معاشی بارودی سرنگیں
- تحریر مزمل غیاث
- ہفتہ 21 / مئ / 2022
دنیا کے تقریباً تمام مفکرین اس بات پر متفق ہیں کہ اگر کسی ملک کی ترقی کا اندازہ لگانا ہو تو اس معیشت سے لگایا جاسکتا ہے۔ سرد جنگ کے اختتام میں سابقہ سوویت یونین کی شکست بھی اسی بات کو تقویت دیتی ہے کہ مضبوط معیشت کی بنیاد پر طاقتور فوج تو بنا سکتے ہیں لیکن ایک طاقتور فوج بھی معاشی عدم استحکام کا شکار مملکت کے زوال کو زیادہ عرصہ تک نہیں روک سکتی۔
ایسی صورتحال میں کسی بھی ملک کی سیاسی قیادت پر یہ لازم ہو جاتا ہے کہ وہ معیشت پر خاص توجہ دے اور کسی بھی حال میں سیاسی معاملات کو معاشی فیصلوں پر حاوی نہ ہونے دے۔ بدقسمتی سے وطن عزیز میں تمام اہم سیاسی جماعتیں اس معاملے میں سنجیدگی کا مظاہرہ کرنے میں ناکام رہی ہیں اور یہ سلسلہ آج بھی جاری ہے۔ میری رائے میں معاشی معاملات پر سیاسی جماعتوں کو سیاست سے گریز کرنا چاہیے اور معاشی فیصلے ہمیشہ سیاست سے بالاتر ہوکر کرنے چاہئیں۔ کیونکہ ناقص معاشی فیصلے ملک کو معاشی طور پر بربادی کی طرف لے جاتے ہیں۔
اس صورتحال میں اگر سبسڈی کی بات کی جائے تو میں مفتاح اسماعیل اور شاہد خاقان عباسی کی اس بات سے اتفاق کرتا ہوں کہ سبسڈی معاشی بارودی سرنگ کے مترادف ہے جو کہ پاکستان کی معیشت کو برباد کرکے رکھ دے گی۔ میں اس بات کا بھی قائل ہوں کہ عمران خان کی حکومت کو پیٹرولیم مصنوعات پر سبسڈی نہیں دینی چاہیے تھی لیکن جب عمران خان کی حکومت بتدریج پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافہ کر رہی تھی تو یہی مفتاح اسماعیل اور شاہد خاقان عباسی اس اضافے کو عوام دشمن فیصلہ قرار دے رہے تھے۔ اور پریس کانفرنسوں میں بتا رہے تھے کہ وہ پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں ایک پیسے کا اضافہ بھی برداشت نہیں کریں گے اور پھر یہی وہ لوگ تھے کہ جو مہنگائی کے خلاف لانگ مارچ کر رہے تھے اور اسی بات کو بنیاد بنا کر تحریک عدم اعتماد پیش کی گئی۔
تحریک عدم اعتماد کے پیش ہونے اور مہنگائی کے خلاف بیانیہ دیکھ کر عمران خان کی حکومت نے پیٹرولیم مصنوعات پر سبسڈی دینے کا فیصلہ کیا جو کہ اس ملک کی معیشت کے لئے ایک سراسر غلط فیصلہ تھا۔ لیکن اس معاملے میں پی ٹی آئی تو پھر بھی یہ کہہ کر بری الزمہ ہو جائے گی کہ اس کی حکومت روس سے تیس فیصد رعایتی نرخوں پر پیٹرولیم مصنوعات درآمد کرنے کا معاہدہ کر رہی تھی جس کی بنیاد پر وہ یہ کہہ سکتے ہیں کہ انہیں سبسڈی دینا ہی نہ پڑتی لیکن مسلم لیگ نون اس معاملے میں بری الزمہ نہیں ہو سکتی۔
موجودہ صورتحال میں یہ کہنا غلط نہ ہوگا کہ مفتاح اسماعیل اور شاہد خاقان عباسی اور پی ڈی ایم کے دیگر رہنما جب تک حزب اختلاف میں تھے اس وقت تک وہ مہنگائی کے خلاف بیانیہ بنا کر عمران خان کی حکومت کو سبسڈی کی بارودی سرنگیں بچھانے پر مجبور کر رہے تھے لیکن اب حکومت میں آنے کے بعد اب شکوہ کر رہے ہیں کہ یہ بارودی سرنگیں نہیں بچھانی چاہئیں تھیں
گویا پی ڈی ایم کی جماعتیں یہ چاہتی تھیں کہ وہ عمران خان کی حکومت کے خلاف ایک ایسا بیانیہ تشکیل دینے میں کامیاب ہو جائیں جس کی بنیاد پر انتخابی سیاست میں انہیں فائدہ ہو۔ اگرچہ اس معاملے میں انہیں عمران حکومت کو معاشی بارودی سرنگیں بچھانے پر مجبور کرنا پڑے، چاہے اس سے پاکستان کی معیشت کا دیوالیہ نکل جائے لیکن ساتھ ساتھ خواہش یہ بھی تھی کہ یہ بارودی سرنگیں عمران خان اور پاکستانی معیشت کیلئے تباہی مچائیں لیکن پی ڈی ایم کی حکومت میں آنے کے بعد وہ خود بخود ناکارہ ہو جائیں۔
ایک دلچسپ بات یہ بھی ہے کہ عین اسی دن جس دن مفتاح اسماعیل اور شاہد خاقان عباسی ہمیں یہ بتاتے ہیں کہ عمران حکومت سبسڈی دے کر معاشی بارودی سرنگیں بچھا کر گئے تھے اور ساتھ ہی مریم اورنگزیب سبسڈی کی وجہ سے آنے والی تباہی کی بنا پر یہ بتاتی ہیں کہ ملک انتہائی مشکل معاشی حالات سے گزر رہا ہے، اسی دن حمزہ شہباز پنجاب کے یوٹیلیٹی اسٹورز کیلئے دو سو ارب روپے کی سبسڈی کا اعلان کرتے ہیں۔ پھر اسی رات مریم نواز بتاتی ہیں کہ عمران حکومت ملک کو معاشی تباہی کے کنارے پہنچا گئی ہے۔ ایسے میں صرف یہی کہا جاسکتا ہے کہ پاکستان کی سیاسی جماعتوں کو ہوش کے ناخن لینے چاہئیں اور معاشی معاملات پر سیاست سے گریز کرنا چاہیے۔