پی ڈی ایم کی خود سوزی
- تحریر مزمل غیاث
- بدھ 11 / مئ / 2022
بائیس سالہ سیاسی جد وجہد کے بعد پاکستان کے سابق کرکٹر عمران خان 2018 میں اپنی حکومت بنانے میں کامیاب ہوئے۔ عمران خان کی اس حکومت کا بنیادی مسئلہ یہ تھا کہ اس حکومت سے عوام کی امیدیں کسی بھی نئی آنے والی حکومت سے کہیں زیادہ وابستہ تھیں ۔
اس امر کی بنیادی وجہ یہ تھی کہ 2011 سے ہی عمران خان ایک منظم مہم کے تحت بار بار عوام کو یہ باور کرا رہے تھے کہ ان کے سوا پاکستان کے تمام سیاسی جماعتوں کے قائدین خاص طور پر مسلم لیگ نون اور پیپلز پارٹی کے سیاستدان چور ہیں اور تمام کے تمام ملکی مسائل انہی لوگوں کے پیدا کردہ ہیں۔ عمران خان کا یہ بیانیہ عوام میں انتہائی مقبول ہوا اور پاکستان کی سیاست میں وہ ایک بڑے کھلاڑی کے طور پر ابھرے اور بالآخر وہ 2018 میں پاکستان کے وزیر اعظم منتخب ہوئے۔
عمران خان کی حکومت قائم ہوتے ہی مخالفین نے ان پر یہ الزام عائد کیا کہ انہوں نے اسٹیبلشمنٹ کی مدد سے اقتدار کے ایوانوں تک رسائی حاصل کی۔ درحقیقت یہ ایک ایسا تاثر تھا کہ جس پر زیادہ لوگوں کو مسئلہ بھی نہیں تھا۔ ایک طرف تو ان کے مخالفین ان پر فوجی بیساکھیوں کی مدد سے اقتدار میں آنے کا الزام لگاتے تھے اور دوسری جانب ان کے حامی یہ بتاتے تھے کہ عمران خان کیونکہ کرپٹ نہیں ہے اور ملکی مفاد میں کام کرتا ہے لہذا اس کی فوج سے کوئی رنجش نہیں۔ اسی قسم کی باتیں افواج پاکستان کے سابق اراکین بھی مختلف ٹاک شوز میں دیتے رہتے تھے۔ اور یوں پاکستان کی عوام کا وہ ایک بڑا طبقہ جو کہ ہمیشہ سے سیاستدانوں سے بیزار اور ایوب خان سے لے کر جنرل مشرف تک فوجی حکمرانوں کی بیتر حکمرانی کا قائل رہا ہے وہ بھی اس تمام عرصے میں عمران خان کا حامی رہا۔ اس کے علاؤہ عمران خان اور ان کی حکومت پر یہ الزام بھی لگتے رہے کہ انکی حکومت جہانگیر ترین اور علیم خان کی مرہون منت ہے اور دراصل جہانگیر ترین اور علیم خان کے پیسے کے بنا عمران حکومت زیادہ دیر قائم نہیں رہ سکتی۔
بہرحال عمران خان کے حامیوں کو اس بات سے کبھی کوئی فرق بھی نہیں پڑا کہ وہ اقتدار میں کس طرح آئے۔ ان کے حامیوں کا اصل مسئلہ ان کی وہ امیدیں ہیں جو عمران خان کے وعدوں کے باعث بہت بڑھ چکی ہیں۔ یہ لوگ دراصل کسی بھی حالت میں ایک ایسا پاکستان چاہتے ہیں جو حقیقی طور پر ریاست مدینہ کی طرح ہو۔ یہ لوگ انصاف پر مبنی ایک پاکستان چاہتے ہیں اور اس سلسلے میں یہ لوگ بنیادی طور پر خاندانی سیاست سے چھٹکارا چاہتے ہیں۔ یہ وہ وجہ ہے کہ ان لوگوں کے لیے مسلم لیگ نون اور پیپلز پارٹی کسی صورت قابل قبول نہیں۔
اب اگر عمران خان کی ساڑھے تین سالہ کارکردگی کا جائزہ لیا جائے تو یہ بات سمجھنا مشکل نہ ہوگی کہ عمران خان کا ووٹر ان کی کارکردگی سے خوش نہیں تھا۔ اس کی بنیادی وجہ یہ ہے کہ ان کے حامیوں کو احتساب کے سے جو خواب دکھائے گئے تھے وہ پورے نہ ہو سکے تھے۔ اس کے علاوہ عمران خان کے حامی دراصل عمران خان کی حمایت کرتے ہی اسلیے ہیں کہ وہ عمران خان کے شفافیت کے نعروں سے متاثر ہیں اور خود کو شفافیت کا علمبردار سمجھتے ہیں۔ ایسی صورتحال میں ان کیلئے جہانگیر ترین اور علیم خان پر لگنے والے الزامات کو دل سے مسترد کرکے پی ٹی آئی کا ساتھ دینا مشکل ہو جاتا تھا۔
دوسرا مسئلہ جو عمران خان کے حامیوں کو تھا وہ یہ تھا کہ وہ عمران خان کی حکومت میں بڑھتی مہنگائی سے شدید نالاں تھے اور وہ یہ سمجھنا شروع ہو گئے تھے کہ عمران خان نے دعوے تو بلند و بانگ کیے لیکن انکی کارکردگی تسلی بخش نہ رہی۔ اگرچہ عمران حکومت کو ووٹ دینے والے اس بات پر بدستور قائل تھے لیکن وہ اس بات کو تسلیم کرتے تھے کہ عوام بڑھتی ہوئی مہنگائی سے شدید پریشان تھی اور شاید یہ وہ واحد وجہ تھی جو عمران خان کے حامیوں اور عام عوام پر سب سے زیادہ اثر انداز ہو رہا تھا اور عوام کو سب سے زیادہ عمران حکومت سے متنفر کر رہا تھا۔
تیسرا معاملہ جو عمران خان کے حامیوں کو ان سے متنفر کر رہا تھا وہ یہ تھا کہ لوگ عمران حکومت میں ان کی ٹیم سے نالاں تھے۔ اس معاملے میں یہ لوگ وزیر اعلیٰ پنجاب جناب عثمان بزدار کی کارکردگی سے شدید نالاں تھے اور سمجھتے تھے کہ عثمان بزدار ایک کمزور وزیر اعلیٰ ہے اور ان کی کارکردگی کچھ خاص نہیں۔ اس پر ان لوگوں کی ناراضگی اس وقت اور بھی بڑھ جاتی تھی کہ جب خان صاحب خود عثمان بزدار کو وسیم اکرم پلس قرار دیتے اور اس بات کا عندیہ دیتے کہ جب تک وہ وزیراعظم ہیں عثمان بزدار وزیر اعلیٰ پنجاب رہیں گے۔ ان لوگوں کے مطابق عثمان بزدار ایک کمزور منتظم تھے اور ان کا عہدے پر رہنا ان پنجاب کی سیاست میں پارٹی کے لیے نقصان دہ ہوسکتا تھا۔ ان لوگوں کا بنیادی فلسفہ یہ تھا کہ شہباز شریف کیونکہ نواز شریف کے بھائی تھے تو ان کے پاس لامحدود اختیارات تھے اور وہ تیزی سے سڑکیں بنوا لیا کرتے تھے اور اس کے علاؤہ شہباز شریف میڈیا مینجمنٹ بھی کرلیا کرتے تھے جبکہ عثمان بزدار ایک کم گو انسان ہیں اور ان کا پنجاب میں عہدے پر رہنا مسلم لیگ نون کو تقویت دینے کے مترادف تھا۔
چوتھی بڑی وجہ جو عمران خان کے حامیوں کو ان کے خلاف متنفر کر رہی تھی وہ یہ تھی کہ عوام حکومتی نظام میں وہ تبدیلی محسوس نہیں کر پارہے تھے کہ جس کی انہیں عمران خان کی حکومت سے توقع تھی۔ انہیں بنیادی طور پر نئے اور پرانے پاکستان میں کوئی واضح فرق محسوس نہیں ہو رہا تھا جس کی وجہ سے وہ نئے پاکستان کے بیانیے سے دور ہو رہے تھے۔
ایک اور وجہ جو کچھ لوگوں کو مناسب نہیں لگتی تھی وہ تحریک انصاف کے کچھ رہنماؤں جیسا کہ فواد چوہدری اور شہباز گل وغیرہ کی تیز زبان تھی کہ جسے کچھ لوگ غیر مناسب سمجھتے تھے۔ اس کے علاؤہ مولانا فضل الرحمان جیسے لوگ انہیں مسلسل یہودی ایجنٹ قرار دے رہے تھے۔ اس کے علاوہ اگر کراچی کا معاملہ دیکھا جائے تو بنیادی طور پر کراچی میں ایم کیو ایم اور تحریک انصاف کا مقابلہ تھا اور تحریک انصاف کو کراچی میں ووٹ دینے والے اکثر ووٹرز نے بنیادی طور پر ایم کیو ایم کے خلاف تحریک انصاف کو ووٹ دیا تھا اور تحریک انصاف کی حکومت میں ایم کیو ایم کی شمولیت کے وہ زیادہ معترف نہ تھے۔ لوگوں کو تحریک انصاف کی فارن فنڈنگ کیس پر بھی کچھ تحفظات تھے۔ ایک اور اہم وجہ جو کہ عوام کو عمران خان کی تحریک انصاف سے متنفر کر رہی تھی وہ یہ تھی کہ میڈیا کا ایک بڑا حلقہ عمران خان کی حکومت کی خامیوں کو اجاگر کر رہا تھا اور طرح طرح کے سروے دکھا رہا تھا جسکی وجہ سے پہلے ہی مہنگائی کی ماری عوام اور زیادہ حکومت سے متنفر ہو رہی تھی۔
یہ وہ وجوہات تھیں کہ جو پاکستان تحریک انصاف کی مقبولیت میں مسلسل کمی کا باعث بن رہی تھیں اور بظاہر یہ معلوم ہوتا تھا کہ پانچ سالہ مدت پوری کرنے کے بعد تحریک انصاف کے اقتدار کا سورج غروب ہو جائے گا۔ اس صورت میں یہ بات تو واضح تھی کہ تحریک انصاف اگر دوبارہ انتخابات میں کامیاب بھی ہو جاتی تو یقینی طور پر اس سے بھی کمزور حکومت بنا پاتی اور ہمیشہ ہی اتحادی حکومت کی بیساکھیوں پر رہتی۔ ایسی صورت حال میں عمران خان کو دو ہی چیزیں مقبولیت کی اس انتہا تک پہنچا سکتی تھیں جہاں وہ آج ہیں۔ ان میں سے ایک اللہ کی طرف سے کوئی غیبی مدد اور دوسری پی ڈی ایم میں شامل جماعتوں کی خود سوزی۔ موجودہ حالات میں ایسا ہی معلوم ہوتا ہے کہ جیسے عمران خان کو کوئی غیبی مدد ملی ہو جس کے نتیجے میں پی ڈی ایم نے اجتماعی خودکشی کر لی ہو۔
موجودہ حالات کو دیکھا جائے تو وہ عمران خان جو آج سے ایک مہینے پہلے اتنے مقبول نظر نہیں آتے تھے وہ آج پاکستان کے مقبول ترین رہنما ہیں اور اب شاید اس میں کوئی شک باقی نہیں کہ فوری انتخابات کی صورت میں وہ با آسانی حکومت بنانے میں کامیاب ہو جائیں گے۔ اگرچہ کچھ لوگوں کا خیال ہے کہ فوری انتخابات کی صورت میں عمران خان دو تہائی اکثریت لینے میں بھی کامیاب ہوسکتے ہیں لیکن میری نظر میں یہ بات شاید ناممکن ہو لیکن بہرحال اس میں کوئی دو رائے نہیں کہ ان کے لیے سادہ اکثریت لینا آسان کام ہوگا۔
اب اگر موجودہ صورتحال کو مد نظر رکھتے ہوئے ان عوامل کا جائزہ لیا جائے کہ جن کی بنا پر عمران خان مقبولیت کی انتہا پر پہنچ چکے ہیں تو ن میں سر فہرست پی ڈی ایم میں شامل جماعتوں کی بیوقوفیاں ہیں۔ اول بات یہ کہ پی ڈی ایم میں شامل جن نظریوں کا ہمیشہ سے پرچار کرتی آئی ہیں وہ ایک دوسرے سے مطابقت نہیں رکھتے اور پی ڈی ایم میں شامل تمام ہی جماعتیں ماضی میں ایک دوسرے کے خلاف نہ صرف انتخابات میں ایک دوسرے کے خلاف حصہ لیتی آئی ہیں بلکہ ایک دوسرے پر شدید الزامات بھی لگاتے آئے ہیں۔ ایسی صورتحال میں پاکستان کے عوام کی اکثریت کے مطابق ان سب کا آپس میں اتحاد صرف اور صرف مال بچاؤ نظریہ کے تحت ہی ممکن ہوا۔ یہ وہ وجہ ہے کہ جسکی بنیاد پر پاکستان کے عوام کی ایک اکثریت عمران خان کے اس بیانیے سے متفق ہیں کہ ان کے خلاف تمام چور اکھٹے ہوگئے ہیں اور اسکا انتخابات میں براہ راست فائدہ عمران خان کی تحریک انصاف کو ہوگا۔
ایک اور وجہ جو عوام کو پی ڈی ایم سے متنفر کر رہی یے وہ یہ ہے کہ ماضی قریب میں بھی پی ڈی ایم اور خاص کے کہ مسلم لیگ نون اور پیپلز پارٹی کے لوگ جہانگیر ترین اور عبدالعلیم خان کو چینی چور اور قبضہ مافیا کہتے تھے اور ساتھ میں انہیں عمران خان کی اے ٹی ایم مشین قرار دیتے تھے اور اب انہی لوگوں کی بیساکھیوں کے سہارے شہباز شریف وزیراعظم منتخب ہوئے۔ ایسی صورتحال میں عوام کی اکثریت یہ خیال کرتے ہیں کہ مسلم لیگ نون اور پیپلز پارٹی ایک مرتبہ پھر نوے کی دھائی کی سیاست کر رہے ہیں۔ ایسی صورتحال میں عمران خان کا وہ بیانیہ زور پکڑ رہا ہے کہ سب چور عمران خان کے خلاف اکٹھے ہو گئے ہیں۔ اس کے عمران خان کے حق میں یہ چیز اس طرح بھی جاتی ہے کہ عمران خان کے اوپر جو الزامات جہانگیر ترین اور عبدالعلیم خان کی وجہ سے لگتے تھے وہ اب ان سب سے یہ کہہ کر بری الزمہ ہوجاتے ہیں کہ انہوں اپنے قریبی لوگوں کو بھی کرپشن نہیں کرنے دی جسکی وجہ سے وہ ان کے مخالف ہوگئے اور انہیں حکومت سے ہاتھ دھونا پڑھا لیکن انہوں نے حکومت گنوانا تو برداشت کرلیا لیکن کرپشن برداشت نہ کی۔ اور اس بیانیے کو عوام میں بھرپور پزیرائی مل رہی ہے۔
اس بات کو بھی نظر انداز نہیں کیا جاسکتا کہ پی ڈی ایم نے اپنی تحریک مہنگائی کے نام پر شروع کی تھی اور اس بات پر واویلا مچایا تھا کہ عمران خان کی حکومت میں مہنگائی کی قمر توڑ کر رکھ دی تھی لیکن درحقیقت معاملہ یہ ہے کہ اگرچہ عمران خان کی حکومت میں لوگ مہنگائی سے تنگ تھے اور یہی شاید وہ واحد وجہ تھی کہ جس سے لوگ عمران خان کی حکومت سے نالاں تھے لیکن عمران حکومت کے جانے کے بعد پاکستان میں جس تیزی سے مہنگائی بڑی ہے شاید پاکستان کی تاریخ میں اسکی مثال نہیں ملتی۔ اوپر سے اگر معاملہ یہ ہو کہ میڈیا کے وہ اینکر جو عمران خان کی حکومت میں کھانے کے تیل کی قیمت چار سو روپے ہونے پر شور مچا رہے تھے وہ اب اسی تیل کی قیمت پانچ سو چالیس روپے ہونے پر خاموش ہوں تو عوام میں ایک غم و غصہ کی سی کیفیت پیدا ہو جاتی ہے۔ مرغی کے گوشت کی مثال لی جائے تو جو مرغی کا گوشت آج سے صرف ایک ماہ پہلے عمران حکومت میں ڈھائی سو روپے تھا وہ آج کراچی میں سات سو پچاس روپے مل رہا ہے۔ ایسی صورتحال میں عوام کی ایک اکثریت اس بات پر قائل ہے کہ مرغی کی قیمتوں میں بڑھتی وجہ یہ ہے کہ شریف خاندان کے لوگ بالخصوص حمزہ شہباز مرغی کے کاروبار سے منسلک ہیں اور یہی وہ وجہ ہے کہ مرغی کی قیمتوں کو پر لگ گئے ہیں۔
اسی طرح سے ملک میں آٹے، چاول، دال گھی اور دیگر اشیا کی قیمتوں صرف چند ہی دن میں ہونے والے اضافے سے عوام شدید نالاں ہیں۔ علاوہ ازیں جب عوام مفتاح اسماعیل اور شاہد خاقان عباسی کو پریس کانفرنس میں یہ کہتے سنتے ہیں کہ عمران حکومت نے پیٹرول کی قیمتوں میں کمی کرکے غلطی کی اور جو پیٹرول عمران خان کی حکومت میں ایک سو پچاس روپے دستیاب تھا وہ عوام کو دو سو پینتالیس روپے لیٹر کے حساب سے ملنا چاہیے تھا تو انہیں مہنگائی مکاؤ مارچ یاد آجاتی ہے اور ایسی صورتحال میں جب میڈیا کے وہ لوگ جو صبح شام مہنگائی کا رونا روتے تھے تو پھر لوگوں کی نظر میں نہ صرف سیاستدان بلکہ میڈیا بھی بے توقیر اور بے معنی ہو جاتا ہے۔ ایسی صورتحال میں دس اپریل کی رات جب پورے پاکستان میں لوگ لاکھوں کی تعداد میں بنا کسی سیاسی رہنما کہ لاکھوں کی تعداد میں گھروں سے باہر نکلے اور پاکستان کے تقریباً تمام ہی ٹیلی ویژن چینلز نے اس کا بلیک آوٹ کیا تو لوگوں نے اسے میڈیا کی جانبداری تصور کیا اور بدقسمتی سے معاملہ اب میڈیا کے ہاتھ سے بھی نکل گیا۔ اس سلسلے میں یہ بات قابل ذکر ہے کہ جب تمام میڈیا چینلز نے عمران خان کے حامیوں کے اجتماعات نہ دکھانے کا فیصلہ کیا تو اس وقت اے آر وائی کی جو ریٹنگ آئی اس کہ بعد میڈیا نے عمران خان کے حامیوں کے اجتماعات دکھائے۔ ایسے میں اب جب میڈیا پی ٹی آئی کے جلسے دکھاتا ہے تو لوگ اسے میڈیا کی مجبوری سمجھتے ہیں۔ اس معاملے میں حالات اس نہج کو پہنچ چکے ہیں کہ اب اگر عمران خان کی حکومت آئے اور وہ میڈیا کے کچھ اداروں پر پابندی عائد کردے تو شاید اس کے خلاف آواز بلند کرنے والے باقی نہ ہوں۔
اگر عوام کی اکثریت کی رائے جانی جائے تو شاید وہ سبسیڈی کے حامی ہوں بہرحال اگر میں اپنی ذاتی رائے کا اظہار کروں تو میں ہمیشہ سے سبسڈی کو غلط سمجھتا آیا ہوں اور اس کی وجہ صاف ظاہر ہے کہ سبسڈی دینے سے قومی خزانے کو نقصان ہوتا ہے۔ اب اگر پی ٹی آئی کی حکومت کی جانب سے دی جانے والی پیٹرول اور بجلی پر دی جانے والی سبسڈی پر اگرچہ عوام کی اکثریت خوش ہے لیکن میری رائے اس کے بر عکس تھی اور اس سلسلے میں پی ڈی ایم کے وہی لوگ جو پہلے مہنگائی کا رونا رو رہے تھے، وہ اب عوام کو بتا رہے ہیں کہ سبسڈی کتنی بری چیز ہے۔ اور جب ایسی صورتحال میں عمران خان یہ کہتے پائے جائیں کہ وہ روس سے تیس فیصد کم قیمت پر پیٹرول، گیس اور گندم کا معاہدہ کررہے تھے اور روس جانا ہی ان کی حکومت کے زوال کا سبب بنا اور اس معاہدے کے نتیجے میں عوام کو سستا پیٹرول، گندم اور بجلی دستیاب ہوتی اور حکومت کو سبسڈی بھی نہ دینی پڑتی تو پھر پی ڈی ایم کے لوگوں کے خلاف یہ رائے اور مضبوط ہو جاتی ہے کہ یہ لوگ کیونکہ امریکہ کے ایما پر حکومت میں آئے ہیں تو یہ لوگ کبھی بھی روس سے معاہدے نہیں کریں گے اور پھر ایسی صورتحال میں عوام کو پتا ہو کہ پاکستان میں بجلی کی پیداور پیٹرولیم مصنوعات سے کی جاتی ہے اور پھر عمران خان کی حکومت اور شہباز شریف کی حکومت میں یہ بنیادی فرق نظر آئے کہ عمران حکومت میں میں تو بجلی کا کوئی بحران نہ تھا جبکہ موجودہ حکومت کے آتے ہی ملک میں بجلی کا ایک بدترین بحران پیدا ہو جائے اور بحران اس نوعیت کا ہو کہ کراچی جیسے شہر میں روزانہ آٹھ سے دس گھنٹے بجلی غائب ہو اور عید کے دن بھی شہر کے اکثر علاقوں میں بجلی کی بندش ہو تو عوام میں پی ڈی ایم کے خلاف غم و غصہ میں اضافہ ہو جاتا ہے۔
اگر اداروں کی بات کی جائے تو بدقسمتی سے ہماری عدلیہ کی کارکردگی ماضی میں وہ نہیں رہی جس کی عوام اس سے توقع رکھتے تھے۔ مقدمات میں سالوں اور دہائیوں کی تاخیر پاکستان میں کوئی نئی بات نہیں۔ ایسی صورتحال میں عدالتوں کا اتوار والے دن اور رات کے بارہ بجے کھل جانا پاکستان کی عوام کے لیے ایک غیر معمولی سی بات ہے۔ اس کہ علاوہ لاہور ہائی کورٹ میں ان تمام مقدمات میں پھرتیاں جو مسلم لیگ نون نے دائر کیے ہوں اور پی ٹی آئی کی جانب سے دائر کیے گئے مقدمات کہ سرد مہری کی نظر ہو جانے سے عوام میں عدلیہ کے کردار کہ حوالے سے بات چیت کا باعث بنا۔ ایسی صورتحال میں عمران خان جب جلسے میں کھڑے ہوکر عدلیہ سے سوال کرتے ہیں کہ انہوں نے ایسا کیا جرم کیا تھا کہ جو عدالتیں رات بارہ بجے کھلیں تو لوگ ان کہ اس بیانیے کو بھی درست مان لیتے ہیں۔
اب اگر اسٹیبلشمنٹ کی بات کی جائے تو جو لوگ کل تک عمران خان کو اسٹیبلشمنٹ کا آلہ کار قرار دے رہے تھے اب ان پر الزام لگ دہے ہیں کہ وہ اسٹیبلشمنٹ کے کاندھوں پر سوار ہو کر آئے ہیں۔ ایک اور الزام جو عمران خان پر لگتا آیا وہ یہ تھا کہ وہ یہودی ایجنٹ ہیں لیکن انکا یہ بیانیہ کہ ان کے خلاف سازش کی گئی وہ عوام میں بہت تقویت پکڑ چکا ہے۔ اگرچہ زاتی طور پر میں سازش اور مداخلت کے فرق کا قائل ہوں لیکن نیشنل سیکیورٹی کمیٹی نے دو بار اس بات کی وضاحت کی کہ امریکہ کی طرف سے پاکستان میں مداخلت کی۔ ایسی صورتحال میں اگر آپ عوام کی رائے جاننا چاہیں تو اکثر لوگ تو سازش اور مداخلت کا فرق جاننا ہی نہیں چاہتے اور میرے جیسے وہ لوگ جو سازش اور مداخلت کے فرق کو سمجھتے ہوں وہ بھی اس بات کے قائل نہیں کہ ملکی معاملات میں غیر ملکی مداخلت برداشت کی جائے۔
اگر جمہوری روایات کی پاسداری کے بیانیے کی بات کی جائے تو پی ڈی ایم اس میں بھی واضح ناکام نظر آتی ہے وجہ صاف ظاہر ہے کہ بلاشبہ تحریک عدم اعتماد پاکستان کے آئین کا ایک جز ہے لیکن اسی آئین میں یہ بات واضح طور پر لکھی گئی ہے کہ کوئی ممبر اسمبلی اپنی جماعت کے خلاف عدم اعتماد میں ووٹ نہیں ڈال سکتا۔ لیکن اس معاملے میں واضح طور پر لوگوں کی وفاداریاں تبدیل کروائی گئی ہیں۔ اگر یہ مان بھی لیا جائے کہ وفاق میں منحرفین نے اپنی جماعت کے خلاف ووٹ نہیں ڈالا تب بھی پنجاب میں منحرفین کے بنا کوئی تبدیلی ممکن نہ تھی۔ لہذا پاکستان کی عوام کی اکثریت کی نگاہ میں عمران خان کا وہ بیانیہ درست ہے کہ اس سب کہ پیچھے پیسہ چلا ہے اور اس طرح سے پاکستان کی عوام کی ایک واضح اکثریت اس بات کو تسلیم کرنے کی قائل نہیں کہ موجودہ حکومت خاص طور پر پنجاب کی صوبائی حکومت کوئی جمہوری حکومت ہے کیونکہ پنجاب میں خاص طور سے پی ٹی آئی کے پچیس منحرف اراکین کے بنا حکومت بنانا ممکن نہیں تھا لہذا ووٹ کو عزت دو والا بیانیہ بھی دم توڑ چکا ہے۔ گویا یہ کہنا غلط نہ ہوگا کہ پی ڈی ایم میں شامل تمام سیاسی جماعتوں نے ان تمام توپوں کا رخ جن کا رخ شاید عام انتخابات میں عمران خان کی حکومت کی طرف ہوتا انہیں اپنی طرف موڑ لیا ہے اور یوں پی ڈی ایم میں شامل جماعتوں نے ایک طرح سے اجتماعی طور پر خو سوزی کر ڈالی ہے۔
لہذا یہ کہنا بالکل بھی غلط نہ ہوگا کہ اب اگر اس وقت پاکستان کی سیاست اور پاکستانی عوام کے آج کل کے مزاج کو کسی ایک صورتحال سے تشبیہہ دی جاسکتی ہے تو وہ نازی جرمنی سے پہلے کی ویمار ریپبلک ہے جو کہ ایک ایسی جمہوریت تھی کہ جس کو اس ملک کی ایک واضح اکثریت غیر ملکی سازش میں برابر کا شریک سمجھتے تھے اور اس وقت کی جرمن قوم نے ویمار ریپبلک کے بجائے ہٹلر کے بیانیے کو اپنایا اگرچہ انہیں اس معاملے میں جمہوریت کو ترک کر کے ایک آمر کی حکومت کو ترجیح دینا پڑی۔ آج پاکستان کی سیاست کا بھی یہی حال ہے کہ اگر اس وقت انتخابات کروائے جائیں تو عمران خان با آسانی اکثریت حاصل کرلیں گے۔ اگرچہ میری اس سلسلے میں یہ رائے بھی ہے کہ وہ اکثریت تو با آسانی حاصل کرسکتے ہیں لیکن پاکستان کی سیاست میں دو تہائی اکثریت حاصل کرنا بظاہر بہت مشکل کام ہے۔
عمران خان کی تحریک انصاف اس انتخاب میں دو تہائی اکثریت حاصل کرلے تو کم از کم میرے لیے یہ کوئی بہت زیادہ حیرانی کی بات نہ ہوگی۔ آپ اور میں عمران خان یا پی ڈی ایم کی سیاست سے اتفاق یا اختلاف بھی کرسکتے ہیں لیکن اگر اس وقت عوامی رائے عامہ کو دیکھا جائے تو اگرچہ عوام کی یہ رائے آج سے ایک مہینہ پہلے تک ہر گز بھی ایسی نہ تھی لیکن چاہے مجھے اور آپ کو یہ بات اچھی لگے یا بری، چاہے ہمیں لگے کہ یہ بات ملک و ملت کے لیے مفید ہے یا نقصان دہ لیکن اگر آج کے دن عوام کی رائے جاننے کی کوشس کی جائے تو وہ عمران خان کے ساتھ کھڑے ہیں۔ میری نظر میں عمران خان اس وقت اپنی مقبولیت کی اس انتہا پر ہیں کہ شاید اس وقت وہ اگر پاکستان میں موجودہ پارلیمانی نظام اور دستور کو لپیٹ کر صدارتی نظام اور ایک نیا دستور تشکیل دینے کی بات بھی کریں تو بھی ان کی مقبولیت میں کوئی فرق نہ پڑے گا۔
دیکھنا یہ ہے کہ چاہے آج یا ڈیڑھ سال بعد اگر عمران خان حکومت بنانے میں کامیاب ہو جاتے ہیں جو کہ عین ممکن ہے تو عمران خان دستور میں کس قسم کی اصلاحات کریں گے۔ اللہ تعالیٰ ہم سب کا حامی و ناصر ہو اور سیاست دانوں کو بہتر فیصلے کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔