حکومت اوور سیز پاکستانیوں کو ووٹ کا حق دینے کے خلاف نہیں: وزیر قانون

  • ہفتہ 28 / مئ / 2022

پاکستان کے وزیرِ قانون اعظم نذیر تارڑ نے الیکٹرانک ووٹنگ مشین کے ذریعے انتخابات کے انعقاد سے حکومتی فرار کے تاثر کو رد کیا ہے اور کہا ہے کہ انتخابات کرانا حکومت کا نہیں الیکشن کمیشن کا کام ہے۔

اسلام آباد میں جمعے کو پریس کانفرنس کرتے ہوئے اعظم نذیر تارڑ نے کہا کہ عمران خان بیرونِ ملک مقیم پاکستانیوں کو ووٹ کا حق دینے سے متعلق قانون پر سیاسی پوائنٹ اسکورنگ کر رہے ہیں۔ نئی انتخابی اصلاحات میں حکومت نے الیکشن کمیشن کو الیکٹرانک ووٹنگ مشین سے متعلق پائلٹ پراجیکٹ تیار کرنے کا کہا ہے۔

اعظم نذیر تارڑ نے چیئرمین تحریکِ انصاف عمران خان کو پیش کش کی کہ وہ بیرونِ ملک مقیم پاکستانیوں کو اسمبلی میں نشست دلانے کے لیے ایوان میں آئیں، حکومت اس کے لیے تیار ہے۔ ان کے بقول مختلف خطوں میں مقیم پاکستانیوں کو کوٹے پر اسمبلی نشست دی جا سکتی ہے اور حکومت انہیں اسمبلی میں حق دینے پر غور کر رہی ہے۔

وزیرِ قانون کا کہنا تھا کہ حکومت نے یہ نہیں کہا کہ الیکشن ووٹنگ مشین کے ذریعے نہ کرائے جائیں۔ ان کے بقول حکومت اس چیز کی حامی ہے کہ الیکشن ووٹنگ مشین کے ذریعے ہوں لیکن اس کے لیے الیکشن کمیشن نے کام کرنا ہے۔

خیال رہے کہ قومی اسمبلی کے بعد سینیٹ نے  بھی جمعہ کو الیکشن ایکٹ ترمیمی بل اور نیب اصلاحات سے متعلق بل اتفاق رائے سے منظور کر لیا ہے۔ چیئرمین سینیٹ صادق سنجرانی کی سربراہی میں سینیٹ کا اجلاس شروع ہوا تو وفاقی وزیر قانون اعظم نذیر تارڑ نے دونوں بل پیش کیے۔ اس موقع پر اپوزیشن نے احتجاج کیا اور ایجنڈے کی کاپی پھاڑ دی۔

بلوں سے متعلق پریس کانفرنس کے دوران وزیرِ قانون نے کہا کہ سابق حکومت نے بیرونِ ملک مقیم پاکستانیوں کو ووٹ کا حق دینے سےمتعلق بل اسمبلی کو بل ڈوز کر کے منظور کرایا تھا جب کہ متحدہ اپوزیشن نے اس کی بھرپور مخالفت کی تھی۔

انہوں نے کہا مشرقِ وسطیٰ میں لاکھوں کی تعداد میں پاکستانی موجود ہیں اور وہاں پاکستانی سفارت خاںوں نے لکھ کر دیا کہ مقامی قوانین اور پیچیدگیوں کی وجہ سے ووٹنگ کے لیے انتظامات کرنا ممکن نہیں۔ الیکشن کمیشن نے بھی گزشتہ ماہ سپریم کورٹ میں کہاتھا کہ ایک سال کے اندر انتخابات چاہتے ہیں تو ای ووٹنگ مشین، اور انٹرنیٹ کے ذریعے انتخابات فی الحال ممکن نہیں۔اس کے لیے پہلے پائلٹ پراجیکٹ کرنا ہوں گے۔

نیب قوانین میں ترمیم سے متعلق وزیرِ قانون کا کہنا تھا کہ ماضی میں نیب نے سرکاری ملازمین کو اس حد تک تنگ کیا گیا کہ بیوروکریسی نے کام کرنا چھوڑ دیا۔ ایک آمر نے نیب قوانین متعارف کرائے، انہیں سیاسی مقاصد کے لیے استعمال کیا گیا، نیب نے اس وقت سیاسی رہنماؤں کی سیاسی وابستگیاں تبدیل کرائیں۔

سپریم کورٹ کو بھی اپنے فیصلوں میں کئی بار کہنا پڑا کہ شواہد موجود ہیں کہ نیب کو سیاسی مقاصد کے لیے استعمال کیا جا رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ نیب قانون میں ریمانڈ کی مدت 90 دن سے کم کر کے 14 دن کر دی ہے اور اب بعض کیسز میں ضمانت بھی ہو سکتی ہے۔

وزیرِ قانون کے مطابق نیب قوانین پر انگلیاں اٹھ رہی ہیں، بہت سے لوگ اپنے اثاثے ڈکلیئر کرتے تو نیب پکڑ لیتی تھی۔ وائٹ کالر کرائم میں دنیا میں کہیں بھی 90 روز کا ریمانڈ نہیں ہے۔