جنونی کا جمہوریت پر خودکش حملہ؟
- تحریر افضال ریحان
- بدھ 25 / مئ / 2022
پاکستان میں کرسی کی جنگ کوئی نئی چیز نہیں ہے اس کی تاریخ مملکت کے وجود سے بھی طویل ہے لیکن ان دنوں حب جاہ کے سینے میں جو آگ لگی ہے۔ وہ شاید آتشِ اولیٰ کو بھی مات دینے جا رہی ہے آج آزادی مارچ میں جو کچھ ہونے جا رہا ہے اس کا ادراک جنونی بیانات کی تپش سے لگایا جا سکتا ہے۔
’’پچیس لاکھ‘‘ کے آزادی مارچ کو پیہم جہاد یا ’’حق و باطل‘‘ کی مقدس جنگ قرار دیتے ہوئے اصرار کیا جا رہا ہے کہ جو اس سے ٹکرائے گا مارا جائے گا۔ جو ہمارے آزادی مارچ کو روکنے کا سوچ رہے ہیں وہ درحقیقت اپنی قبر کھود رہے ہیں۔ وہ دہکتی آگ پر تیل انڈیل رہے ہیں ہمارے لئے یہ احتجاج حق و باطل اور زندگی و موت کا ایشو ہے۔ ہم ٹیپو سلطان کے ماننے والے ہیں ہمارے لئے غلامی سے موت بہتر ہے۔ یہ نیوٹرلز کا بھی امتحان ہے یہ جوڈیشری، بیوروکریسی اور پولیس کا بھی امتحان ہے۔ ہم ان سب کو دیکھ رہے ہیں ان پولیس والوں کے نام نوٹ کر رہے ہیں جو غیر قانونی حکومت کے آلہ کار بنے ہوئے ہیں۔
یوں محسوس ہو رہا ہے کہ اس وقت ہمارا پیارا صوبہ کے پی پاکستان سے الگ تھلگ کوئی نئی مملکت ہے جہاں آزادی کے تمام تر متوالوں نے کئی دنوں سے خیمے گاڑ رکھے تھے اور آج جہادی لشکر کی صورت کسی باطل مملکت پر حملہ آور ہونے کیلئے علم انصاف و بغاوت اٹھائے مارچ کرتے اور دھول اڑاتے پہنچ رہے ہیں۔ یہاں سے ایک شہد نوش جوشیلا کمانڈر دعوت مبارزت دیتے ہوئے للکار رہا ہے کہ ’’اے فیصل آبادی ہیروئن فروش کان کھول کر سن لو اگر تم نے میرے آقا کی طرف کسی میلی آنکھ سے دیکھا یا اسے گرفتار کرنے کا سوچا تو وہ حال کر دوں گا جو تمہاری آنے والی نسلیں بھی یاد رکھیں گی۔ مجھے فیصل آباد میں تمہارے گھر کا ایڈریس بھی معلوم ہے اور تمہارے خاندن کا بھی علم ہے‘‘۔
ان حالات میں جہادی نعرہ حق بلند کرنے والوں کے وکیل صاحب جب جوڈیشری کا دست تعاون لینے پہنچتے ہیں کہ حکومت کو اس امر سے باز رکھا جائے کہ وہ ہمارے آزادی مارچ میں کسی نوع کا رخنہ ڈال سکے تو جواباً پوچھا جاتا ہے کہ کیا آپ اس نوع کا بیان حلفی عدالت میں جمع کروا سکتے ہیں کہ مارچ کے شرکاء قانون کو ہاتھ میں نہیں لیں گے اور اسلام آباد پہنچنے کے بعد متعین مقام سے آگے بڑھنے کی کوشش نہیں کریں گے۔ جواب ملتا ہے کہ ہم اس نوع کی یقین دہانی نہیں کروا سکتے اگر آپ اس نوع کا وعدہ نہیں کر سکتے تو پھر پاکستان کے کیپٹل سٹی کو جہادی دستوں کے رحم وکرم پر کیسے چھوڑا جا سکتا ہے۔ جبکہ یہاں دنیا بھر کے سفارتخانے موجود ہیں بشمول عوام ان سب کے تحفظ کی ریاست ذمہ دار ہے ۔
دوسری طرف امن وامان کی ذمہ دار وزارت داخلہ کا کہنا ہے کہ ریاست کی رٹ پر کو ئی سمجھوتہ نہیں ہو گا تشدد یا اشتعال انگیزی پر قانون حرکت میں آئے گا۔ بات گالیوں سے گولیوں تک آ چکی ہے۔ عمرانی فتنے کی گمراہی کو بہرصورت روکا جائے گا۔ دھرنوں سے متعلق سپریم جوڈیشری کے فیصلوں پر عمل کیا جائے گا یہ جمہوری یا آزادی نہیں انتشار اور فتنہ و فساد مارچ ہے۔ ماقبل وعدہ خلافی ہو چکی ہے لاہور میں ایک پولیس کانسٹیبل کو بے دردی سے شہید کیا جا چکا ہے۔ قانون کے رکھوالوں کو دہشت گردی کا نشانہ بنانا کھلی غنڈہ گردی ہے۔ سرخ لکیر پار کی گئی ہے اسلحہ بھی برآمد ہو چکا ہے ۔
درویش کا سوال یہ ہے کہ کرسی کیلئے اتنی شتابی کاہے کی ہے ؟ اس وقت اس مملکت پاکستان کی پتلی صورتحال پر کسی کو بھی ترس کیوں نہیں آ رہا ؟ کیا آپ لوگوں نے اس قوم کو سری لنکا بنا کر چھوڑنا ہے ؟ ہماری معاشی بدحالی و بربادی پوری دنیا کے سامنے ہے کوئی دوست ملک بھی آئی ایم ایف کے بغیر ہماری امداد کو تیار نہیں ہے اور آئی ایم ایف سے قابل قبول شرائط پر معاہدہ کرنے کیلئے ہمارے مذاکرات چل رہے ہیں ایسی حساس صورتحال میں ایسی معرکہ آرائی یا ہنگامہ خیزی کی گنجائش کہاں ہے؟ لوگ پوچھتے ہیں کہ عوام مہنگائی کی چکی میں پس رہے ہیں بجائے ان کے دکھوں کا ادراک و مداوا کرنے کے سیاستدان کرسی کیلئے پاگل کیوں ہوئے جا رہے ہیں ؟ درویش جواب دیتا ہے کہ بجائے سب کو رگیدنے کے اصل شرارتی ذہنیت کو پہچانیں، حقیقی آزادی کے کاروان کا ایجنڈا سمجھنے کی کوشش کریں۔ وہ یہ کہتے ہیں کہ ملک امریکی غلامی کے نرغے میں آ چکا ہے، ہم نے اسے آزادی دلوانی ہے۔ اس کا بہترین راستہ کیا یہ نہیں تھا کہ جوڈیشل کمیشن تشکیل دلواتے ہوئے ایسی کسی نام نہاد مبینہ سازش کا کچا چھٹا سامنے لایا جاتا۔ سچائی تو یہ ہے کہ یہ ساری ڈرامے بازی ہے جسے خود گھڑنے والے بھی دن میں تین مرتبہ پینترے بدلتے ہوئے حقائق واضح کرتے رہتے ہیں۔
اصل ابال اس عدم اعتماد پر ہے جو قومی اسمبلی کے ذریعے آئینی و قانونی تقاضوں کی عین مطابقت میں ہوا ہے۔ آپ کے مخالفین تو اس اسمبلی کی تشکیل کے متعلق جو کچھ بھی کہتے چلے آ رہے ہیں کم از کم آپ اس اسمبلی کو جائز طور پر منتخب اسمبلی قرار دیتے گلا خشک نہیں ہونے دیتے اور پھر آئین اس حوالے سے کیا رہنمائی کرتا ہے ؟ یہ کہ منتخب اسمبلی کو اپنی مدت پوری کرنی چاہئے سوائے اس کے کہ منتخب وزیر اعظم اسے توڑ دے ۔ صرف دو ماہ قبل جب اس نوع کی بحث چل رہی تھی اور آپ کو اسے تحلیل کرنے کا پورا حق حاصل تھا تب آپ نے اپنی یہ اتھارٹی کیوں استعمال نہ کی ؟ جب عدم اعتماد کی قرار داد آ گئی اور آپ کا یہ حق ختم ہو گیا تو آپ نے کھلی آئین شکنی کرنے کی چال چلی جسے سپریم جوڈیشری نے ناکام بنا دیا ۔
جب سب کچھ آئین کے مطابق ہوا ہے تو پھر آپ ہی صبر فرمائیں، نیا الیکشن تو بہرصورت ہونا ہے۔ آپ بجائے خونی مارچ اور دھمکیوں کے عوام کو زیادہ سے زیادہ اپنا ہمنوا بنانے کیلئے جمہوری و سیاسی جدوجہد کریں۔ فی الحال تو اتحادی حکومت خود دکھی و پریشان ہے کہ آپ کے پھیلائے ہوئے گند کو کس طرح صاف کرے۔ مانا کہ طاقتور طبقات میں آپ کا بہت اثر و رسوخ ہے۔ طاقتور محکمے کے علاوہ سپریم جوڈیشری میں بھی آپ کیلئے محبت بھری ٹیسیں اٹھتی رہتی ہیں لیکن اپنے اس ناجائز لاڈلے پن میں غریب عوام پر کچھ تو ترس فرمائیں اور یہ ثابت کریں کہ فوجی سہارے کے بغیر بھی عوام میں آپ کا کوئی اثر ہے ۔ بلاشبہ پرامن احتجاج آپ کا جمہوری حق ہے اور نومنتخب اتحادی حکومت کا فرض بنتا ہے کہ وہ آپ کے اس حق کا احترام کرے مگر آپ اور آپ کے فینز جس نوع کے نعرے لگاتے ہوئے جو دھمکیاں دے رہے ہیں ان کا کیا جواز ہے ؟
لوگ یہ سمجھتے ہیں کہ آپ کسی عوامی دکھ کیلئے نہیں بلکہ اپنی ذاتی ہوس کرسی کیلئے جل بھن رہے ہیں اسی جلن نے ماقبل ہندوستان و پاکستان کے ٹکڑے کروائے اب یہ کسی صورت ممکن نہیں ہے کہ آپ کو کے پی کا وزیر اعظم مان لیا جائے۔ لوگ ابھی تک 2014 والے دھرنے کی تباہ کاریاں نہیں بھولے ہیں جب پارلیمینٹ سے لے کر وزیر اعظم ہاؤس اور پی ٹی وی کے علاوہ جیو جیسے ابلاغی اداروں پر حملے کئے گئے۔ آپ کے چاہنے والوں کو بھی سوچنا چاہئے کہ یہ زندگی موت یا حق و باطل کی جنگ نہیں ہے۔ نیز جہاد کے مقدس نام کو مزید بدنام نہ کیا جائے۔ یہ زیادہ سے زیادہ اقتدار یا کرسی کے حصول کی جدوجہد ہے آپ لوگ یہ ضرور کریں مگر آئین و قانون اور جمہوریت کے مسلمہ تقاضوں کو سامنے رکھتے ہوئے پرامن و جمہوری اسلوب ہیں۔