کیا سیاسی میوزیکل چیئرکا کھیل بند ہوسکے گا؟
- تحریر سلمان عابد
- ہفتہ 28 / مئ / 2022
پاکستان کی سیاست اپنی سیاسی مہم جوئی، عدم برداشت، محض سیاسی نعروں، ریاست یا ملک کے مفادات کے مقابلے میں ذاتی مفادات سے جڑی سیاست اور محض اقتدار کے حصول کی جائز وناجائز جنگ ایک سیاسی میوزیکل کھیل کا حصہ بن گئی ہے۔یہ ہی وجہ ہے کہ ہماری سیاست اور جمہوریت میں سب کچھ ہے مگر عملی اور حقیقی سیاست و جمہوریت کا عمل بہت پیچھے نظر آتا ہے۔
حکومت ہو یا حزب اختلاف مجموعی طور پر ان کی سیاست کا دائرہ کار محض اقتدار کی جنگ سے جڑی ہوئی ہے۔ اس کی ایک بھاری قیمت ملک کو سیاسی او ر معاشی عدم استحکام کی صورت میں ادا کرنا پڑرہی ہے۔ ہمارا داخلی، علاقائی یا خارجی مسائل کا حل سیاسی فریقین کے پاس نہیں ہے۔ اگر کچھ ہے تو محض جذباتیت پر مبنی سیاست او رایک دوسرے کے سیاسی وجود کی قبولیت سے انکار۔ یہی سیاسی عدم استحکام کی بنیاد ہے۔
موجودہ تناؤ اور نفرت کی فضا میں بحران نے ریاست کو بھی ایک مشکل صورتحال میں کھڑا کردیا ہے۔مسئلہ اب محض سیاست کو بچانے تک ہی محدود نہیں رہا بلکہ ریاست کا وجود ہی خطرات سے دوچار ہے۔ بظاہر ایسا لگتا ہے کہ سیاست کے نام پرجو کھیل کھیلا جارہا ہے اس نے اداروں کو بھی اپنی لپیٹ میں لے لیا ہے۔یہ ہی وجہ ہے کہ ریاستی اداروں کی سطح پر پریشانی کا احساس پایا جاتا ہے او راس سے نمٹنے کے لیے مختلف پہلوؤں پر سوچ و بچار کا عمل جاری ہے۔
مسئلہ محض اقتدار کی تبدیلی کا نہیں یا ایک شخصیت یا جماعت کے مقابلے میں دوسری شخصیت یا جماعت کی برتری کا ہے۔ہمیں آگے بڑھنا ہے تو ہمیں ایک مربوط او رمضبوط سیاسی نظام درکار ہے۔ ایسا نظام جو اپنے اندر جہاں جمہوری و سیاسی ساکھ رکھتا ہو بلکہ شفافیت اور جوابدہی پر مبنی ہو۔ ایک مضبوط سیاسی نظام ہی ایک مضبوط معیشت او راداروں کی بالادستی میں نمایاں کردار ادا کرسکتا ہے۔ جو سیاسی نظام مرضی و منشا کی میوزیکل چیئر کو بنیاد بنا کر کام کرتا ہو، وہ ریاستی مفاد کے برعکس ہے۔بظاہر ایسا لگتا ہے کہ سب ہی سیاسی و ریاستی سطح پر موجود فریقین اپنے اپنے سیاسی و قانونی دائرہ کار میں کام کرنے کی بجائے اپنی وکٹ سے باہر کھیلنے کے عادی ہوگئے ہیں۔ یہ ہی وجہ ہے کہ ایک عمومی دلیل یہ دی جاتی ہے سب فریقین ایک دوسرے کے کاموں میں مداخلت کرکے ملکی سیاست، جمہوریت اور قانونی حکمرانی کے نظام کو نقصان پہنچارہے ہیں۔
سیاسی میوزیکل کھیل میں سب سے بڑا المیہ یہ ہے کہ کسی کے پاس ملکی مسائل کا واضح حل نہیں۔اس وقت قومی سیاست میں وقتی مفادات کی جنگ کو نمایاں اہمیت حاصل ہے اور ہم سمجھتے ہیں کہ اگر کسی بھی سازش کی مدد سے ہمیں اقتدار مل جائے تو ہم کسی جادوئی عمل سے بڑا انقلاب برپا کردیں گے۔لیکن جیسے ہی ہم اقتدار کے کھیل میں نئے فریق کو دیکھتے ہیں تو صورتحال کے بگاڑ کی درستی میں ذمہ داری لینے کی بجائے یہ ملبہ سابق حکمران پر ڈال کر خود کو سیاسی طور پر بچانا چاہتے ہیں۔ یہ ہی وجہ ہے کہ اہل سیاست کی سطح پرایک دوسرے کے خلاف سب سے بڑا ہتھیار الزامات کی سیاست ہے۔اس کھیل میں سیاسی فریقین یا فیصلہ کن قوتیں اپنی مرضی او رمنشا کے مطابق نتیجہ چاہتی ہیں۔ اگر نتیجہ ان کے حق میں آجائے تو یہ ریاست او راداروں کی حمایت میں کھڑے ہوجاتے ہیں وگرنہ دوسری صورت میں ان کی تنقید کا رخ ریاست او راداروں کے خلاف ہوجاتا ہے۔
سیاسی عدم استحکام یا سیاسی میوزیکل چیئر کا کھیل کوئی پہلی بار دیکھنے کو نہیں مل رہا بلکہ مجموعی طور پر یہ ہی ہماری سیاسی تاریخ کا حصہ ہے۔سیاسی فریقین طاقت کے مراکز کے تعاون سے آگے بڑھنا چاہتے ہیں۔یہ ہی وجہ ہے کہ سیاست، جمہوریت، قانون کی حکمرانی، ووٹ کو عزت دو سمیت پارلیمانی استحکام پر مبنی دعوے نعرے بن کر رہ گئے ہیں۔یہ نعرے جب عوامی سطح پر اعتبار کھودیں تو اعتماد کی کمی مشکلات پیدا کرتی ہے۔ اگر ہمیں واقعی آگے بڑھنا ہے تو سیاسی رویہ تبدیل کرنا ہوگا۔
سیاسی جماعتوں او رارکان قومی و صوبائی ممبران نے ایک دوسرے کی حکومت گرانے یا حکومت بچانے یا بنانے کے عمل سیاسی وفاداریاں تبدیل کی ہیں وہ بھی ہماری جمہوری سیاست کے منہ پر طمانچہ ہے۔ حالیہ حکومتی تبدیلی کے عمل میں مرکز او رپنچاب کی سیاست میں پارٹی قیاد ت کے فیصلے کے برعکس ارکان اسمبلی کے ووٹوں سے بننے والی حکومت نے ہماری جمہوری سیاست کے لیے کوئی اچھا نمونہ پیش نہیں کیا۔ لیکن سپریم کورٹ نے 63 اے پر فیصلہ دے کر منحرف ارکان کے ووٹوں کی گنتی میں شامل نہ کرنے کا حکم دی اہے۔ الیکشن کمیشن کی طرف سے پنجاب کے منحرف ارکان کو ڈی سیٹ کیا گیا ہے۔ ان فیصلوں سے لوٹا کریسی کو شدید دھچکہ دیا ہے۔
ہمیں نئی سیاسی حکمت عملی بنانی چاہیے کہ ہم کیسے اس ملک کی سیاست او ر اداروں کی سطح پر ایک مضبوط او رمربوط نظام کی تشکیل دیں۔ جو نظام یہاں چلایا جارہا ہے وہ نتائج دینے سے قاصر ہے۔ اس بات پر بھی اتفاق ہونا چاہیے کہ حقیقی اصلاحات کے لئے کام کیا جائے۔ ہمیں اپنے ماضی او رحال کے سیاسی تجربات او رپس پردہ جاری سیاسی کھیل سے تجربہ حاصل کرنا ہوگا او رماضی کی غلطیوں کو دوہرانے کی بجائے ایک بہتر سیاست او رجمہوری عمل کو آگے بڑھانے پر اتفاق کرنا ہوگا۔