اتحادی حکومت اور تحریک انصاف میں رابطے، اتفاق رائے کا امکان
روزنامہ جنگ کی رپورٹ کے مطابق پی ٹی آئی کے چیئرمین عمران خان نے اپنے پرانے موقف میں نرمی کرتے ہوئے حکومت کے ساتھ قومی اسمبلی کی تحلیل اور الیکشن کی تاریخ پر مذاکرات پر رضامندی ظاہر کی ہے۔
اس سے قبل وہ مستقل کہہ رہے تھے کہ وہ صرف اسی صورت مذاکرات پر آمادہ ہوں گے جب انہیں الیکشن کی تاریخ دی جائے اور قومی اسمبلی تحلیل کردی جائے۔ یہ نئی صورتحال حوصلہ افزا ہے اور یہ حکومت اور اپوزیشن کے درمیان باضابطہ طور پر مذاکرات کی راہ ہموار کر سکتی ہے۔
وزیراعظم شہباز شریف نے جمعرات کو قومی اسمبلی سے خطاب میں عمران خان کو مذاکرات کی دعوت دی تھی۔ فریقین کے درمیان بدھ کی صبح ملاقات ہو چکی ہے جس میں ملٹری اسٹیبلشمنٹ نے ثالثی کی تھی۔
تھی۔ تاہم ملاقات بے نتیجہ رہی۔ اب عمران خان کے موقف میں حوصلہ افزا تبدیلی کی وجہ سے مذاکرات پر توجہ مرکوز ہو پائی ہے۔ دونوں فریق کسی درمیانے راستے پر اتفاق کر سکتے ہیں جس میں معاشی فیصلوں کو سیاسی فیصلوں کے ساتھ جوڑا جا سکتا ہے۔ ایک ذریعے کا کہنا تھا کہ اگر پی ٹی آئی نے مشکل سیاسی فیصلوں کی وجہ سے سیاسی قیمت چکانے کا بوجھ مل کر برداشت کرنے کا فیصلہ کیا تو الیکشن کی تاریخ اور قومی اسمبلی کی تحلیل کے معاملے پر اتفاق ہو سکتا ہے۔
اگرچہ حکمران اتحاد کا دعویٰ ہے کہ وہ اپنی مدت مکمل کرے گا اور یہی وجہ ہے کہ اس نے سخت فیصلے کرنے پر آمادگی ظاہر کی ہے لیکن صورتحال اب بھی بے یقینی کا شکار ہے۔ اب بھی رواں سال اکتوبر میں انتخابات کے امکانات موجود ہیں۔
جمعرات کو حکومت نے تیس روپے فی لیٹر پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافہ کیا۔ عوام کی طرف سے اس اضافے کی وجہ سے شدید غم و غصہ کا اظہار کیا جا رہا ہے اور حقیقت یہ ہے کہ اس فیصلے کے اثرات مہنگائی کی صورت میں آنے والے دنوں اور ہفتوں میں سامنے آئیں گے۔
تیل کی قیمتوں میں ایک مرتبہ پھر اضافہ ہوگا اور یہ اضافہ بھی بڑا ہی ہوگا جس سے عمران خان حکومت کی جانب سے دی گئی سبسڈی مکمل طور پر ختم ہو جائے گی۔ اس سے آئی ایم ایف پروگرام بحال ہو جائے گا۔ تیل کی قیمتوں میں اضافے سے بجلی کی قیمتیں بھی بڑھیں گی اور یہ بھی آئی ایم ایف کی شرط ہے۔ ایسی صورتحال میں حکومت کی جانب سے معاشرے کے مخصوص طبقے کیلئے حکومت کے ریلیف پیکیج کے اعلان کے باوجود مہنگائی شدید ہوگی۔
اتحادی حکومت میں شامل پارٹیوں نے تیل کی قیمتوں کے حالیہ فیصلے پر نون لیگ کی حمایت کی ہے۔ تاہم مستقبل قریب میں ایک مرتبہ پھر پٹرول پر کم از کم 18 روپے اور ڈیزل پر 50 روپے فی لیٹر کا اضافہ ہوگا تو اتحادی پارٹیوں میں اختلاف ہوسکتا ہے۔