انتخابات کی تاریخ کا فیصلہ ایوان کرے گا: وزیر اعظم

  • جمعرات 26 / مئ / 2022

وزیر اعظم شہباز شریف نے کہا ہے کہ انتخابات کے حوالے سے عمران خان کی ڈکٹیشن نہیں چلے گی۔ انتخابات کب کرانے ہیں اس کا فیصلہ ایوان کرے گا۔

قومی اسمبلی میں اظہار خیال کرتے ہوئے وزیر اعظم نے کہا کہ  عوام نے فیصلہ کرنا ہے کیا ہمیں فتنے کا راستہ روکنا ہے یا اس کی اجازت دے کر ملک کو تباہی کی طرف دھکیلنا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ماضی میں بھی تحریک انصاف کے مارچ میں ایک حاضر سروس افسر پر تشدد کیا گیا تھا اور آج پھر خونی مارچ کیا گیا۔

شہباز شریف نے کہا کہ مہذب معاشروں میں خونی مارچ کو روکنے کے لیے قانون نافذ کرنے والے ادارے حرکت میں آتے ہیں مگر اس کے برعکس ہم نے بہت احتیاط کی کہ کسی کی جان نہ جائے۔ مگر جتھے کے سربراہ نے پورے ملک کو نقصان پہنچایا۔ کبھی دنیا کی تاریخ میں ایسا نہیں ہوا کہ کوئی صوبہ وفاق پر حملہ کرے، صوبے کی حکومت کے سربراہ کے ساتھ وفاق پر حملہ کیا گیا۔

اسلام آباد میں لانگ مارچ کے دوران جلائے گئے درختوں کا ذکر کرتے ہوئے وزیر اعظم نے کہا کہ بلین ٹری کے جھوٹے نعرے لگانے والوں نے درختوں کو جڑوں سے کاٹا اور آگ لگائی۔ آج پارلیمنٹ کو فیصلہ کرنا ہے کہ کیا ہمیں تخریب کی طرف جانا ہے یا تعمیر کی طرف۔ پاکستان کو بنانا ہے بگاڑنا ہے، کیا ہمیں تباہی کا راستہ اختیار کرنا ہے یا پاکستان کو بنانے کا۔

میں تمام قانون نافذ کرنے والے اداروں کو خراج تحسین پیش کرتا ہوں جنہوں نے غیر آئینی جتھوں کو روکنے کے لیے اپنے فرائض ایمانداری سے ادا کیے۔ لاہور میں پولیس کارروائیوں کے دوران شہید سپاہی کا ذکر کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ شہید سپای کے لیے ایوان دعاگو ہے۔ شہید سپاہی کے بچوں کو کون تسلی دے گا کہ ان کا باپ کب واپس آئے گا۔

انہوں نے کہا کہ ہزاروں پاکستانیوں، افواج پاکستان، پولیس، چاروں صوبوں اور خاص طور پر خیبرپختونخوا کے لوگوں نے دہشت گردی کے خلاف قربانیان دی ہیں۔ پشاور میں جہاد کے نعرے لگائے گئے لیکن یہ بتایا جائے کہ یہ جہاد کس کے خلاف کیا جا رہا تھا۔ خیبرپختونخوا میں مذہب کو ذاتی مقصد کے لیے استعمال کیا گیا جس کی یہ ایوان مذمت کرتا ہے۔

ایندھن پر دی گئی سبسڈی کا ذکر کرتے ہوئے وزیر اعظم نے کہا کہ ایندھن موجود نہ ہونے اور قیمت میں اضافہ کے باوجود عمران خان نے اس پر سبسڈی دی تاکہ ہمیں مشکلات کا سامنا ہو۔ وہ پھر عوام کو اکسائے کہ میری حکومت میں پیٹرول سستا دیا جا رہا تھا۔

انہوں نے کہا کہ کل یٰسین ملک کے حوالے سے پوری دنیا میں آواز اٹھ رہی تھے مگر اس شخص نے اس کی کوئی پرواہ نہیں کی۔ یٰسین ملک عظیم ماں کا عظیم بیٹا ہے۔ بھارتی جارحیت کی یہ ایوان مذمت کرتا ہے۔ جب تک ہمارے جسموں میں سانس ہے کشمیریوں کی حق خودارادیت کے لیے کھڑے رہیں گے۔

وزیر اعظم نے کہا کہ اس وقت ملک کو خطرات کا سامنا ہے مگر میں جتھے کے سربراہ کو واضح کرنا چاہتا ہوں کہ تمہاری ڈکٹیشن نہیں چلے گی، ایوان ہی اس بات کا فیصلہ کرے گا انتخابات کب ہونے ہیں۔ بات چیت کے لیے دروازے کھلے ہیں اور اس کے لیے کمیٹی بھی تشکیل دی جا سکتی ہے مگر یہ یاد رہے کہ ڈکٹیشن دینے کی کوشش نہ کرو۔

اگر عمران خان کے حق میں عدالتی فیصلے آئیں تو سب اچھا اور اگر کوئی فیصلہ ان کے خلاف آئے تو اداروں کو گالیاں دی جاتی ہیں۔ عدالت عظمٰی کو گالیاں دی جاتی ہیں اور پاکستان کے خلاف سازشیں کی جاتی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ یہ قوم دکھی ہے کہ کب تک یہ ڈرامہ کیا جائے گا۔

انہوں نے کہا کہ 90 کی دہائی میں پاکستانی معیشت کو آزاد کیا گیا اور ہندوستان نے ہماری نقل کی۔ اب معیشت کی بہتری کے لیے ہماری ٹیم دن رات محنت کر رہی ہے۔