پاکستان اور امریکا کے درمیان سیکیورٹی امور پر مذاکرات
امریکی اور پاکستانی وزرائے خارجہ کی نیویارک میں ملاقات سے چند روز قبل دونوں ممالک نے واشنگٹن میں سیکیورٹی امور پر مذاکرات مکمل کئے ہیں۔
پاکستان کے خفیہ ادارے انٹر سروس انٹیلی جنس (آئی ایس آئی) کے ڈائریکٹر جنرل ندیم انجم نے رواں ہفتے واشنگٹن میں 3 روز گزارے جہاں انہوں نے امریکی قومی سلامتی کے مشیر جیک سلیوان اور سی آئی اے ڈائریکٹر ولیم جے برنس سے ملاقات کی۔ دونوں ممالک نے تاحال ملاقات کی تفصیلات جاری نہیں کیں مگر خیال کیا جا رہا ہے کہ ملاقات میں بات چیت کا مزکر دو طرفہ سیکیورٹی خدشات اور افغانستان کے حالات تھے کیونکہ امریکا کا یہ ماننا ہے کہ افغانستان کو مستحکم کرنے میں پاکستان مدد کر سکتا ہے۔
دونوں ممالک کے درمیان سیکیورٹی امور پر آخری ملاقات جولائی 2021 میں ہوئی تھی، جب اس وقت کے قومی سلامتی کے مشیر معید یوسف نے جیک سلیوان سے وائٹ ہاؤس میں ملاقات کی تھی۔ پاکستانی وفد میں آئی ایس آئی کے سابق سربراہ لیفٹیننٹ جنرل فیض حمید بھی شامل تھے۔ بعد ازاں جیک سلیوان نے اپنے ٹوئٹر اکاؤنٹ پر جاری بیان میں کہا تھا کہ ان کی بات چیت کا مرکز ’علاقائی روابط، سلامتی اور افغانستان میں تشدد میں کمی کی فوری ضرورت‘ سے متعلق تھا۔
آئی ایس آئی کے موجودہ سربراہ کا دورہ، پاکستان اور امریکا کے تعلقات میں غیرمعمولی بگاڑ کے بعد ہوا ہے جس کی وجہ سابق وزیر اعظم عمران خان کا یہ دعویٰ ہے کہ واشنگٹن نے اپوزیشن رہنماؤں کے ساتھ مل کر ان کی حکومت گرانے کی سازش کی۔ ترجمان امریکی محکمہ خارجہ نیڈ پرائس نے ایک پریس بریفنگ کے دوران سابق وزیر اعظم عمران خان کے دعوے کو ’قیاس آرائیاں اور جھوٹ‘ قرار دیا تھا۔ انہوں نے پاکستان کی ساتھ تعلق کی اہمیت پر زور دیتے ہوئے کہا کہ امریکا پاکستان کے ساتھ اپنے دوطرفہ تعلقات کی راہ میں ’جھوٹ‘ کو حائل نہیں ہونے دے گا۔
انہوں نے سابق وزیر اعظم عمران خان کے دعوے سے متعلق جواب دیتے ہوئے کہا کہ ہم پروپیگنڈا، غلط معلومات اور جھوٹ کو پاکستان سمیت کسی بھی ملک کے ساتھ ہمارے دو طرفہ تعلقات کی راہ میں حائل نہیں ہونے دیں گے۔