آئی ایم ایف سے اسٹاف لیول معاہدہ جون میں متوقع ہے: وزیر خزانہ

  • ہفتہ 28 / مئ / 2022

عالمی مالیاتی فنڈ  سے اسٹاف کی سطح کا معاہدہ جون میں ہونے کی توقع ہے۔ اس کے نتیجے میں آئی ایم ایف سے تقریباً 3 ارب ڈالر ملیں گے۔

وفاقی وزیر خزانہ مفتاح اسمعیٰل نے اسلام آباد میں نیوز کانفرنس کرتے ہوئے کہا کہ اسٹاف لیول معاہدے کے بعد بورڈ کا اجلاس ہوگا جس کے بعد رقم وصول ہوگی۔ ہم نے آئی ایم ایف سے قرض پروگرام میں ایک سال توسیع کرکے 2 ارب ڈالر مزید دینے کا کہا ہے۔ مجھے امید ہے کہ پروگرام میں ایک سال کی توسیع بھی ہوگی اور پروگرام سے 5 ارب ڈالر مل جائیں گے۔

انہوں نے کہا کہ اگر 5 ارب ڈالر نہ ملے تو 4 ارب ڈالر تو ضرور ملیں گے۔ ان کا کہنا تھا کہ رواں مالی سال تقریباً ایک ارب ڈالر عالمی بینک سے پاکستان پروگرام برائے سستی اور صاف توانائی  اور رائس پروجیکٹ کے تحت ملیں گے۔ عالمی بینک کے ساتھ 8 ارب 90 کروڑ ڈالر پائپ لائن میں ہیں۔

انہوں نے کہا کہ ایشین انفرااسٹرکچر ڈیولپمنٹ کے پیسے بھی ملیں گے، اسی طرح ایشین ڈیولپمنٹ بینک سے نومبر سے پہلے 15 لاکھ ڈالر مزید آئیں گے۔ ایک بار آئی ایم ایف سے مذاکرات ہونے کے بعد کثیرالقومی اداروں سے خطیر رقم مل جائے گی۔

ان کا کہنا تھا کہ 1 کروڑ 40 لاکھ میں سے 73 لاکھ لوگوں کو نکالنے کے بعد 67 لاکھ لوگ بچتے ہیں جن کو بے نظیر انکم سپورٹ پروگرام سے پیسے نہیں ملتے۔ لیکن ان کا غربت کا اسکور بھی 37 سے کم ہے۔ ایک تہائی سے زیادہ غریب ترین پاکستانیوں کو ہم پیسے دیں گے۔ بے نظیر انکم سپورٹ پروگرام کے 67 لاکھ لوگوں کا ڈیٹا ہمارے پاس موجود ہے، ان کو 2 سے 3 دن میں وزیراعظم 'سستا پیٹرول سستا ڈیزل اسکیم' کے تحت 2 ہزار روپے ملنا شروع ہوجائیں گے۔

وزیرخزانہ کا کہنا تھا کہ 40 ہزار ماہانہ گھریلو آمدنی سے کم والے یکم جون سے 786 فون نمبر پر صرف اپنا شناختی کارڈ نمبر بھیجیں۔ ہم میرٹ کی بنیاد پر گھر کی سربراہ خاتون کو 2 سے 3 دن میں تصدیق کرنے کے بعد 2 ہزار روپے دیں گے۔

گھر کی سربراہ خاتون کا انتقال ہونے کے صورت میں ان کی صاحبزادی اسکیم کے تحت درخواست دینے کے لیے اہل ہوں گی۔ ہمارے اعداد وشمار کے مطابق 1 کروڑ 40 لاکھ گھرانوں کی اوسط آمدنی 31 ہزار 373 روپے ماہانہ ہے۔ اگر 40 ہزار ماہانہ آمدنی ہو تو ان کا آمدنی کا تقریباً 5 فیصد دے رہے ہیں اور اگر 31 ہزار ماہانہ آمدنی ہے تو ان کو آمدنی کے 8 فیصد رقم دیں گے۔

وفاقی وزیر مفتاح اسمعٰیل نے کہا کہ وفاقی ادارہ برائے شماریات کے مطابق پاکستانی صارفین اپنی آمدنی کا تقریباً 5 فیصد ٹرانسپورٹیشن پر خرچ کرتے ہیں۔ اس اسکیم کو ہم اگلے مالی سال کے بجٹ میں شامل کریں گے جبکہ بے نظیر انکم سپورٹ پروگرام کے وظیفے میں بھی اضافہ کریں گے۔

موٹرسائیکل سواروں کو پیٹرول میں سبسڈی دینے کی تجویز کے حوالے ان کا کہنا تھا کہ یہ ممکن تھا کہ ہم موٹرسائیکل سواروں کو سبسڈی دیتے لیکن بہت سارے گھرانوں کے پاس موٹرسائیکلیں نہیں ہوتیں۔ وہ لوگ بسوں میں سفر کرتے ہیں اور ڈیزل میں اضافے کے بعد بسوں کے کرایے بھی بڑھیں گے جس کے باعث تمام غریبوں کو اس اسکیم میں شامل کررہے ہیں۔

ان کا کہنا تھا اس اسکیم کی ایک مہینے کی لاگت 28 ارب روپے ہے جبکہ اگلے سال کی لاگت کا تخمینہ بعد میں لگائیں گے۔ وفاقی وزیر نے کہا کہ پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافے سے حکومت کے نقصان میں 60 ارب روپے کی کمی ہوگی کیونکہ تقریباً 2 کروڑ لیٹر پیٹرول و ڈیزل استعمال ہوتا ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ وزارت پیٹرولیم کے مطابق 85 فیصد پیٹرول 40 فیصد امیر ترین گھرانے استعمال کرتے ہیں، لہٰذا پیٹرول پر سبسڈی زیادہ تر امیر لوگوں کو دے رہے تھے جو کہ نامناسب بات تھی۔

ان کا کہنا تھا کہ یکم جون سے پیٹرول کی قیمت میں اضافے کا ابھی مجھے بھی نہیں پتا، لیکن 26 تاریخ کو اتنا بڑا اضافہ کیا ہے لہٰذا مجھے مناسب نہیں لگتا کہ 2، 4 دن بعد پیٹرول و ڈیزل کی قیمت میں دوبارہ اضافہ کریں۔