عمران خان کا دورۂ ماسکو پاکستان کی خارجہ پالیسی کے مطابق تھا: بلاول بھٹو

  • جمعہ 20 / مئ / 2022

وزیر خارجہ بلاول بھٹو زرداری نے عمران خان کے دورۂ ماسکو کا بھرپور دفاع کرتے ہوئے کہا ہے کہ سابق وزیراعظم کے پاس یہ جاننے کا کوئی طریقہ نہیں تھا کہ جس دن وہ روس کے دارالحکومت پہنچیں گے روس یوکرین پر حملہ کر دے گا۔

 وزیر خارجہ نے یہ ریمارکس اقوام متحدہ کے ہیڈکوارٹرز میں ایک نیوز بریفنگ کے دوران دیے۔  ایک صحافی نے عمران خان کے 24 فروری کو ماسکو کے دورے کی طرف ان کی توجہ مبذول کرائی اور پوچھا کہ نئی حکومت اپنے پیشروؤں کی 'غلطیوں' کو کیسے سدھارے گی۔

بلاول بھٹو زرداری نے کہا کہ جہاں تک سابق وزیراعظم کے دورۂ روس کا تعلق ہے، میں پاکستان کے سابق وزیراعظم کا مکمل دفاع کروں گا۔ انہوں نے یہ دورہ اپنی خارجہ پالیسی کے حصے کے طور پر کیا، کسی کے پاس چھٹی حس نہیں ہے اور ایسا کوئی طریقہ نہیں ہے جس سے ہم یہ جان سکتے ہوں کہ یہ وہ وقت ہوگا جب  تنازع شروع ہوگا۔

انہوں نے کہا کہ میں سمجھتا ہوں کہ پاکستان کو اس طرح کے اقدام کی سزا دینا انتہائی غیر منصفانہ ہے۔ پاکستان بالکل واضح ہے کہ اسے اس معاملے پر اقوام متحدہ کے اصولوں پر قائم رہنا ہے، ہم کسی تنازع کا حصہ نہیں بننا چاہتے، درحقیقت ہم امن کی اہمیت پر زور دیتے رہیں گے ۔ ہم اس تنازع کو جلد از جلد حل کرنے کے لیے بات چیت اور سفارت کاری کی اہمیت پر زور دیتے رہیں گے۔ ہم یقینی طور پر اس تناظر میں کسی بھی حملہ آور کا ساتھ نہیں دیں گے۔

صحافی نے پوچھا کہ کیا یہ صرف 'ایک دفعہ کی رعایت' ہے یا موجودہ حکومت اپنے پیشروؤں کا ہر پہلو سے دفاع کرے گی؟ بلاول بھٹو زرداری نے کہا کہ جہاں تک سابق وزیر اعظم کا تعلق ہے میں ان کی سیاست کا دفاع نہیں کر سکتا۔ میں ان کے منشور کا دفاع نہیں کر سکتا، میں ان کی حکومت کا دفاع نہیں کر سکتا لیکن ایسے مواقع ہیں جہاں وہ گزشتہ حکمران کا دفاع کریں گے۔

ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ وزیر اعظم کی حیثیت سے انہوں نے خارجہ پالیسی میں جس طرح سے خود عمل کیا خاص طور پر اس روسی دورے کے تناظر میں، میں اس حقیقت کا دفاع کروں گا کہ وہ نہیں جانتے تھے کہ یوکرین کا تنازع اسی دن شروع ہو جائے گا جب وہ وہاں گئے۔

وائس آف امریکا کو دیے گئے ایک انٹرویو میں امریکی وزیر خارجہ انٹونی بلنکن کے ساتھ اپنی ملاقات کے بارے میں بات کرتے ہوئے بلاول بھٹو زرداری نے کہا کہ انہوں نے امریکہ کو بتایا کہ پاکستان تجارتی اور اقتصادی تعلقات پر یقین رکھتا ہے بھیک پر نہیں۔ بلاول بھٹو زرداری نے کہا کہ انٹونی بلنکن کے ساتھ ان کی ملاقات کا پیغام واضح تھا کہ ہم معیشت، سرمایہ کاری اور علاقائی سلامتی کے شعبوں میں دو طرفہ تعلقات کو مضبوط بنانا چاہتے ہیں۔

جمعرات کو انہوں نے ایک طاقتور ریپبلکن سینیٹر لنڈسے گراہم سے بات کی۔ انہوں نے ایک ٹویٹ میں لکھا کہ ہم نے اتفاق کیا کہ امریکا اور پاکستان کے وسیع البنیاد تعلقات، خاص طور پر اقتصادی اور تجارتی شعبوں میں اہم ہیں۔ انہوں نے دو دیگر اہم قانون سازوں، نمائندوں امی بیرا اور ایڈم اسمتھ سے بھی بات کی۔