بھارتی سپریم کورٹ کی طرف سے سیکس ورکرز کو عزت و تحفظ دینے کا حکم
- تحریر بی بی سی اردو
- اتوار 29 / مئ / 2022
بھارتی عدالت عظمیٰ نے ایک تاریخی فیصلہ سنایا ہے جس کے سیکس ورکرز کی زندگی اور ان کی سماجی حیثیت پر بہتر اثرات مرتب ہونے کی امید کی جا رہی ہے۔
سپریم کورٹ نے 19 مئی کو اپنے فیصلے میں پولیس کو احکامات جاری کیے کہ انہیں اپنی مرضی سے جنسی تعلق قایم کرنے والے سیکس ورکرز کے کام میں مداخلت کرنے یا ان کے خلاف قانونی کارروائی نہی کرنی چاہیئے۔ سیکس ورکرز کے ساتھ مجرموں جیسا سلوک کرنے کے بجائے ان کے ساتھ عزت سے پیش آئیں۔
سپریم کورٹ کی اس بینچ کی صدارت جسٹس ایل ناگیشور راؤ کر رہے تھے۔
2011 میں کولکاتا میں ایک سیکس ورکر کی شکایت پر سپریم کورٹ نے از خود نوٹس لیا تھا اور اسی معاملے میں اب یہ احکامات جاری کیے گئے ہیں۔ اس معاملے میں دربار مہیلا سمنوے کمیٹی کی پیروی سینیئر وکیل آنند گروور کر رہے تھے۔ یہ کمیٹی خواتین کے حقوق کے لیے کام کرتی ہے۔ انہوں نے بی بی سی کو بتایا کہ یہ عدالت عظمیٰ کا ایک زبردست فیصلہ ہے۔ انہوں نے کہا کہ یہ پہلی بار ہے کہ سپریم کورٹ نے سیکس ورکرز کے بارے میں اتنا بڑا فیصلہ سنایا ہے۔
آنند گروور نے بتایا کہ ’سپریم کورٹ کے اس فیصلے نے سیکس ورکرز کی برادری کو ایک بہت اچھا پیغام دیا ہے۔ اب سیکس ورکرز کے ساتھ عزت سے پیش آیا جانا چاہیے نا کہ ان کے ساتھ مجرموں جیسا یا ایسا سلوک ہو جیسے وہ اس ملک کے شہری نہیں۔ انہیں راشن کارڈ، شناختی کارڈ اور آدھار کارڈ جیسے حقوق دیے گئے ہیں۔‘
گروور نے یہ بھی کہا کہ اگر سیکر ورکرز اپنی مرضی سے کسی کے ساتھ جنسی تعلق قائم کرتے ہیں اور پولیس چھاپہ مارتی ہے تو ایسی صورت حال میں پولیس کسی بھی سیکس ورکر کو گرفتار نہیں کر سکتی نہ ہی اس بنیاد پر ان کے خلاف کوئی مقدمہ چلایا جا سکتا ہے۔ وہ مجرم نہیں ہیں۔‘
سپریم کورٹ کے اس فیصلے میں سیکس ورکرز کے پیشے کے بارے میں کوئی بات نہیں کی گئی، بلکہ یہ معاملہ پورے ملک میں سیکس ورکرز کی عزت اور ان کے ساتھ ہونے والے سلوک کی بات کرتا ہے۔
- میں سپریم کورٹ نے اس معاملے میں از خود نوٹس لیا تھا۔ اس کے بعد سپریم کورٹ نے اس پر غور کرنے کے لیے ایک کمیٹی تشکیل دی تھی۔ 19 مئی 2022 کو کمیٹی کی سفارشات پر سپریم کورٹ نے یہ احکامات جاری کیے ہیں۔ اس پینل کی صدارت پردیپ گھوش کر رہے تھے۔ کمیٹی نے اپنی سفارشات میں انسانی سمگلنگ کی روک تھام، اس کام کو چھوڑنے کی خواہش رکھنے والوں کو سماجی ڈھانچے میں شامل ہونے میں مدد اور مواقع فراہم کرنا اور جو اس پیشے میں رہنا چاہیں انہیں عزت دینے کی تجویز دی تھی۔
سپریم کورٹ نے ان سفارشات کی منظوری دیتے ہوئے کہا ہے کہ اپنی مرضی سے کام کرنے والی سیکس ورکرز کو پولیس اب گرفتار نہیں کر سکے گی۔ سپریم کورٹ نے یہ بھی حکم جاری کیا کہ وفاق اور ریاستوں کے قانون میں سدھار کے لیے سیکس ورکرز یا ان کے نمائندگان کو شامل کیا جائے۔ عدالت نے کہا ’کسی سیکس ورکر کے بچے کو ماں سے صرف اس بنیاد پر جدا نہیں کیا جانا چاہیے کہ وہ جسم فروشی کرتی ہے۔ با عزت زندگی گزارنا ان کا ہی نہیں ان کے بچوں کا بھی حق ہے۔‘
سپریم کورٹ نے یہ بھی کہا کہ اگر کوئی نابالغ لڑکی سیکس ورکرز کے ساتھ رہتی ہے تو یہ تصور کر لینا ٹھیک نہیں ہے کہ اس کو سمگل کر کے لایا گیا ہے۔ عدالت نے کہا ہے کہ اگر سیکس ورکر کا دعوی ہو کہ بچہ اس کا ہے، تو سچ معلوم کرنے کے لیے ٹیسٹ کیا جا سکتا ہے۔ اگر سیکس ورکر کا دعوی صحیح ثابت ہوتا ہے تو نابالغ بچے کو ماں سے جبری طور پر جدا نہیں کیا جا سکتا ہے۔
عدالت نے پولیس کو حکم دیا کہ اگر سیکس ورکر خاص طور پر کسی ایسے جرم کے بارے میں شکایت درج کرے جس کا تعلق جنسی زیادتی سے ہو، تو اس کے ساتھ تفریق نہیں کی جانی چاہیے۔ جنسی زیادتی کے متاثرین سیکس ورکرز کو فوری طبی امداد اور قانونی دیکھ بھال سمیت دیگر سہولیات فراہم کی جانی چاہئیں۔
عدالت نے پولیس سے حساس ہونے کی اپیل کرتے ہوئے کہا کہ یہ دیکھا گیا ہے کہ سیکس ورکرز کی جانب پولیس کا رویہ اکثر ظالمانہ اور پر تشدد ہوتا ہے۔ ایسا معلوم ہوتا ہے جیسے ان کے حقوق کی کوئی حیثیت ہی نہیں ہے۔
عدالت نے کہا کہ میڈیا کو اس بات کا خاص خیال رکھنا چاہیے کہ گرفتاری یا چھاپے کے دوران کسی سیکس ورکر کی شناخت واضح نا کریں۔ چاہے وہ ملزم ہو یا کوئی متاثرہ۔ ایسی کسی بھی تصویر کو بھی شائع نہ کیا جائے جس سے ان کی شناخت واضح ہوتی ہو۔
سپریم کورٹ نے کہا کہ اگر سیکس ورکر کا آدھار کارڈ بنایا جا رہا ہے تو ان کے آدھار کارڈ پر ایسی کوئی بات نہیں ہونی چاہیے جس سے واضح ہوتا ہو کہ وہ سیکس ورکر ہیں۔