اکیسویں صدی کا نواب سراج الدولہ ؟
- تحریر افضال ریحان
- بدھ 11 / مئ / 2022
درویش کی تمنا ہوتی ہے کہ جو لوگ حکومت سے نکالے جا چکے ہیں ان کا محاکمہ کرتے رہنے کی بجائے ایک پھیرا اس نئی عبوری شہباز حکومت پر بھی آئے۔ لیکن کیا کریں جناح ثانی یا کرکٹر صاحب اس کا موقع ہی نہیں آنے دے رہے۔
روز کوئی نہ کوئی نیا شگوفہ یا پھل جھڑی چھوڑ دیتا ہے کہ بندہ کیا کرے۔ نہ چاہتے ہوئے بھی ادھر متوجہ ہونا پڑتا ہے ۔ مہینے بھر سے آسمان سر پر اٹھائے دہائی ڈالی ہوئی تھی ’امریکی سازش، امریکی مراسلہ‘ میں دنیا کا اتنا بڑا لیڈر ہوں کہ عالمی سپرپاور میرے خلاف سازشیں کر رہی ہے۔ اس نے نور عالم سے لے کر جہانگیر ترین، علیم خاں اور راجہ ریاض تک ڈالروں کی بارش کر رکھی تھی ۔ سندھ ہاؤس پر برستے ہوئے ڈالروں کے یہ اولے آگے بڑھتے ہوئے براستہ کراچی کوئٹہ تک پہنچ گئے۔ اس لئے میرے پاکستانیو یہ امپورٹڈ حکومت نامنظور ہے۔ گھر کے ایک بھیدی نے اگرچہ بہت پہلے اصل راز کھلے بندوں فاش کر دیا تھا یہ کہتے ہوئے کہ ہماری حکومت تو طاقتوروں نےگرائی ہے، اگر وہ یہ سب نہ کرتے تو ہم آج بھی اسلام آباد کے اقتدار پر براجماں ہوتے۔ پوچھا گیا کہ آپ نے بگڑے ہوئے معاملات کو سنبھالنے کی کوشش کیوں نہ کی؟ تو جواب ملا کہ بہت کوشش کی بڑا زور لگایا مگر گھاؤ شاید اتنا شدید تھا کہ بھرا نہ جاسکا۔
وہ ایک محاورہ ہے کہ نادان دوست سے دانا دشمن بہتر ہوتا ہے۔ ہمارا گمان تھا کہ اس نادان دوست کی کھنچائی ہوگی کہ تو نے کیوں بھری بزم میں راز کی بات کہہ کر محنت سے گھڑے گئے جعلی بیانیے پر پانی پھیر دیا ہے۔ کھلاڑی کو منہ دکھانے کے قابل نہیں چھوڑا ہے لیکن یہاں تو الٹی گنگا نکلی۔ چھوٹا اناڑی رہا ایک طرف بڑا کھلاڑی سبحان اللہ۔ میڈیا کے سامنے سازشی تھیوری کے تمام تعویزوں کو بنی گالہ کے گڑھے میں ڈبوتے ہوئے کہا کہ اصل بات یہ تھی کہ وہ شخص جو میری حکومت کے کان اور آنکھ تھا یعنی جس کے سہارے میری حکومت بنی تھی یا چل رہی تھی جب اسی کا تبادلہ میری مرضی کے خلاف کہیں دور کر دیا گیا، اس کے بعد تو یہی کچھ ہونا تھا۔ ساتھ ہی یہ بھی کہہ دیا کہ مجھے تو اس ساری سکیم کا علم پچھلے سال جولائی سے تھا، جب ن لیگ والے اس کی تیاریاں کر رہے تھے۔ اسی لئے میں چاہتا تھا کہ ان سکیموں کو ناکام بنانے کیلئے ’’وہ‘‘ میرے پاس رہے ۔
ماشااللہ کیا سچائی ہے، آئین قانون جائے ہلدی لینے، کس محکمے یا اس کے ملازم کی آئینی حدود کیا ہیں جائیں بھاڑ میں، کھلاڑی نے کوئی لگی لپٹی نہیں رہنے دی۔ درویش اس پر کالم لکھنا چاہتا تھا کہ سازشی بلی تھیلے سے باہر آ گئی۔ مگر نہیں اس میں ہنوز کچھ کسر رہتی تھی جو ایبٹ آباد کے عوامی جلسے میں پوری کر دی گئی ۔ مہینے بھر سے میر جعفر کی جو رٹ لگا رکھی تھی اس جلسے میں اس کی پوری وضاحت و صراحت فرما دی تاکہ کوئی کسر نہ رہ جائے اور سند رہے یہ کہ بنگال کے نواب سراج الدولہ کا میر جعفر کون تھا ؟ وہ تو اس کا اپنا کمانڈر انچیف یا سپہ سالار تھا جو اندر خانے اس کے دشمنوں سے ملا ہوا تھا۔ وہ اس کا غدار تھا ۔ اس اشتعال انگیزی و زبان درازی کے خلاف برہمی تو ہونی ہی تھی، فوری جواب آیا کہ فوج کو سب سے یہ توقع ہے کہ وہ قانون کی پاسداری کریں گے اور ہمیں ملک کے بہترین مفاد میں سیاست کے اندر نہ گھسیٹیں۔ مسلح افواج اور اس کی قیادت کے بارے میں جو غلط باتیں کی جا رہی ہیں یہ انتہائی نقصان دہ ہیں۔ ادارے کا سیاست سے کوئی تعلق نہیں ہے۔ عوامی فورمز اور سوشل میڈیا سمیت مختلف پلیٹ فارمز پر ایسے ہتک آمیز غیر ذمہ دارانہ بیانات روکے جائیں ۔
اس اشتعال انگیزی کے خلاف قومی اسمبلی میں قرار داد مذمت منظور کی گئی اور وزیر اعظم شہباز شریف نے کھل کر یہ کہا کہ سراج الدولہ اور میر جعفر کا نام لے کر جو مثال دی گئی ہے اس سے زیادہ کوئی بری حرکت نہیں ہوسکتی۔ قوم تقسیم در تقسیم ہو چکی ہے یہ زہر گھولا جا رہا ہے ان کی زبان نہ روکی تو ملک مزید تقسیم ہو جائے گا ۔ ادارے نے لاڈلے کو بچے کی طرح دودھ پلایا جتنی سپورٹ اس کو ملی اگر اتنی ہمیں ملتی تو ملک بلندیوں پر پہنچ جاتا ۔
سابق صدر زرداری نے کہا کہ یہ شخص جس نہج پر جا رہا ہے اس سے ملک توڑنے کی بو آ رہی ہے۔ اس ہرزہ سرائی کے پیچھے مبینہ کرپشن کیسز اور فارن فنڈنگ کیس کا خوف ہے۔ جب ہر طرف احتجاج ہوا تو اس کے علاوہ کوئی راہ نہ رہی کہ یوٹرن لیتے ہوئے شریف برادران کو ان خطابات سے نوازا جائے۔ خاص طور پر چھوٹے میاں کو بھکاری ، بزدل، غلام ، چور اور ڈاکو جیسے القابات عنایت فرماتے ہوئے۔ ساتھ ہی جوڈیشری ، میڈیا اور الیکشن کمیشن کو بھی سازشی قرار دے ڈالا جبکہ سپریم کورٹ کے چیف جسٹس پیہم وضاحتیں فرما رہے ہیں کہ آئین کے کسٹوڈین کی حیثیت سے ہمیں موجودہ ہی نہیں آنے والی نسلوں کا بھی سوچنا ہے۔ آئین کا تحفظ ہمارا فرض ہے ازخود نوٹس بھی بارہ ججز نے باہمی مشاورت سے لیا۔ اس کے باوجود کرکٹر صاحب مصر ہیں کہ آدھی رات کو عدالتیں کیوں لگیں۔
اپنے پریشر گروپ کو بکھرنے سے بچانے کیلئے ہر روز جھوٹ پر مبنی نئی سے نئی امیدیں دلائی جاتی ہیں یہ حکومت تو بس چند ہفتوں کی مار ہے۔ ہم نے نومبر سے پہلے پہلے بہرصورت اقتدار میں واپس آنا ہے۔ کوئی بھلامانس پوچھے کہ حضور کیسے واپس آنا ہے ؟ الیکشن کے ذریعے، کیا گارنٹی ہے کہ الیکشن میں تم لوگ ہی جیتو گے؟ نہیں نہیں اس مرتبہ ہم ٹو تھرڈ میجارٹی سے آئیں گے وہ کیسے ؟ جب اتنی ماورائی طاقتوں کی بھاری سپورٹ حاصل تھی، تب پوری زور آزمائی کے باوجود سادہ اکثریت حاصل کرنے سے قاصر رہ گئے، اب جب کان اور آنکھیں بھی جواب دے گئی ہیں تب یہ بڑھکیں کیسی ؟ فرض کیا اگر تم لوگ الیکشن ہار گئے تو پھر کیا کرو گے ؟ پھر ہم نتائج تسلیم نہیں کریں گے احتجاجی دھرنوں کا نیا سلسلہ شروع کر دیں گے۔
ماشااللہ یہ ہیں عزائم جس کو دودھ پلا پلا کر اتنا لاڈلا رکھا ہو، ایک دن وہی ایسے لچھن دکھاتے ہوئے سامنے آتا ہے ۔ پورا میڈیا اور قوم کے سنجیدہ طبقات حیران و پریشان ہیں کہ ایسی اشتعال انگیزی و الزامات تراشی تو کبھی ان لوگوں نے بھی نہیں کی ہے جنہیں صریحی آئین شکنی کرتے ہوئے ایوان اقتدار سے نکالا جاتا رہا۔ آپ لوگوں کے ساتھ جو کچھ ہوا ہے وہ کیسے آئین کے مطابق نہیں ہے ؟ آئین و جمہوریت کی رو سے تحریک عدم اعتماد کیا اپوزیشن کا حق نہیں ہے ؟ اگر آپ کی اپنی پارٹی کے باضمیر لوگ آپ کی حرکات سے متنفر ہو کر الگ کھڑے ہوئے ہیں تو اس میں کسی دوسرے کا کیا قصور ہے۔ اور پھر جن 174اراکین اسمبلی نے اپنے ووٹ کی طاقت سے آپ کو آؤٹ کیا ہے، کم از کم ان میں تو آپ کی پارٹی کا کوئی ایک ممبر بھی نہیں تھا ۔
ان حالات میں آئینی و جمہوری طور پر برسراقتدار آنے والی حکومت اورتمام اداروں کا فرض بنتا ہے کہ جن لوگوں نے آئین شکنی کی ہے، انہیں کٹہرے میں لانے کا اہتمام کریں اور اکیسویں صدی کا نواب سراج الدولہ بھی پیہم جھوٹوں اور الزام تراشیوں پر مصر رہنے کی بجئے اس نقطے پر غور کرے کہ میر جعفر اس سے کیوں دور ہوا