سپریم کورٹ کی خلاف آئین رائے کیوں؟
- تحریر افضال ریحان
- بدھ 18 / مئ / 2022
قانون کا مسلمہ اصول ہے کہ کسی آئینی شق میں اگر ابہام ہو تو اس کی تشریح سپریم جوڈیشری کرے گی۔ واضح آئینی حکم یا ہدایت کو مروڑنے یا تبدیل کرنے کا حق سوائے پارلیمنٹ کے کسی کو بھی حاصل نہیں۔
مگر افسوس کہ یہاں اسی جمہوریہ پاکستان کی سپریم جوڈیشری میں آئین کی تشریح کے نام پر کون کون سی آئینی موشگافیاں بلکہ تباہ کاریاں ہیں جو روا نہیں رکھی گئیں۔ جو اختیار سپریم کورٹ کے فل بینچ کو حاصل نہیں تھا وہ اندھیر نگری میں ریوڑیاں بانٹنے کی طرح مختلف ادوار میں وارد ہونے والے ڈکٹیٹروں میں بے رحمی سے بانٹتے ہوئے حاتم طائی کی پیٹھ پر لاتیں ماری جاتی رہیں۔ ہماری آئینی و قانونی ہسٹری پر نظر رکھنے والے کسی بھی شخص کو کیا یہ یاد نہیں ہے کہ ایک آمر جنرل ضیاء کو آئین سے کھلواڑ کرنے کی خلعت فاخرانہ بخشنے والا ہمارا کون سا متبرک ادارہ تھا ؟ ماقبل جس شخص نے 58 کا پہلا مارشل لاء لاگو کیا اس کے سہولت کار کا رول کس نے ادا کیا؟ کس نے ہماری آئینی تاریخ پر سیاہی ملتے ہوئے نظریہ ضرورت ایجاد کیا ؟
آج لمبی چوڑی بڑھکیں ماری جاتی ہیں کہ ہم نے فلاں فیصلے سے اپنے نظریہ ضرورت کو ہمیشہ کیلئے دفن کر دیا ہے اگر حقائق کی روشنی میں پرکھیں تو سب جھوٹ ہے۔ جب بھی موقع آتا ہے یہ مردہ نظریہ پھر توانا ہو کر کھڑے ہو جاتا ہے۔ مشرف کی آئینی بغاوت پر اسے کئی سالوں پر محیط اقتدار کی آئینی سند تفویض کرنے والے دعوت و ارشاد اٹھائے، ہندوستان سے تو نہیں آئے تھے اسی سپریم جوڈیشری کے کرتا دھرتا عدل وانصاف کے علمبردار تھے۔
آج بتایا جا رہا ہے کہ پارٹی پالیسی سے انحراف یا اختلاف کینسرہے تو کیا یہ پوچھا جا سکتا ہے کہ اگر کسی پارٹی کا پورا سٹرکچر یا خمیر ہی ڈکٹیٹر شپ پر استوار ہو کیا وہ کینسر نہیں ہے ؟ ذرا جسٹس (ر) وجیہ الدین صاحب کو بلا کر اتنا پوچھ لیا ہوتا کہ جب تمہاری پارٹی میں اندرونی انتخاب کی بات ہوئی تھی تو تمہاری پارٹی قیادت نے آمریت کے کون کون سے خونخوار دانت نہیں دکھائے تھے۔ بالآخر تم کیوں پارٹی سے نکال کر باہر پھینک دیے گئے تھے ؟ پارٹی نظم کا احترام اپنی جگہ مگر پہلے اس امر کا تعین کیا جائے کہ ہماری ان پارٹیوں کے اپنے اندر جمہوریت کس حد تک ہے ؟ کیا یہاں پارٹی لیڈر اپنی پارٹی کو ایک ڈکٹیٹر کی طرح نہیں چلاتا ہے ؟ ایک سوشلسٹ یا کمیونسٹ پارٹی والا کیا کسی بھی جمہوری سماج میں قابل قبول ہو سکتا ہے ؟
یاد رہے کہ یہ افراد ہی ہوتے ہیں جو سیاسی پارٹیوں کو تشکیل دیتے ہیں اس لیے فرد کے شخصی حقوق کو کچلا نہیں جا سکتا ہر فرد ہے ملت کے مقدر کا ستارہ اسے پارٹی لیڈر کے جبر کی بھینٹ نہیں چڑھایا جا سکتا یہ جمہوریت کی روح کے خلاف ہے آئین اور جمہوریت منتخب نمائندے کے حقوق کی ضمانت دیتے ہیں وہ جب تک اسمبلی ممبر ہے اس کے ضمیر کی آواز پر قدغن نہیں لگائی جا سکتی۔ ایسی قدغن کا مطلب اس کے ووٹ یا ضمیر ہی کی توہین نہیں ہے، ان لاکھوں ووٹرز کی بھی توہین ہے جن کی وہ نمائندگی کر رہا ہے۔ اگر اس نے پارٹی ڈسپلن کو توڑتے ہوئے ووٹ کاسٹ کیا ہے تو اس کے خلاف کارروائی کا پورا شیڈول ہے جس میں اسے اپنی وضاحت و صفائی کے تین مواقع دیے گئے ہیں۔ پہلا پارٹی لیڈر کو، دوسرا الیکشن کمیشن کو اور تیسرا سپریم جوڈیشری کو۔ اس تمام تر آئینی پراسس کو سبوتاژ کرنے کا حق کسی ایک یا چند افراد کو حاصل نہیں ہے۔ اوریہ تو شدید آئینی جسارت ہے کہ جس فعل کا ارتکاب ہی نہیں ہوا اس کی محض مفروضے پر پیشگی سزا لاگو کر دی گئی ہے۔
پارلیمانی جمہوریت میں آئینی صدارتی عہدے پر فائز شخص کو کیا یہ حق حاصل ہے کہ وہ منتخب وزیر اعظم کی مشاورت کے علی الرغم یا بغیر یا اٹارنی جنرل کی مشاورت سے بالابالا کوئی ریفرنس تیار کرے اور جمہوری حکومت کے خلاف سازشوں میں ملوث پایا جائے؟ آخر دنیا کی کس پارلیمانی جمہوریت میں اسے روا رکھا جاتا ہے ؟ یہاں 63 اے کے تحت منتخب نمائندے کی خیانت کو اٹھایا جا رہا ہے کیا اس سے اوپر اٹھ کر اگر خود وزیر اعظم کی کارکردگی اور جھوٹوں پر مبنی خیانت کا ایشو اٹھایا جائے اور اس کی خیانت ثابت کی جائے تو اس کی بھی نااہلی کا ریفرنس بنے گا؟
کیا اس شخص نے قوم سے لمبے چوڑے وعدے نہیں کئے تھے ایک کروڑ نوکریوں اور پچاس لاکھ گھروں کی تعمیر سمیت معیشت کی بحالی و بہتری کے ایسے خواب نہیں دکھائے تھے کہ لوگ بیرون ملک سے نوکریاں لینے پاکستان آئیں گے۔ لیکن اس کا کیا دھرا پوری قوم کے سامنے ہے۔ ایک طرف کہا جاتا ہے کہ جس کو اپنے وعدے یا عہد کا پاس نہیں اس کا کوئی ایمان نہیں اور وہ خائن ہے۔ خیانت کا جو کوڑا منتخب ممبر پر برسایا جا رہا ہے، وہ لیڈر پر تو ایک سو بہتر بار برسایا جانا چاہئے۔ خدا کا شکر ہے جو پیہم رات بارہ بجے عدالتیں لگنے کے طعنے دے رہے تھے آج بھرے جلسوں میں مبارکبادیں پیش کرتے پائے جا رہے ہیں۔ حالانکہ ان شادمانیوں کے باوجود سپریم جوڈیشری کی اس متنازعہ یا منقسم رائے کا عملی فائدہ یا نقصان حکومت کو پہنچا ہے نہ سابقہ حکومت کے کنگ کو۔ اگلے آئینی پراسس میں وفاق کے علاوہ پنجاب حکومت کی اسمبلی میں موجود میجارٹی اسے جوں کی توں حاصل رہے گی۔
البتہ جن لوگوں نے ایسی غیر ذمہ دارانہ رائے صدر کو بھیجی ہے شاید انہیں ادراک نہیں کہ انہوں نے آئین میں موجود اپوزیشن کے آئینی و قانونی حق عدم اعتماد کو کچل کر رکھ دیا ہے، یہ اتنی بڑی جسارت ہے جو آئین اور پارلیمنٹ کی روح کے خلاف ہے۔