ایف آئی اے نے منی لانڈرنگ کیس میں شہباز شریف، حمزہ شہباز کےخلاف مقدمہ کی پیروی نہیں کرے گی

  • جمعرات 12 / مئ / 2022

لاہور کی خصوصی عدالت کی جانب سے 16 ارب روپے کی منی لانڈرنگ کیس میں وزیر اعظم شہباز شریف اور وزیر اعلیٰ پنجاب حمزہ شہباز کے خلاف فرد جرم عائد ہونے سے 3 روز قبل وفاقی تحقیقاتی ایجنسی  نے ٹرائل نہ کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔

عدالت میں جمع کرائی گئی تحریری درخواست کے مطابق ایف آئی اے کے ڈائریکٹر جنرل (ڈی جی) نے تفتیشی افسر کے توسط سے اسپیشل پراسیکیوٹر سکندر ذوالقرنین سلیم سے کہا ہے کہ وہ عدالت میں پیش نہ ہوں کیونکہ اس مقدمے کے ملزمان پاکستان کے وزیراعظم اور وزیر اعلیٰ پنجاب ہیں۔

درخواست میں کہا گیا ہے کہ متعلقہ حلقوں کو ملزمان کے خلاف قانونی چارہ جوئی میں دلچسپی نہیں ہے۔ درخواست کی گئی کہ ان ہدایات کو کیس ریکارڈ کا حصہ بنایا جائے۔ ایف آئی اے نے نومبر 2020 میں وزیر اعظم شہباز شریف اور ان کے بیٹوں حمزہ اور سلیمان کے خلاف انسداد بدعنوانی ایکٹ کی دفعہ 419، 420، 468، 471، 34 اور 109 اور اینٹی منی لانڈرنگ ایکٹ 3/4 کے تحت مقدمہ درج کیا تھا۔ کیس میں مفرور سلیمان شہباز برطانیہ میں موجود ہیں۔

انسداد بدعنوانی ایکٹ کی دفعہ 5 (2) اور 5 (3) (مجرمانہ بدانتظامی) کے تحت 14 دیگر افراد کو بھی ایف آئی آر میں نامزد کیا گیا تھا۔ خصوصی عدالت نے 27 جنوری کو اس مقدمے میں شہباز شریف اور حمزہ شہباز کی ضمانت قبل از گرفتاری منظور کی تھی۔

ایف آئی اے کی جانب سے کل درخواست جمع کرانے کے بعد عدالت نے درخواست کو ریکارڈ پر لے لیا اور اسے کیس کے ساتھ منسلک کردیا۔ دریں اثنا سکندر ذوالقرنین سلیم نے کہا کہ استغاثہ کو کیس میں پیش ہونے سے روک دیا گیا ہے کیونکہ شہباز شریف اور حمزہ شہباز نے اب عوامی عہدہ سنبھال لیا ہے۔

واضح رہے کہ یہ اقدام عدالت کی جانب سے وزیر اعظم اور وزیر اعلیٰ پنجاب پر 14 مئی کو فرد جرم عائد ہونے سے محض 3 روز قبل سامنے آیا ہے۔ گزشتہ سماعت کے دوران عدالت نے وزیر اعظم اور دیگر کو ہدایت کی تھی کہ وہ اگلی سماعت پر حاضری یقینی بنائیں کیونکہ سماعت مزید ملتوی نہیں کی جائے گی۔

تحریری حکم نامے میں کہا گیا تھا کہ یہ واضح کیا جاتا ہے کہ سماعت کی اگلی تاریخ پر فرد جرم عائد کی جائے گی اور تمام ملزمان اپنی حاضری کو یقینی بنائیں گے۔