جھوٹ اورپروپیگنڈے کوپاکستان سے تعلقات میں آڑے نہیں آنے دیں گے:امریکا
امریکی محکمہ خارجہ کے ترجمان نیڈ پرائس نے کہا ہے کہ امریکا پاکستان کے ساتھ اپنے دوطرفہ تعلقات کی راہ میں پروپیگنڈا، غلط معلومات اور جھوٹ کوآڑے نہیں آنے دے گا۔
نیڈ پرائس نے یہ بات ایک پریس بریفنگ کے دوران سابق وزیر اعظم عمران خان کی جانب سے عہدے سے برطرف کیے جانے کا الزام امریکا پر عائد کرنے اور امریکا مخالف مہم چلانے سے متعلق ایک سوال کا جواب دیتے ہوئے کہی۔ ایک صحافی نے ان سے سوال کیا کہ ’سابق وزیر اعظم عمران خان اب بھی اپنی وزارت عظمیٰ سے بے دخلی کا ذمہ دار امریکہ کو ٹھہرا رہے ہیں اور امریکا مخالف مہم کی قیادت کر رہے ہیں۔ کیا آپ سمجھتے ہیں کہ امریکا مخالف مہم سے پاکستان اور امریکا کے درمیان سفارتی تعلقات میں دراڑیں پیدا ہورہی ہیں یا اس سے کوئی فرق نہیں پڑے گا؟
نیڈ پرائس نے جواب میں کہا کہ ’ہم پروپیگنڈے، غلط معلومات اور جھوٹ کو پاکستان سمیت کسی بھی ملک کے ساتھ ہمارے دو طرفہ تعلقات کی راہ میں آنے نہیں دیں گے، پاکستان کے ساتھ تعلق کی ہم قدر کرتے ہیں‘۔
گزشتہ ماہ تحریک عدم اعتماد کے ذریعے وزیراعظم کے عہدے سے ہٹائے جانے والے عمران خان نے الزام عائد کیاہے کہ ان کی آزاد خارجہ پالیسی پر عمل کرنے کے سبب عدم اعتماد تحریک کو امریکا نے مقامی لوگوں کی معاونت سے تیار کیا۔
قومی سلامتی کمیٹی نے واضح کیا ہے کہ عمران خان کی زیرقیادت حکومت کو گرانے کے لیے کوئی غیر ملکی سازش نہیں کی گئی۔