آئی ایم ایف پروگرام کی بحالی

آئی ایم ایف اور مارشل لاء کے بارے ایک بات مشترک کہی جا سکتی ہے کہ یہ جس ملک میں ایک بار آ جائیں، وہاں ان کا آنا جانا لگا ہی رہتا ہے۔حیران کن اتفاق یہ رہا کہ ملک میں پہلا براہ راست مارشل لاء اور آئی ایم ایف کا باقاعدہ پیکج ایک ساتھ(1958)ہی آئے۔

ملک میں آخری مارشل لاء لگے قریبا15برس ہو چکے ہیں لیکن آئی ایم ایف کے چنگل سے مستقبل قریب میں بھی جان چھوٹتی دکھائی نہیں دیتی۔ قیام پاکستان کے صرف تین سال بعد پاکستان آئی ایم ایف کا ممبر بنا تھا اور اس وقت سے لے کر اب تک کل 22مرتبہ آئی ایم ایف جا چکا ہے۔ 1988سے پہلے پاکستان اور آئی ایم ایف کے مابین ہونے والے معاہدے قلیل مدتی بنیادوں پر ہوتے تھے جن میں عمومی طور پر قرض معاشی اصلاحات سے مشروط نہیں ہوتے تھے تاہم 1988 کے بعد "سٹرکچرل ایڈجسٹمنٹ پروگرامز"شروع ہو گئے۔ سٹرکچرل ایڈجسٹمنٹ پروگرامز ایسے پروگرامز ہوتے ہیں جن میں قرض دینے والا ادارہ شدید معاشی مشکلات کے شکارقرض حاصل کرنے والے ممالک کو مخصوص شرائط کے تحت نیا قرض دیتا ہے۔پاکستان اور آئی ایم ایف اس طرح سے لازم و ملزوم ہو چکے ہیں کہ 1988  سے لے کر اب تک قائم ہونے والی تمام حکومتیں آئی ایم ایف کے پا س جانے پر مجبور ہوتی رہی ہیں۔حکومتوں کے حوالے سے بات کریں تو بے نظیر بھٹو کے دو ادوار میں مجموعی طور پر آئی ایم ایف کے6مختلف قرضہ جاتی پروگرامز لیے گئے۔نواز شریف کے تین ادوار میں تین جبکہ پرویز مشرف کے دور میں دوبیل آؤٹ پیکجز لئے گئے۔ایک بیل آؤٹ پیکج زرداری دور میں لیا گیاجب کہ ایک پیکج پی ٹی آئی حکومت نے لیا۔

موجودہ حکومت کے آئی ایم ایف کے ساتھ پروگرام کی بحالی پر بات کرنے سے پہلے آئی ایم کے اغراض ومقاصد اور سٹرکچر پر ایک نظر دوڑائے لیتے ہیں۔1945میں قائم ہونے والے اس ادارے کے قیام کا فوری پس منظرتو ان یورپی معیشتوں کی مالی و تکنیکی مدد تھاجو جنگ عظیم دوئم کی وجہ سے شدید قسم کے مالیاتی بحران کا شکار ہو گئیں تھیں لیکن جلد ہی اس ادارے نے اپنا دائرہ کار دنیا بھرتک پھیلا دیا۔آئی ایم ایف کے فیصلوں کے لئے کی جانے والی رائے شماری میں ووٹنگ کی غیر مساوی وغیر منصفانہ تقسیم کی وجہ سے اس ادارے پر بڑی معاشی طاقتوں کا مکمل راج ہے۔آئی ایم ایف میں شامل ہر ایک ملک کو ایک ملک ایک ووٹ کا حق ملنے کی بجائے ملک کی جی ڈی پی، زر مبادلہ کے ذخائر اور اور برآمدات و درآمدات کی مقدار کے حساب سے ووٹ ملتے ہیں۔امریکہ، برطانیہ، چین، فرانس اور جاپان کے مجموعی ووٹ کل ووٹوں کا 40فیصد بنتے ہیں۔ صرف امریکہ کے ووٹ کل ووٹوں کا تقریبا18فیصد بنتے ہیں۔سلامتی کونسل کے پانچ مستقل ارکان سمیت معاشی طور پر دنیا کے20بڑے ممالک کے پا س کل ووٹوں کا تقریبا70فیصد حصہ ہے۔بقیہ 165 ممالک کے پاس صرف30فیصد ووٹ ہیں۔معاشی اعتبار سے دنیا کے پہلے 20بڑے ممالک میں صرف ایک مسلم ملک سعودی عرب شامل ہے جس کے3.17ووٹ ہیں۔ بھارت کے پاس تقریبا دو ووٹ ہیں۔

 سابقہ حکومت نے 2019میں 6ارب ڈالر کا پیکج لیا تھا لیکن ابتدائی تین اقساط کی فراہمی کے بعد اسٹیٹ بینک کو خود مختاری نہ دینے کے معاملے پر حکومت اور آئی ایم ایف کے مابین شدید اختلافات پیدا ہو گئے تھے جس کے نتیجے میں آئی ایم ایف نے قرض کی سہولت کی بحالی کو روک دیا تھا۔وزیراعظم شہباز شریف کی قیادت میں نئی اتحادی حکومت اس پروگرام میں جون2023تک توسیع کروانے کے ساتھ ایک ارب ڈالر کی قسط کا اجرا بھی چاہتے ہیں۔18سے25مئی تک ہونے والے ورچوئل اور براہ راست مذاکرات میں آئی ایم ایف نے پاکستان کو پروگرام کی بحالی کے لیے بجلی اور پٹرولیم مصنوعات پر دی جانے والی وہ سبسڈی ختم کرنے پر زور دیا ہے جو سابقہ وزیراعظم عمران خان نے عدم اعتماد کی تحریک کامیاب ہونے سے کچھ عرصہ قبل دی تھی۔ واضح رہے کہ عمران خان نے بطور وزیراعظم یہ سبسڈی ایک ایسے وقت میں دی تھی جب اوگرا نے عالمی منڈی میں اضافے کے بعد ملک میں تیل کی قیمتوں میں دس روپے اضافے کا مطالبہ کیا تھا لیکن حیران کن طور پر حکومت نے نہ صرف پٹرول کی قیمت میں دس روپے فی لیٹر کمی کر دی تھی بل کہ بجلی کی قیمت میں بھی پانچ روپے فی یونٹ کمی کا اعلان کیا تھا۔

سابق وزیراعظم نے اپنے طور پر اگرچہ عوام کو ریلیف دینے کے لیے یہ فیصلے کیے تھے لیکن دراصل یہ ان کا سیاسی حربہ تھا جس کی قیمت نئی حکومت کو چکانی پڑ رہی ہے۔موجودہ وزیرخزانہ مفتاح اسماعیل کے مطابق شوکت ترین آئی ایم ایف سے جو معاہدہ کرکے آئے تھے اس کے مطابق پٹرولیم مصنوعات کی قیمت میں 150روپے تک اضافہ ہوناچاہیے۔ احتجاجی مظاہروں، لانگ مارچ  اور دھرنے کے ماحول میں حکومت چاہنے کے باوجود سابقہ حکومت کی سیاسی بنیادوں پر دی گئی سبسڈی ختم کرنے کی پوزیشن میں نہیں لیکن آئی ایم ایف قرض پروگرام کی بحالی کے لیے پٹرول اور بجلی پر دی گئی سبسڈی کے خاتمے پر مصر ہے۔

آئی ایم ایف اپنے طور پر بحران کا شکار معیشت کو درست ڈگر پر لانے کے لئے کڑی شرائط عائد کرتی ہے لیکن اکثر اوقات یہ کڑی شرائط قرضے میں جکڑے ہوئے ملک کی معاشی حالت سدھارنے کی بجائے اسے مزید بگاڑنے کا باعث بن جاتی ہیں۔ سود کی شرح بڑھانے سے غربت میں اضافہ ہوتا ہے جبکہ ٹیکس بڑھانے اور حکومتی اخراجات کم کرنے سے عوامی سہولیات میں کمی آنے سمیت بے روزگاری بڑھتی ہے۔ زیادہ سے زیادہ قومی اداروں کی نجکاری کی شرط سے بے روزگاری بڑھنے سمیت ملکی اثاثے غیر ملکیوں کے پاس چلے جاتے ہیں۔عالمی سرمائے کی ملک میں آمدورفت سے تما م پابندیاں ہٹانے کے نتیجے میں اسٹاک مارکیٹ میں عدم استحکام پیدا ہوتا ہے جبکہ عالمی مالیاتی اداروں کو زیادہ سے زیادہ آزادی دینے سے ملکی صنعتیں مفلوج ہو جاتی ہیں۔آئی ایم ایف کے پیکجز سے اکثر اوقات غریب ممالک کو اتنی رقم قرضے میں ملتی ہے جس سے وہ صرف اپنے موجودہ بیرونی قرضوں کا سود ادا کر سکتے ہیں۔آئی ایم ایف کی جانب سے مسلط کی گئی کڑی شرائط پر عمل درآمد سے ملکی معیشت کو تو کسی حد تک سنبھالا دینا ممکن ہو جاتا ہے تاہم  معیشت کویہ سنبھالا مہنگائی اور غربت میں اضافے سمیت عام آدمی کے معیار زندگی میں کمی کی قیمت پر ہی ملتا ہے۔

اس میں کوئی شک نہیں کہ دنیا کے چند ایک ممالک آئی ایم ایف کے پیکجز سے اپنی معیشتوں کو بحرانی کیفیت سے نکالنے میں کامیاب ہو چکے ہیں لیکن وہ ہماری طرح نہ تو پچھلی دو دہائیوں سے دہشت گردی کے خلاف جنگ میں مصروف رہے ہیں اور نہ ہی اپنے سے کئی گنا بڑی معیشت (بھارت)سے فوجی اور دفاعی شعبے میں مقابلہ جاری رکھے ہوئے ہیں۔