ڈاکٹر سید شاہد اقبال قدر شناسوں کی نظر میں
- تحریر سرور غزالی
- سوموار 09 / مئ / 2022
اس کتاب کی ترتیب و پیشکش ڈاکٹر سید مسعود حسن نے کی ہے۔ آپ کا تعلق بھی خدا بخش لائبریری سے ہے جیسا کہ خود ڈاکٹر سید شاہد اقبال کا۔ اس لحاظ سے مؤلف کو خدا بخش لائبریری سے بھی شاہد بھائی کی کاگزاری کی بابت اطلاع ضرور ملی ہو گی۔
اس کتاب میں ڈاکٹر سید شاہد اقبال، جو کے ایک محقق، مورخ اور تاریخ اردو ادب کے جانے پہچانے ماہر ہیں، کی چھ تحقیقی کتب پر کل پچیس سے زائد ادبا اور محققین کی ناقدانہ رائے اور تفصیلی مضامین شامل ہیں۔ کتاب کے مطالعے سے پتہ چلتا ہے کہ اسے مختلف ابواب میں تقسیم کیا گیا ہے۔ اورہر باب میں شاہد اقبال کی ایک کتاب کو موضوع بناکر اس پر تنقیدی مضامین شامل کیے گئے ہیں۔ گو کہ باب اول دوم وغیرہ نہیں لکھا گیا ہے مگر اس طرح سے کتاب کو سمجھنے میں آسانی ہوگی اس لیے ہم باب اول کو پڑھتے ہیں۔ اس باب کا عنوان ہے 'دفیات مشاہر بہار' اور اس میں کل بارہ مضامین ہیں۔ ان مضامین کے لکھنے والوں کے اسمائے گرامی، مقام اشاعت اوران رسائل و جرائد جن میں یہ چھپے تھے ان کا حوالہ بھی فہرستی جدول میں دے دیا گیا ہے۔
پروفیسر طلحہ رضوی برق، پروفیسر عبد المغنی، پروفیسر محفوظ الحسن، ڈاکٹر محمد الیاس اعظمی، ڈاکٹر محمدمثنی رضوی، ڈاکٹر مناظر عاشق ہرگانوی کے علاوہ دیگر کئی ماہرین کے ساتھ ڈاکٹر منیر احمد سلیچ جیسے اہم ناقدوں نے کتاب ہذا پر اپنی رائے پیش کی ہے۔ ان سب کے مضامین یہاں موجود ہیں۔ اسی طرح اگلے ابواب میں بالترتیب ڈاکٹرشاہد اقبال کی کتابوں، تذکرہ مہدوانواں، رموز تحقیق، نشتر تحقیق، انوار تحقیق، عشرت گیاوی حیات و شاعری جیسی اہم اور معرکتہ الاراء کتابوں پر ناقدین کی ماہرانہ رائے کا احاطہ کیا گیا ہے۔ ان صاحب الرائے اور عصر حاضر کے اہم مصنفین اور ناقدین کے مضامین شاہد اقبال کی تحقیقی کاوشوں کا جائزے اور تبصرے سے اندازہ ہوجاتے ہے کہ شاہد اقبال ایک کہنہ مشق اور تجربہ کار محقق ہی نہیں بلکہ انشاپردازی کے تمام زریں اصولوں سے بہر آور بھی ہیں اور ان سب لوازمات کو اپنے مضامین پیش کرنے ہنر بھی جانتے ہیں۔
ڈاکٹر شاہد اقبال کی تحقیق کامحور اردو ادب، بہار کی ادبی و علمی شخصیات اور بہار سے نکل کر ساری دنیا میں علم وادب اور مذہب و دین کی شمع جلانے والے اور علم کی روشنی پھیلانے والی شخصیات ہیں۔ ان کی تحقیق کا دائرہ کار ان کی کتابوں کے نام سے ظاہر ہیں۔ جیسے دفیات مشاہر بہار، تذکرہ مہدوانواں، رموز تحقیق، نشتر تحقیق، انوار تحقیق، عشرت گیاوی حیات و شاعری۔
اپنی ان تحقیقی کاوشوں کی بدولت ڈاکٹر شاہد اقبال نے علم وادب اور تحقیق کے میدان میں اپنا سکہ جمادیا ہے۔ اور ان کا خاص مقام ہے۔
متذکرہ ابواب کے علاوہ اس کتاب میں دو باب اور ہیں یعنی تاثرات اور مشاہیر علم و ادب کی آرا- اپنے عنوانات کے عین مطابق ڈاکٹرشاہد اقبال کی کتابوں اور ان کے طرزاسلوب پر ان ابواب میں قیمتی آرا اور تاثرات کو شامل کیا گیا ہے۔ ڈاکٹرشاہد اقبال کی تحقیقی کاوشوں پر مرتب اس کتاب کو خاکسار کے نام سے منسوب کیا گیا ہے جس کے مؤلف کا شکریہ ادا کرتا ضروری سمجھتا ہوں۔ بہار سے مجھے اس لئے بھی خاص انسیت ہے کہ ہمارے آباواجداد اسی سر زمین میں پیوند خاک ہیں اور ڈاکٹرشاہد اقبال اور ڈاکٹر سید مسعود حسن اور تبصروں نگاروں، ناقدین اور تاثرات قلمبند کرنے والے مصنفین کی بہار اور اس سوتے سے پھوٹ کر ساری دنیا میں رہتی دنیا تک جاری چشمہ فیض کی قدرو منزلت کی آگاہی وہ مشترکہ قدر ہے جو اس کتاب کے اجرا کا سبب بن گیا ہے۔ ادب کے طالب علموں کے لیے ایک اہم کتاب ہے۔
کتاب ایجوکیشنل پبلشنگ ہاؤس انڈیا سے حاصل کی جاسکتی ہے۔ 184 صفحات پر مبنی اس کتاب کی قیمت 116 روپے ہندوستانی ہے۔
ISBN 9789393785268