کل جو ہوا افسوسناک ہے، ایسا حکم جاری کریں گے جو مستقبل کیلئے مثال بنے: چیف جسٹس
سپریم کورٹ نے چیئرمین پی ٹی آئی عمران خان کے خلاف حکومت کی توہین عدالت کی درخواست اور اسلام آباد ہائیکورٹ بار کی درخواست نمٹا دی ہے۔
چیف جسٹس نے ریمارکس دیے کہ کل جو ہوا افسوسناک ہے۔ عدالت کا سیاسی جماعتوں پر اعتماد ٹوٹا ہے۔ ایسا حکم جاری کریں گے جو مستقبل کے لئے مثال بنے۔ چیف جسٹس عمر عطا بندیال کی سربراہی میں جسٹس اعجاز الاحسن، جسٹس منیب اختر، جسٹس یحییٰ آفریدی اور جسٹس مظاہر علی نقوی پر مشتمل بینچ نے درخواست پر سماعت کی۔
چیف جسٹس پاکستان نے سماعت کے آغاز پر کہا کہ اٹارنی جنرل صاحب سب سے پہلے آپ کو سننا چاہتے ہیں۔ اٹارنی جنرل نے گزشتہ روز کا حکم نامہ پڑھ کر سنایا۔ سپریم کورٹ میں عمران خان کے گزشتہ روز کا خطاب بھی چلایا گیا۔ چیف جسٹس نے کہا کہ ممکن ہے کہ عمران خان کو غلط بتایا گیا ہو۔ سپریم کورٹ نے آئینی حقوق کا تحفظ کرنا ہے۔ ہمارے علم میں آیا ہے کہ جگہ جگہ آگ لگائی گئی، جلاؤ گھیراؤ کیا گیا۔ ہمیں یہ بھی معلوم ہے کہ قانون نافذ کرنے والے اداروں نے مسلسل شیلنگ کی۔
چیف جسٹس پاکستان نے کہا کہ پاکستان کے عوام کو آئین کے آرٹیکل 15 ، 16 اور 17 کے تحت حقوق حاصل ہیں۔ ایگزیکیٹو کوئی بھی غیر آئینی گرفتاریاں اور ریڈز نہ کرے، یہ مت بھولیں کہ اسی جماعت نے متعدد پرامن ریلیاں کی ہیں۔
اٹارنی جنرل نے عدالت کو بتایا کہ پی ٹی آئی کی ان ریلیوں کو مکمل سیکیورٹی فراہم کی گئی تھی۔ چیف جسٹس پاکستان نے ریمارکس دیے کہ پی ٹی آئی کو عوام کی طرف اپنی ذمہ داریوں کو سمجھنا چاہیے۔ پی ٹی آئی کو مثال بننا چاہیے تھا، ایسے چلتا رہا تو صورتحال مزید بگڑے گی ۔
چیف جسٹس پاکستان کے سوال پر اٹارنی جنرل نے بتایا کہ کل 31 پولیس افسران زخمی ہوِئے۔ چیف جسٹس نے کہا کہ عام عوام بھی زخمی ہوِئے ہوں گے ، ہجوم بہت چارجڈ تھا۔ یہ لوگ بغیر قیادت کے تھے۔ چیف جسٹس پاکستان نے کہا کہ اسلام آباد میں گرین بیلٹس کو آنسو گیس سے بچنے کے لئے جلایا جا رہا تھا۔ صورتحال کو صرف پی ٹی آئی کی لیڈر شپ ہی کنٹرول کر سکتی تھی۔ کل جو ہوا افسوس ناک ہے، کل جو ہوا اس سے عدالت کا سیاسی جماعتوں پر اعتماد ٹوٹا ہے۔
چیف جسٹس نے ریمارکس دیے کہ موجودہ کیس میں عدالت نے عوام کے تحفظ کا حکم دیا تھا، سیاسی جماعتوں کو مذاکرات کا حکم بھی دیا گیا تھا۔ موجودہ کیس میں ہم نے اپنی حد سے آگے جا کر حکم دیا۔ عدالت نے عوام کے تحفظ کے لئے حکم دیا تھا۔
اٹارنی جنرل نے ٹی وی ٹاک شوز میں استعمال ہونے والی زبان کا تذکرہ بھی کیا۔ بتایا کہ ٹاک شوز میں غدار اور چور چور کے الفاظ استعمال کیے جاتے ہیں۔ انسانیت کا احترام ہونا چاہیے، چیف جسٹس نے کہا کہ اس معاملے میں ہم نہیں جائیں گے۔
چیف جسٹس نے ریمارکس میں مزید کہا کہ کیس کا حکم نامہ جاری کریں گے جو مستقبل کے لئے مثال بنے۔ سپریم کورٹ نے حکومت اور اسلام آباد ہائیکورٹ بار کی درخواستیں نمٹا دیں اور عدالت برخاست کردی۔
اس سے قبل دائر حکومتی درخواست میں تحریر کیا گیا تھا کہ سپریم کورٹ کے حکم کے باوجود عمران خان نے اپنے کارکنان کو ڈی چوک بھیجا، سیکیورٹی انتظامات کے رد و بدل کے بعد پی ٹی آئی ورکرز نے سرکاری املاک کو نقصان پہنچایا۔ فائر بریگیڈ کی کروڑوں روپے مالیت کی گاڑیوں کو نقصان پہنچایا گیا۔
وفاقی حکومت کی جانب سے درخواست میں سپریم کورٹ سے استدعا کی گئی ہے کہ انصاف کے تقاضوں کو مدنظر رکھتے ہوئے توہین عدالت کی کارروائی کی جائے۔ سپریم کورٹ نے عمران خان کے خلاف توہین عدالت کی درخواست پر لارجر بینچ تشکیل دیا جس نے بعد میں درخواست کسی کارروائی کے بغیر نمٹا دی۔ اور سماعت کیلئے ساڑھے 11 بجے کا وقت مقرر کیا۔
واضح رہے کہ گزشتہ روز سپریم کورٹ نے حکم دیا تھا کہ پی ٹی آئی کے جلسے کے شرکا ریڈ زون میں داخل نہیں ہوں، سرکاری و نجی املاک کو کسی قسم کا نقصان نہیں پہنچایا جائے۔
عدالت نے وفاقی حکومت کو بھی حکم دیا تھا کہ تحریک انصاف کو اسلام آباد میں جلسے کے لیے متبادل جگہ فراہم کی جائے اور راستے سے تمام رکاوٹیں ہٹائی جائیں۔