اتحادی حکومت کی ترجیحات اور پٹرول بم؟
- تحریر افضال ریحان
- جمعہ 27 / مئ / 2022
آئی ایم ایف کے دباؤ پر اتحادی حکومت نے تیل تیس روپے لیٹر مہنگا کرتے ہوئے بالآخر عوام پر پٹرول بم گرا ہی دیا ہے۔ حالانکہ یہ لوگ پیہم دعوے کرتے آ رہے تھے کہ چاہے کچھ بھی ہو جائے عوام کو سابق نااہل حکمران کی مہنگائی سونامی سے نکالیں گے۔
آج مفتاح اسماعیل وہی زبان بول رہے ہیں جو ما قبل اناڑی حکومت بولتی تھی۔ یہ دلیلیں دی جارہی ہیں کہ پاکستان میں تیل اب بھی کئی ملکوں سے سستا ہے۔ یہ نہیں بتایا جارہا کہ پاکستان میں عوام کی قوت خرید ان ممالک کی نسبت کس قدر کمزور ہے۔ بتایا جا رہا ہے کہ پہلے آئل پر چھیاسی روپے لیٹر سبسڈی دی جا رہی تھی اور مہنگا کرنے کے باوجود چھپن روپے دی جائے گی جو ملکی اکانومی پر بوجھ ہے۔ رات قوم نے فنانس منسٹر کوسنا اور اب وزیر اعظم شہباز شریف کو اسی نوع کے دلائل پیش کرتے سنے گی اور یہ ضرور سوچے گی کہ کیا موصوف اپنی وزارت عظمیٰ کے لیے ن لیگ کی پاپولیریٹی پر خود ہی آئل بم تو نہیں مار رہے؟
ہماری موجودہ اتحادی حکومت مانگے تانگے کی جن بیساکھیوں پر کھڑی ہے وہ پہلے ہی اس قدر کمزور و ناتواں ہیں کہ طاقتوروں کی آنکھ کے ایک اشارے پر ڈھیر ہو سکتی ہے۔ اتنی ناپائیدار شاخ پر اقتدار کا گھونسلا بنانے والے ذرا سوچیں کہ آج طاقتوروں کی خوشنودی کے لیے یہ لوگ عوام دشمنی پر مبنی ایسے سنگدلانہ فیصلے کریں اور تھوڑے ہی دنوں بعد بجٹ میں ایسے ہی زہریلے گھونٹ عوام کو پلائیں تو عوامی نفرت کا سارا لاوا کیا ان کے خلاف نہیں اٹھے گا؟ تو اس وقت یہ لوگ کہاں کھڑے ہوں گے؟ کیا نواز شریف اور اس کے چاہنے والوں کو اس کا ادراک نہیں ہے؟ اس سارے منظر نامے میں جن کی مقبولیت داؤ پر لگی ہے، اس کی اصل قیمت بھی انہوں نے چکانی ہے۔
درویش کو تو انہی دنوں سخت حیرت ہوئی تھی جب یہ لوگ عبوری سیٹ اپ میں بڑے عہدے حاصل کرنے کے لیے بے تاب ہو رہے تھے۔ گمان تھا کہ یہ لوگ یوں عہدوں پر براجمان ہونے کی بجائے خود پیچھے رہ کر ان لوگوں کو آگے کریں گے جو ان کی منشا کے مطابق تو چلیں لیکن ان کی آلائشیں ان پر نہ پڑیں۔ اب بھی درویش کی تجویز یہی تھی کہ پوری بے یقینی کو بھانپتے ہوئے وزیر اعظم قوم سے خطاب میں آئل کو تیس روپے بڑھانے کی بجائے تیس روپے کم کرنے کا اعلان کرتے اور اسی طرح دیگر اشیائے خورد و نوش کی قیمتوں میں مناسب کمی کے فیصلے سناتے ہوئے، واضح کرتے کہ انہیں صرف عوام کی خوشنودی درکار ہے۔ ہم عوام پر بم گرانے کی بجائے اقتدار پر لات مارتے ہیں۔ یوں اسمبلیاں توڑتے ہوئے عوام کے بیچ آ کھڑے ہوتے اس کے بعد جو اپنے آپ کو ریاست کہلواتے ہیں، وہ لے آتے اپنا من پسند کوئی کھلاڑی یا اناڑی۔
اس طرح فوری انتخابات کے لیے کے پی سے جتھے لاکر جو اسلام آباد پر یلغار یا حملوں کی دھمکیوں دے رہا ہے یا اس کے جو کھلے یا چھپے سہولت کار ہیں وہ کرتے آئی ایم ایف سے معاملہ اور چلاتے اس ملک کی ڈوبی ہوئی لنکا یا معیشت۔ جو ہمیشہ سے سیاسی انجینئرنگ کے حریص ہیں ان کو بھی آٹے دال کا بھاؤ معلوم ہو جاتا یا پھر وہ دفاعی بجٹ میں نصف کٹوتی پر تیار ہو جاتے۔ آج نہیں تو کل جس پر بالآخر ہمیں آنا پڑے گا۔ بہرحال یہ ایک تجویز تھی جسے ن لیگ نے یہ کہتے ہوئے نظر انداز کردیا ہے کہ ہم نے اپنی سیاست یا پاپولیریٹی کو نہیں دیکھنا۔ اس ملک کے وسیع تر مفاد کو پیش نظر رکھتے ہوئے اس کا معاشی دیوالیہ نہیں ہونے دینا، بلکہ چیلنج سمجھتے ہوئے بشمول معیشت اناڑی نے ہر شعبہ حیات میں جو بربادی کی ہے اس کی مرمت و تطہیر کا فریضہ سرانجام دینا ہے۔
آج وزیراعظم شہباز شریف بھی قوم سے یہی کہنے جا رہے ہیں کہ ہم نے آسان کی بجائے مشکل راستے کا انتخاب کیا ہے یہ اسمبلیاں اپنی آئینی مدت پوری کریں گی۔ نیازی جس طرح اس ملک کے آئین، جمہوریت، امن و سلامتی اور ترقی و خوشحالی پر حملہ آور ہو رہا ہے ہم نے اس کا مقابلہ کرتے ہوئے عوام میں اس کی اصلیت کھولنی ہے۔ اس ملک کو ایک مرتبہ پھر اقوام عالم میں باوقار مقام دلوانا ہے۔ ن لیگ کی قیادت میں اس اتحادی حکومت کے لیے بلاشبہ سب سے بڑا چیلنج ملک کی برباد معیشت کو بحال کرنا ہے تاکہ غربت و مہنگائی کی جگہ ترقی خوشحالی لے سکے۔
اس کا بہترین راستہ تو تمام سیاسی پارٹیوں اور سٹیک ہولڈرز کی شمولیت سے متفقہ میثاق معیشت ہی بنتا تھا جو موجودہ حالات میں ایک شخص کی انا پرستی سے ناممکن ہو چکا ہے اس کے ساتھ ہی دوسرا بڑا چیلنج انتخابی اصلاحات کی صورت درپیش ہے۔ کیونکہ محض انتخابات کروا دینا مسئلے کا حل نہیں ہے بلکہ اس امر کا اہتمام لازم ہے کہ یہ ایسے صاف شفاف اور کسی بھی نوع کی دھاندلی سے پاک ہوں جن پر کوئی انگلی نہ اٹھا سکے۔ یہ سب تبھی ممکن ہے جب تمام سیاسی دھڑے اورسٹیک ہولڈرز باہمی تعاون اور زیادہ سے زیادہ اتفاق رائے کو ممکن بنائیں۔ افسوس ایک شخص کی خود پسندی و رعونت کی وجہ سے یہ بھی ممکن نہ ہو پائے گا۔ حالانکہ حالیہ مارچ اور دھرنے نے اس کے مصنوعی غبارے سے بڑی حد تک ہوا نکال دی ہے۔ کاش یہ ہوا بھرنے والے منصف سہولت کار بھی اپنی عوام کش حرکات سے باز آ جائیں اور طاقتور بھی اپنی تنخواہوں اور پنشنوں کا خیال کرتے ہوئے یکسو ہو جائیں بلکہ اس کا مواخذہ و محاکمہ کریں۔
وزیراعظم شہباز شریف کی قیادت میں موجودہ اتحادی حکومت نے حال ہی میں جو دو تین جرأت مندانہ فیصلے کئے ہیں ان کی تحسین نہ کرنا بھی بے انصافی ہوگی۔ اول یہ کہ انہوں نے پارلیمینٹ کے ذریعے ملک و قوم کے لیے انتہائی متنازع الیکٹرانک ووٹنگ مشینوں
اور اوورسیز ووٹنگ جیسے متنازع اور ناقابل قبول الجھاؤ سے قوم کی جان چھڑوا دی ہے۔ اس پر کہنے کو تو بہت کچھ ہے لیکن کالم میں اس کی گنجائش نہیں۔ قوم میں پہلے ہی دھڑے بندی، اختلافات اور منافرتوں کی کمی نہیں ہے اب یہ قوم اسی نوع کے نئے تنازعات کی متحمل نہیں ہوسکتی تھی۔ جن لوگوں نے محض اپنے ذاتی یا پارٹی مفادات کے لیے ایسے الجھاؤ مزید بڑھانے کی کوشش کی تھی موجودہ حکومت نے اس کاقلع قمع کردیا ہے اور آنے والے انتخابات کو مزید متنازع ہونے سے بچانے کی یہ ایک بہتر کاوش ہے۔ اوورسیز پاکستانیوں کی تشفی کے لیے ان کی سیٹیں محضوص کی جا سکتی ہیں۔ البتہ بہتر یہی ہے کہ وہ جس ملک میں رہتے ہیں، وہیں اپنا زیادہ سے زیادہ رول ادا فرمائیں اور اثر و رسوخ بڑھائیں۔
دوم: نیب نے حالیہ برسوں میں جس طرح پولیٹکل انجینئرنگ میں اپنا گھناؤنا رول ادا کیا ہے، اس سے قوم کا کون سا باشعور فرد واقف نہیں ہے۔ دیگر احتسابی اداروں کی موجودگی میں مخصوص مفادات کی حامل ایسی چالاکیوں کا خاتمہ ہونا چاہیے جن کا مشن محض اپنے سیاسی مخالفین کو کچلنا اور ہراس و سراسیمگی پھیلانا ہو۔ سوئم :عدلیہ میں ججز کی تعیناتی بھی ہمارے نظام عدل کا ایک سلگتا ایشو ہے اس حوالے سے دنیا کی تمام بڑی جمہوریتوں اور ترقی یافتہ اقوام کے دستوری اہتمام سے روشنی حاصل کی جا سکتی ہے۔ جس میں اولین ترجیح پارلیمینٹ کی، دیگر تمام قومی اداروں پر بالادستی ہے۔ بڑی بڑی تعیناتیوں کو پارلیمینٹ کی منظوری سے مشروط ہونا چاہیے اس کے بغیر عوامی حاکمیت و اقتدار اعلیٰ یا آئین و جمہوریت کی سربلندی کے نعرے محض ڈھکوسلہ ہوں گے۔