہ ہوں لیکن برادرِ ذی وقار ڈاکٹر افروز عالمؔ کے تعلق سے جنبش قلم کے عمل سے گزرنے سے قبل مجھے شدت سے اس بات کا احساس ہوا کہ ڈاکٹر افروز عالمؔ جیسی ہمہ جہت ادبی شخصیت، پاک طینت دوست اور ناقابلِ فراموش انسانی اوصاف سے مزین فرد پر گفتگو شعورِ تقدیس ادب کے حوالے کے بغیر شاید ممکن ہی نہیں۔ لہٰذا میں نے اس عنقا صفت پرندے کو دام میں لانے کی ناکام ہی سہی کوشش کی۔ اردو شعر و ادب سے تعلق رکھنے والے ذی علم اور باشعور افراد اور حلقہئ شعر و ادب کے لئے ڈاکٹر افروز محتاجِ تعارف نہیں۔ وہ بہ حیثیت شاعر، بحیثیت محب اردو، بحیثیت محرکِ تقریبات علم و ادب، بحیثیت ناظمِ مشاعرہ و ادبی مجالس، بحیثیت دانشور اور اب بحیثیت باشعور ناقد اپنی ناقابلِ فراموش اور مستحکم شناخت قائم کرچکے ہیں۔ ان تمام معاملات میں جو چیز ان کی شناخت کا بنیادی حوالہ بن کر ہمارے سامنے آتی ہے وہ ادب کے تقدس اور تقدیس ادب کی روایت کے قیام کے لئے سامنے آنے والا ان کا شعور ہے۔ یہ شعور کبھی شعری انسلاک کے طور پر سامنے آتا ہے، کبھی شعورِ نقد بن کر جلوہ نما ہوتا ہے اور کبھی مثبت ادبی انانیت کا محرک بن کر ہمارے ذہنوں کو متاثر کرتا ہے۔ لہٰذا اردو شعر و ادب کے تعلق سے ان کی بے لوث خدمت کے اعتراف کے لئے بلامبالغہ باوقار الفاظ کی تلاش اور ان کا انتخاب آسان نہیں۔ اس بات کے ذکر کا شاید یہاں پر کوئی جواز قائم نہ ہوپائے لیکن اس حقیقت کو نظر انداز کیا جانا بھی بڑی ادبی بددیانتی ہوگی کہ گزشتہ ڈیڑھ سال کی نازک ترین مدت گویا ’کرونا وبا‘ کے دوران بھی ڈاکٹر افروز نے آن لائن خدمات کے تحت بھی ادب کی جس مخلصانہ خدمت کا نمونہ پیش کیا اسے بے نظیر ہی کہا جائے گا۔

ڈاکٹر افروز عالمؔ کے تنقیدی مضامین پر مشتمل پیش نظر کتاب ’نازش لوح و قلم‘ کی ترتیب و تزئین کا معاملہ بھی دراصل اسی ناموافق و ناسازگار صورتِ حال سے متعلق ہے جسے ہم نے ’عالمی وبا‘ کی شکل میں نہ صرف دیکھا اور محسوس کیا ہے بلکہ جھیلا ہے۔ ان نامساعد حالات میں بھی شعر و ادب کے لئے یہ جذبہئ خودسپردگی ڈاکٹر افروز کا ہی خاصّہ ہے اور اس جذبے کو یقینی طور پر سلام کیا جانا چاہیے۔ دوسو سے زاید صفحات پر محیط یہ کتاب بہرحال ادب میں اضافے کی حیثیت رکھتی ہے۔ یہ بات میں اس لئے نہیں کہہ رہا ہوں کہ موصوف نے اپنی ان تحریروں یا اپنے شعورِ نقد کے ذریعہ کوئی انقلاب پیدا کردیا یا کسی انقلابی نقطہئ نظر کو قائم کرنے کی دانستہ یا نادانستہ کوئی کوشش کی ہے، یہ بات میں اس لئے کہہ رہا ہوں کہ انہوں نے علمائے ادب کے ذریعہ نگارشاتِ ادب و شعر کی تفہیم اور اس کے اظہار کے لیے جو پیمانہ وضع کر رکھا ہے اسے کسی نہ کسی طور توڑنے یا رد کرنے کی ایک جرأت مندانہ کوشش ضرور کی ہے۔ اور جہاں تک انقلاب برپا کرنے کا معاملہ ہے تو آپ اس حقیقت سے انکار نہیں کرسکتے کہ:

ہم کو معلوم ہے جنت کی حقیقت لیکن

دل کے بہلانے کو غالبؔ یہ خیال اچھا ہے

 اردو تنقید میں مولانا الطاف حسین حالی اور کلیم الدین احمد نے، اردو شاعری میں فیض احمد فیض اور اخترالایمان نے اور اردو فکشن میں عصمت چغتائی اور قمر احسن نے ہی کون سا انقلاب برپا کردیا کہ اس فرشتہ صفت اور نیک خو افروز عالم ؔسے اس کی توقع کی جائے۔ ہاں یہ ضرور ہے کہ انہوں نے اپنی ادبی تحریروں کے ذریعہ جس جرأت مندی کا مظاہرہ کیا ہے اسے فراموش نہیں کیا جاسکتا۔  میں ابتدائی سطور میں عرض کرچکا ہوں کہ ڈاکٹر افروز کی یہ کتاب دوسو سے زیادہ صفحات پر مشتمل ہے۔ اس کتاب کو تین نہیں بلکہ چار حصوں میں منقسم کیا گیا ہے۔ پہلے حصے کا عنوان ’برصغیر‘ جس کے تحت برصغیر ہند و پاک میں نیک نامی کے ساتھ اپنی انفرادی شناخت قائم کرنے والے کچھ انتہائی شہرت یافتہ اور کچھ نسبتاً کم شہرت یافتہ شعرا کے تعلق سے کل 14 تحریریں پیش کی گئی ہیں۔ ان تحریروں کی نوعیت تعارفی ہے۔ بعض تحریروں کو خالصتاً تنقیدی مضامین کے زمرے میں بھی رکھا جاسکتا ہے تاہم زیادہ تحریریں احوال و کوائف اور ادبی و شعری خدمات کے ذکر پر مبنی ہیں۔ ان تحریروں کے تعلق سے اس بات کی تعریف و تحسین کی جانی چاہیے کہ تقریباً تمام تر تحریروں میں تعارفی زاویہئ نظر اختیار کیا گیا ہے، جس کے مثبت پہلو کی طرف راقم السطور قبل ہی اشارہ کرچکا ہے۔

ترتیب فہرست تحریر کے اعتبار سے کتاب کا دوسرا حصہ اردو کی نئی بستیوں کے شعرا کی ادبی و شعری خدمات کا اشاریہ ہے جسے ’نئی بستیاں‘ کے عنوان کے ساتھ پیش کیا گیا ہے۔ اس کے تحت نوشی گیلانی، عیسیٰ بلوچ، فہیم اختر، سعید نظر، صابر عمر اور ثاقب ہارونی کے فکر و فن کا جائزہ ان کے فن کے اختصاصی پہلوؤں کے پیش نظر لیا گیا ہے اور ان کی کاوشوں کو خراجِ تحسین پیش کرنے میں مخلصانہ اور مشفقانہ رویہ اختیار کیا گیا ہے۔ مخلصانہ اور مشفقانہ میں نے اس لیے کہا کہ اگر منصفانہ اور ناقدانہ رویہ اختیار کیا گیا ہوتا تو اس کے دو مثبت پہلو سامنے آتے، ایک تو یہ کہ تحریر زیادہ معتبر اور باوقار ہوگئی ہوتی اور دوسرے یہ کہ حمدوحین کو اس منصفانہ اور ناقدانہ جائزے کی روشنی میں اپنے شعری کمالات کو زیادہ مستحکم بنانے کا موقع میسر آگیا ہوتا۔ اس سلسلے کا تیسرا حصہ ’جہانِ کتب‘ جسے مجلد اوراق بھی کہا گیا ہے کے عنوان سے زینت کتاب ہے۔ یہ دراصل مختلف کتابوں پر تبصرے ہیں جن کی کل تعداد 12 ہے۔ ان ایک درجن کتابوں میں دو چھوڑ کر باقی کی سبھی 10 کتابیں شعری مجموعے ہیں۔ وہ دو کتابیں جو شعری مجموعہ نہیں ہیں ان میں پہلی کتاب جناب اسلم چشتی کی مرتب کردہ ’فوزیہ مغل: اہل دانش کی نظر میں‘ اور دوسری کتاب زر نگار یاسمین کی مرتب کردہ ’نئے پرانے افسانے: متن اور تجزیہ‘ ہے۔ مختلف نوعیت کی ان 32 تحریروں میں تیس کا تعلق پوری طرح شعریات سے ہے۔ اس تعلق خاص سے اس بات کا واضح اشارہ ملتا ہے کہ ڈاکٹر افروز نہ صرف شاعر ہیں بلکہ پوری طرح شاعری کے لئے اپنے آپ کو وقف کئے ہوئے ہیں۔ اس کتاب کے بالکل آخر میں گویا اختتام کلام کے طور پر دو باب قائم کیے گئے ہیں جن میں ایک باب نور پرکار کے نام معنون ہے جبکہ دوسرا ابرار رحمانی کے نام۔

جی چاہ رہا تھا قائم کیے گئے دونوں ’باب‘ کے حوالے سے تفصیلی گفتگو کی گنجائش پیدا کی جائے لیکن طوالت کا خوف دامن گیر رہا جس نے قلم کو اپنی گرفت میں لے لیا۔ اس کتاب کے تعلق سے بلاخوف تردید اور پورے اعتماد کے ساتھ یہ بات کہی جاسکتی ہے کہ اسے حلقہئ ادب و دانش کی جانب سے توشہئ تحسین نذرانہئ محبت کے طور پر حاصل ہوگا اور اس کتاب کو دستاویزی کتاب کی حیثیت عطا کی جائے گی۔ اس کتاب کے تعلق سے ڈاکٹر افروز عالم کی جدوجہد اور کدوکاوش زبان حال سے اس حقیقت کی منادی کرتی محسوس ہو رہی ہے کہ:

میں کہاں رکتا ہوں عرش و فرش کی آواز سے

مجھ کو جانا ہے بہت اونچا حدِ پرواز سے