چوہدری پرویز الٰہی کا قائم مقام گورنر پنجاب بننے سے انکار کردیا
کابینہ ڈویژن کی جانب سے پنجاب گورنر کو ڈی نوٹیفائی کرنے کے باوجود پنجاب اسمبلی کے اسپیکر چوہدری پرویز الٰہی نے قائم مقام گورنر کا چارج سنبھالنے سے انکار کر دیا ہے۔
قانونی ماہرین کا خیال ہے کہ اگر پرویز الٰہی اپنے مؤقف پر ڈٹے رہے تو پنجاب اسمبلی کے ڈپٹی اسپیکر دوست مزاری قائم مقام گورنر کا عہدہ نہیں سنبھال سکتے۔ اس صورتحال کے سبب صوبہ پنجاب کم از کم ایک ہفتے کے لیے گورنر سے محروم رہ سکتا ہے۔
وزیراعظم شہباز شریف نے صدر مملکت عارف علوی کو گورنر پنجاب کے عہدے کے لیے مسلم لیگ (ن) کے بلیغ الرحمٰن کے نام کی سمری بھیجی تھی۔ صدر نے 10 روز کے اندر وزیر اعظم کی تجویز پر عمل نہ کیا تو بلیغ الرحمٰن کے تقرر کا نوٹیفیکیشن جاری کردیا جائے گا۔
گزشتہ روز مسلم لیگ (ق) کے رہنما پرویز الٰہی نے پنجاب اسمبلی سیکریٹریٹ کا دورہ کیا اور اسپیکر کی حیثیت سے اپنے معمول کے فرائض سرانجام دیے۔ پارٹی کے ایک ترجمان نے کہا کہ پرویز الٰہی نے قائم مقام گورنر کا چارج نہیں لیا ہے، وہ اس سلسلے میں آئینی ماہرین سے مشورہ کر رہے ہیں۔
دریں اثنا پرویز الٰہی نے برطرف گورنر پنجاب عمر سرفراز چیمہ کو بھی فون کیا اور ان سے اظہار یکجہتی کیا۔ انہوں نے واضح کیا کہ ہم آئین اور قانون کی پاسداری جاری رکھیں گے اور حکومت کے تمام غیر آئینی اقدامات کی مزاحمت کریں گے۔ حکومت نے غیر آئینی اقدامات کی فیکٹری لگائی ہے لیکن میں آئین اور قانون کے مطابق اپنی ذمہ داریاں نبھاؤں گا۔
اس موقع پر عمر سرفراز چیمہ نے کہا کہ وہ آئین کی بالادستی کو مدنظر رکھتے ہوئے فیصلے کریں گے۔ اپنی ایک ٹوئٹ میں انہوں نے خود کو بطور گورنر برطرف کیے جانے کے ’غیر آئینی‘ نوٹیفکیشن کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ میں قانونی ماہرین سے مشورہ کر رہا ہوں اور جلد ہی اپنے اگلے لائحہ عمل کا اعلان کروں گا۔
دریں اثنا صحافیوں سے بات کرتے ہوئے نئے تعینات ہونے والے اٹارنی جنرل اشتر اوصاف علی نے کہا کہ کسی آئینی عہدے پر زبردستی قبضہ کرنا غیر اخلاقی ہے۔ جب گورنر حکومت کا اعتماد کھو دے تو اسے باعزت طور پر استعفیٰ دینا چاہیے۔ ایسے عہدے عزت اور احترام کے حامل ہوتے ہیں۔