پی ٹی آئی کو لانگ مارچ کی اجازت نہ دینے کا فیصلہ
حکومتِ پاکستان نے پاکستان تحریکِ انصاف کے چیئرمین عمران خان کی کال پر بدھ کو اسلام آباد کی جانب لانگ مارچ کی اجازت نہ دینے کا فیصلہ کیا ہے۔
وفاقی کابینہ کے اجلاس کے بعد منگل کو اسلام آباد میں نیوز کانفرنس کرتے ہوئے وفاقی وزیرِ داخلہ رانا ثناءاللہ کا کہنا تھا کہ یہ لوگ اسلام آباد آ کر افراتفری پھیلانا چاہتے ہیں۔ وفاقی کابینہ نے فیصلہ کیا ہے کہ لانگ مارچ کی اجازت نہیں دی جائے گی اور اسے روکا جائے گا۔
دریں اثنا پاکستان تحریکِ انصاف کے 25 مئی کو اسلام آباد میں لانگ مارچ سے قبل ملک بھر میں پولیس کے کریک ڈاؤن میں درجنوں پارٹی رہنماؤں اور کارکنوں کی گرفتاری کی بھی اطلاعات ہیں۔ پنجاب اور سندھ کی حکومتوں نے صوبوں میں امن و امان برقرار رکھنے کے لیے دفعہ 144 نافذ کر دی ہے۔
محکمہ داخلہ پنجاب کے مطابق صوبہ بھر میں امن وامان کی صورتِ حال کے پیشِ نظر پنجاب رینجرز کو الرٹ کر دیا گیا ہے۔ ذرائع کے مطابق ایڈیشنل چیف سیکریٹری پنجاب نے پنجاب رینجرز کو ہنگامی صورتِ حال کے لیے تیار رہنے کا کہا ہے۔
وزیراعلٰی پنجاب حمزہ شہباز نے امن وامان کے حوالے سے اجلاس کی صدارت کرتے ہوئے کہا ہے کہ عوام کے روز مرہ معمولات میں کسی کو خلل نہیں ڈالنے دیں گے۔ صوبے میں قانون کی عمل داری کو ہر قیمت پر یقینی بنایا جائے گا۔ کسی کو بھی قانون ہاتھ میں لینے کی اجازت نہیں دیں گے۔
تحریکِ انصاف کے مطابق لاہور، کراچی، اسلام آباد، پشاور، ملتان، راولپنڈی سمیت ملک کے مختلف شہروں میں تحریکِ انصاف کا لانگ مارچ روکنے کے لیے پولیس نے کارروائیاں کی ہیں۔ تحریکِ انصاف نے الزام عائد کیا ہے کہ پولیس اہلکار وں نے چادر اور چار دیواری کا تقدس پامال کرتے ہوئے پیر اور منگل کی درمیانی شب کارروائیاں کیں اور کئی کارکنوں کو گرفتار کیا گیا۔
پیر اور منگل کی درمیانی شب لاہور کے علاقے ماڈل ٹاؤن کے ایک گھر پر پولیس کی ریڈ کے دوران مبینہ طور پر گھر کے اندر سے ہونے والی فائرنگ سے کمال نامی کانسٹیبل جاں بحق ہو گیا۔ ایف آئی آر کے مطابق پولیس اہلکار نے کرایہ داری ایکٹ کے تحت گھر میں سرچ آپریشن کی اجازت طلب کی، لیکن کانسٹیبل پر فائرنگ کر دی گئی۔
لاہور میں وائس آف امریکہ کے نمائندے ضیا الرحمٰن کے مطابق شہر کے داخلی راستوں شاہدرہ، سگیاں اور فیروزپور روڈ پر کنٹینر اور رکاوٹیں کھڑی کر کے راستہ بند کر دیا گیا ہے۔ پولیس ذرائع کے مطابق جی ٹی روڈ پر مرید کے، کامونگی اور گوجرانوالہ تک مختلف جگہوں پر رکاوٹیں پہنچا دی گئیں ہیں۔
شاہدرہ میں دریائے راوی کے پل پر کنٹینر لگانے سے شہریوں کو شدید مشکلات کا سامنا ہے اور لوگ پیدل راوی کا پل کراس کرنے پر مجبور ہیں۔ وزیراعلیٰ پنجاب حمزہ شہباز کی زیر صدارت صوبے میں امن وامان کی صورتِ حال پر اجلاس ہوا ہے جس میں امن و امان کی صورتِ حال کا جائزہ لیا گیا۔
عمران خان نے لاہور، اسلام آباد اور کراچی میں پیر کی شب تحریکِ انصاف کے رہنماؤں کے گھروں پر پولیس چھاپوں کی مذمت کی۔ انہوں نے کہا کہ وہ خبردار کرنا چاہتے ہیں کہ غیر جمہوری اور سفاکانہ اقدامات ملک کی معاشی صورتِ حال میں مزید ابتری کا مؤجب بنیں گے اور ملک کو انتشار کی جانب دھکیلیں گے۔
انہوں نے کہا کہ پرامن احتجاج ہمارےشہریوں کاحق ہے، پنجاب میں تحریکِ انصاف کے رہنماؤں کے خلاف چھاپوں نے ایک مرتبہ پھر ہمیں وہی کچھ دکھایاہےجس سےہم واقف ہیں۔ عمران خان کا کہنا تھا کہ ’یہ کریک ڈاؤن کٹھ پتلیوں کی ڈوریاں تھامنے والوں پربھی سنجیدہ سوالات اٹھا رہاہے‘۔
حکومت کی اتحادی جماعتوں کے اراکین کے ہمراہ نیوز کانفرنس کرتے ہوئے وفاقی وزیر داخلہ رانا ثنا اللہ کاکہنا تھا کہ پاکستان تحریک انصاف کی جانب سے 25 مئی کو لانگ مارچ کے نام پر فتنہ فساد مارچ کیا جارہا ہے۔ یہ کوئی جمہوری مارچ نہیں بلکہ قوم کو تقسیم کرنے، ملک میں افراتفری اور انتشار کو فروغ دینے کے لیے کیا جارہا ہے۔ جس قسم کی یہ گفتگو کرتے رہے ہیں کہ یہ 'خونی لانگ مارچ' ہوگا، ہم وہاں آکر فتنہ فساد پھیلائیں گے، جیسی تمام چیزیں ریکارڈ پر ہیں۔ یہ بھی کہا گیا کہ اس لانگ مارچ کے نتیجے میں ہم حکومت کو اٹھا کر باہر پھینک دیں گے۔
وزیر داخلہ نے کہا کہ 2014 میں بھی انہوں نے کہا تھا کہ ہم پر امن احتجاج کے لیے آرہے ہیں اور اسلام آباد کی انتظامیہ سے معاہدہ کیا کہ ایک جگہ پر محدود رہیں گے لیکن وہاں رکنے کے بجائے ریڈ زون میں داخل ہوئے۔ وزیراعظم ہاؤس کا گھیراؤ کیا، سول نافرمانی پر لوگوں کو اکسایا۔ ان تمام چیزوں کو مدِ نظر رکھتے ہوئے وفاقی کابینہ نے فیصلہ کیا ہے انہیں لانگ مارچ کے نام پر فتنہ فساد کی اجازت نہیں دی جائے گی اور انہیں روکا جائے گا تا کہ یہ قوم کو تقسیم کرنے، گمراہی کا ایجنڈا آگے نہ بڑھا سکیں۔
پی ٹی آئی نے اس سے پہلے بھی وعدہ خلافی کی تھی اور اب بھی یہ گالیوں سے گولیوں پر آگئے ہیں جس کے باعث لاہور میں ایک پولیس کانسٹیبل بھی شہید ہوگیا۔ انہوں نے کہا کہ ویسے بڑی بڑی باتیں کرتے ہیں لیکن اب سب ساری قیادت پشاور میں اکٹھی ہوگئی ہے کوئی اپنے گھروں میں موجود نہیں ہے اور وہاں سے یہ ایک وفاقی اکائی یعنی صوبہ خیبرپختونخوا کے تمام وسائل استعمال کر کے اور صوبائی فورسز کو ساتھ لے کر وفاق پر حملہ آور ہونے آرہے ہیں۔