امریکہ سے تجارت پر یقین رکھتے ہیں، بھیک مانگنے پر نہیں: بلاول بھٹو

  • جمعرات 19 / مئ / 2022

پاکستان کے وزیرِ خارجہ بلاول بھٹو زرداری نے کہا ہے کہ وہ پاکستان میں امریکہ کے خلاف نفرت پھیلانے والوں کے دباؤ میں نہیں آئیں گے۔  پاکستان امریکہ سے بھیک مانگنے کے بجائے تجارت پر یقین رکھتا ہے۔

وزیر خارجہ بلاول بھٹو زرداری تین روزہ دورے پر امریکہ میں ہیں جہاں انہوں نے بدھ کو اقوام متحدہ کے نیویارک ہیڈ کوارٹرز میں عالمی تحفظ خوراک پر ہونے والے بین الاقوامی وزارتی اجلا س میں شرکت کی اور امریکہ وزیرخارجہ اینٹنی بلنکن سےخصوصی ملاقات کی ۔

وائس آف امریکہ سے خصوصی گفتگو کرتے ہوئے بلاول بھٹو کا کہنا تھا کہ وہ امریکہ کے ساتھ دو طرفہ تجارتی تعلقات کافروغ چاہتے ہیں۔ وہ چاہتے ہیں کہ پاکستان نے دہشت گردی کے خلاف جو کامیابیاں حاصل کی ہیں، فنانشل ایکشن ٹاسک فورس  کی شرائط کو جس طرح پورا کیا ہے، دنیا اسے تسلیم کرے۔

امریکہ کی جانب سے پاکستان کو مشکل حالات میں کوئی بیل آؤٹ پیکج دیے جانے سےمتعلق سوال پر بلاول نے کہا کہ ہمارا نظریہ ہے کہ امریکہ کے ساتھ تعلقات میں تجارت کو امداد پر فوقیت دی جائے۔ ہم تجارت پر یقین رکھتے ہیں، بھیک پر نہیں۔

امریکی وزیرخارجہ اینٹنی بلنکن کے ساتھ تقریباً 45 منٹ تک جاری رہنے والی ملاقات کے بارے میں بلاول بھٹو نے بتایا کہ یہ ملاقات بہت اچھی رہی۔ ان کے بقول ملاقات میں انہوں نے باہمی تجارت پر زور دیا اور کہا کہ اس میں امریکی شہری ہو یا پاکستانی شہری، دونوں طرف کے شہریوں کو اس سے فائدہ پہنچے گا۔

بلاول بھٹو زرداری کے بقول امریکہ آنے سے قبل یہ واضح کر دیا تھا کہ تجارت کو امداد پر فوقیت دینا ہماری حکمت عملی ہے۔ اس پس منظر میں ہماری بات چیت ہوئی ۔ اب چاہے وہ زرعی شعبہ ہو یا توانائی کا، ٹیکنالوجی کا شعبہ ہو یا طب کا، ہر شعبے میں ہم تعلقات میں بہتری لانے کی امید رکھتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان امریکہ تعلقات میں جتنی وسعت ہونی چاہیے تھی وہ اب تک نہیں ہو سکی ہے۔ اس کی وجہ واقعات کے گرد گھومنے والا محدود رابطہ ہے۔

وزیر خارجہ کا کہنا تھا کہ امریکہ میں مقیم پاکستانی کمیونٹی کو پاکستان میں سرمایہ کاری پر راغب کرنے اور پاکستانی انٹرپرینیورز کی امریکی منڈیوں تک رسائی کی بہت گنجائش موجود ہے۔ یہ امریکہ اور پاکستان دونوں کے مفاد میں ہے۔ پاکستان نے دہشت گردی کے خلاف جنگ میں جس طرح کی کامیابیاں حاصل کی ہیں اور جس طرح ایف اے ٹی ایف کی شرائط کو پاکستان نے پورا کیا ہے، اس کے بعد امید ہے کہ دنیا ان کامیابیوں کو تسلیم کرے گی۔

خیال رہے کہ ایف اے ٹی ایف نے گزشتہ کئی برس سے پاکستان کو گرے لسٹ میں رکھا ہوا ہے۔ تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ اس لسٹ میں درجہ بندی میں بہتری غیرملکی سرمایہ کاری پاکستان لانے میں مدد گار ثابت ہو گی۔

دوران گفتگو اس سوال کے جواب میں کہ آیا پاکستان میں مخصوص سیاسی حالات میں امریکہ مخالف جذبات نے اسلام آباد اور واشنگٹن کے تعلقات پر اثرات چھوڑے ہیں؟ بلاول بھٹو زرداری نے سابق وزیراعظم عمران خان کا نام لیے بغیر کہا کہ پاکستان میں امریکہ مخالف نعرے اور امریکہ مخالف جذبات کو پھیلایا جا رہا ہے لیکن وہ پاکستانی عوام کے مفادات کا تحفظ کریں گے۔ ہمارا مقصد پاکستان کے عوام کو فائدہ پہنچانا ہے۔ نہ کل کسی کے دباؤ میں آئے تھے اور نہ آئندہ آئیں گے۔ ان کے بقول سفارت کاری ایک الگ طریقہ کار ہے، یہ ایک ہنر ہے جس میں محنت کرنا پڑتی ہے۔

واضح رہے کہ پاکستان کے سابق وزیراعظم عمران خان یہ الزام لگاتے ہیں کہ ان کی حکومت امریکی مداخلت پر ختم کی گئی ۔ اس بارے میں وہ ایک خط کا بھی حوالہ دیتے رہے ہیں۔ البتہ سیاسی جماعتیں ان کے اس مؤقف کو مسترد کرتی ہیں۔

وزیر خارجہ نے کہا کہ پاکستان افغانستان میں استحکام اور امن کے لیے اپنا کردار ادا کر رہا ہے۔ روس اور یوکرین کے تنازع پر بلاول بھٹو زرداری نے بتایا کہ تنازعے کا اثر غذائی قلت پر ضرور ہوا ہے اور پاکستان جیسے ملک پہلے ہی سے خوراک کے حوالے سے عدم تحفظ کا شکار تھے۔

پاکستان میں پانی، بجلی اور توانائی کا بحران ایک حقیقت ہے۔ البتہ یوکرین بحران کی وجہ سے گندم اور یوریا کا بحران پیدا ہوا ہے لیکن پاکستان یہ مسائل پہلے بھی دیکھ رہا تھا۔ فوڈ سیکیورٹی ایک مسئلہ ہے جس کی بہت سی وجوہات ہیں جیسے کووڈ 19جیسی عالمی وبا یا موسمیاتی تغیر۔ لیکن اگر ہم تنازعات اور جنگوں میں گھرے ہوں گے تو ہماری توجہ بنیادی مسائل سے ہٹ جائے گی۔

بلاول بھٹو نے کہا کہ یوکرین روس تنازعے کے حل کے لیے مذاکرات اور سفارت کاری کو موقع دیا جائے۔ اس جنگ کو ہمیں امن کی طرف لے جانا چاہیے تاکہ ہماری توجہ مل کر موسمیاتی تغیر جیسے چیلنجز اور دیگر اجتماعی مسائل کا مقابلہ کرنے پر ہو۔

اپنی گفتگو کے اختتام پر جب بلاول بھٹو زرداری سے قریب کھڑے کچھ روسی صحافیوں نے پوچھا کہ کیا آپ روس کا دورہ کرنا چاہیں گے تو وہ مسکرادیے اور کہا کہ وہ اس سے پہلے کبھی ماسکو یا روس نہیں گئے ۔ لیکن اگر وہاں جانے کا موقع آیا تو ضرور جائیں گے۔