یہ ملک ایسے ہی چلتا رہے گا؟

کہتے ہیں کہ ایک محفل جس میں فیض احمد فیض بھی موجود تھے، باتیں ہو رہی تھیں کہ اس ملک کا مستقبل کیا ہوگا؟

کسی نے کہا انارکی ہو جائے گی، کسی کے خیال میں بڑے پیمانے پر خون خرابہ ہوگا اور کچھ نے ملک کے مزید ٹوٹ جانے کا خدشہ بھی ظاہر کیا۔ ایسے میں فیض صاحب کی رائے پوچھی گئی تو انہوں نے اپنے مخصوص انداز میں کہا کہ "بھئی! میرے خیال میں اس سے بھی برا ہوگا"۔ سب نے حیران ہو کر پوچھا کہ وہ کیسے؟ فیض صاحب نے جواب دیا کہ "مجھے ڈر ہے کہ یہ ملک ایسے ہی چلتا رہے گا۔" آج فیض صاحب کو رخصت ہوئے 38برس ہونے کو ہیں لیکن یہ ملک اسی طرح چل رہا ہے جس کا خدشہ فیض صاحب نے ظاہر کیا تھا۔

کہتے ہیں قوموں کی زندگی میں آزادی کے پہلے پچاس سال بڑے اہم ہوتے ہیں۔ جن قوموں نے ترقی کرنی ہو، وہ یا تو پہلے پچاس سال میں ترقی کی شاہراہ پر گامزن ہو جاتی ہیں یا پھر کم ازکم وہ روڑ میپ ضرور بنا لیتی ہیں جو انہیں ترقی و خوش حالی کی منزل پر چند سالوں میں لے جانے میں معاون ومددگار ثابت ہوتاہے لیکن بدقسمتی سے ہم آزادی کے پچھتر سالوں بعد بھی سماجی ومعاشی ترقی کا روڑ میپ ہی نہیں بنا سکے۔

 زیادہ پیچھے نہ جائیں فیض صاحب کی رخصتی کے بعد کے 38سالوں پر سرسری نگاہ دوڑا کے دیکھ لیں تو پتہ چل جائے گا کہ ہم ترقی کی شاہراہ پر گامزن ہونے کی بجائے دائرے میں چکر لگائے جا رہے ہیں۔ ضیاء آمریت کے سیاہ بادل چھٹنے کے بعد جمہوری و عوامی حلقوں کو توقع تو یہی تھی کہ اب ملک کسی اور مطلق العنان آمر یت کی بھینٹ نہیں چڑھے گا لیکن ملک میں جمہوری نظام حکومت محض 11برس ہی چل پایا تھا کہ اگلے نو سال کے لیے ایک اور آمریت مسلط کر دی گئی۔ 1988 سے لے کر1999کے گیارہ سالوں میں چار منتخب حکومتوں کو قبل از وقت ختم کر واکے سیاست کو گالی اور سیاستدانوں کو کرپٹ قرار دلوایا گیا۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ اس عرصے میں قائم ہونے والی حکومتوں نے محاذ آرائی اور الزامات پر مبنی منفی سیاست بھی کی لیکن 58ٹوبی کے آمرانہ کلہاڑے سے منتخب حکومتوں کو قبل از وقت گھر بھیجنا سیاسی حکومتوں کی منفی سیاست اور نااہلی سے بھی بڑا جرم ٹھہرتا ہے۔

88سے لے کر96تک بظاہر تو پارلیمانی جمہوری نظام کے تحت حکومتیں چلائی جاتی رہیں لیکن جاننے والے بخوبی جانتے ہیں کہ اس عرصے میں مقتدر حلقوں نے 58ٹوبی کے زریعے کنڑولڈ جمہوریت کا کامیاب تجربہ کیا۔1997میں نواز شریف نے تیرہویں ترمیم کے زریعے 58ٹوبی کا خاتمہ کرتے ہوئے 73کے آئین کی پارلیمانی شکل کو کافی حد تک بحال کر دیا لیکن  مشرف مارشل لاء کے دوران پاس ہونے والی سترہویں ترمیم نے صدر پاکستان کے اختیارات کو جزوی طور پر بحال کر دیا۔ اگرچہ2010میں آصف علی زرداری نے اٹھارویں ترمیم کے زریعے صدر کے پاس تمام ایگزیکٹیو اختیارات پارلیمان کو دے دیے لیکن ملک کے سیاسی و انتخابی نظام پر مقتدر حلقوں کی گرفت بدستور مضبوط رہی۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ اٹھارویں ترمیم پاکستان کی آئینی اور جمہوری تاریخ میں آگے کی سمت ایک بہت بڑا قدم تھا۔

2008اور2013میں بننے والی حکومتوں کے یکے بعد دیگرے اپنی اپنی مدت پوری کرنے کے بعد اس تاثر کو تقویت ملی کہ اب کم ازکم ہر حکومت اپنی مدت ضرور پوری کرے گی لیکن اپریل2022میں عدم اعتماد کے زریعے عمران حکومت کے خاتمے کے بعد لگتا ایسا ہے کہ ہم تھوڑا عرصہ قدرے بہتر انداز میں آگے کی سمت میں چلنے کے بعد پھر سے نوے کی دہائی کے محاذ آرائی پر مبنی سیاسی ماحول میں پہنچ گئے ہیں۔ فرق صرف اتنا ہے کہ نوے کی دہائی میں اس وقت کی دونوں بڑی سیاسی جماعتوں کو آپس میں گتھم گتھا رکھنے کا ماحول بنایا گیا تھا جب کہ آج ایک تیسری بڑی سیاسی جماعت کو ان دونوں جماعتوں سے الجھا دیا گیا ہے۔  ہوا دراصل یہ ہے کہ جب نوے کی دہائی میں ایک دوسرے سے برسرپیکار رہنے والی جماعتوں نے ماضی سے سیکھتے ہوئے ایک دوسرے کے خلاف استعمال نہ ہونے اور ایک دوسرے کی حکومت نہ گرانے کا مصمم ارادہ کر لیا تو نوے کی دہائی کی سیاست کو زندہ کرنے کے لیے ایک تیسری جماعت کو آگے لایا گیا۔ 2008اور 2013میں بننے والی پیپلز پارٹی اور (ن) لیگ کی حکومتوں نے اگر اپنی اپنی مدت پوری کی تو اس میں سب سے اہم کردار ان حکومتوں میں حزب اختلاف کی سیاسی جماعت کا ہی تھا۔ پیپلز پارٹی کی حکومت کے برعکس (ن) لیگ حکومت کے گرائے جانے کے واضح امکانات تھے لیکن تمام تر احتجاجی مظاہروں اور دھرنوں کے باوجود اگر (ن) لیگ حکومت نے مدت پوری کی تو اس کا کریڈٹ پیپلز پارٹی کی ذمہ دارانہ اپوزیشن کو جاتا ہے۔

اگرچہ عمران حکومت کو آئینی طریقے سے ہٹایا گیاہے لیکن زیادہ بہتر یہی ہوتا کہ سابقہ دو حکومتوں کی طرح ان کی حکومت بھی اپنی مدت پوری کر تی۔ عمران خان کو یقین تھا کہ وہ پانچ سالہ آئینی مدت پوری کرنے والے ملک کے پہلے وزیراعظم کا اعزاز حاصل کریں گے لیکن وہ عدم اعتماد کے زریعے ہٹائے جانے والے ملکی تاریخ کے پہلے وزیراعظم بن گئے۔ عمران خان کا غصہ سمجھ میں آتا ہے لیکن جس طرح کا جارحانہ ردعمل وہ دے رہے ہیں وہ ملکی مفاد میں نہیں۔ عمران خان کو سمجھنا ہوگا کہ ان کے سیاسی حریفوں نے انہیں سیاسی داؤ پیچ استعمال کرتے ہوئے اقتدار سے الگ کیا ہے۔ ہماری سیاست میں وفا داریاں تبدیل کرنا یا  سیاسی لابنگ کے زریعے سیاسی حریف کے ووٹرز کواپنی طرف کرنا کوئی نئی بات نہیں۔ خود عمران خان کی حکومت جہانگیر ترین کے جہاز اڑنے کی وجہ سے بنی۔ سابق صدر آصف علی زرداری کی جوڑ توڑکی سیاست مشہور رہی ہے اور عدم اعتماد کی کامیابی میں بھی سب سے اہم کردار زرداری صاحب کی جوڑ توڑ کی سیاست کا ہی ہاتھ ہے۔

عمران خان کا حکومت کو مفلوج کرنا ملکی مفاد میں نہیں ہے۔ ماہرین کے مطابق اگلے چھ ماہ میں ملکی معیشت کواستحکام دینے کے لیے اہم فیصلے نہ کیے گئے تو خدانخواستہ معیشت کا دیوالیہ بھی نکل سکتا ہے۔ محاذ آرائی کی بجائے افہام و تفہیم سے کام لیا جائے تو حکومت قبل از وقت انتخابات کرانے پر آمادہ ہو سکتی ہے۔ باقی عمران خان صاحب اگر ابھی بھی نومبر سے پہلے دوبارہ وزیراعظم کی کرسی پر براجمان ہونے کا ذہن بنائے بیٹھے ہیں تو یہ ان کی خام خیالی ہے۔ انتخابی اصلاحات کے بغیر انتخابات کا کوئی فائدہ نہیں اور اصلاحات میں تین سے چار ماہ لگ سکتے ہیں۔ معاشی بحران سے نکلنے کے لیے حکومت کوچار سے چھ ماہ یکسوئی سے کام کرنا پڑے گا اور اس عرصے میں کسی بھی جماعت کی طرف سے جلسے جلوس اور لانگ مارچ کی سیاست ملکی مفادکے خلاف ہی قرار پائے گی۔