لاپتہ افراد کیس میں اسلام آباد ہائی کورٹ نے پرویز مشرف اور متعدد وزرائے اعظم کو نوٹس جاری کردیا

  • اتوار 29 / مئ / 2022

اسلام آباد ہائی کورٹ نے عدالت نے مدثر نارو سمیت 6 لاپتا افراد کو 17 جون کو  عدالت میں پیش کرنے کا حکم  دیا ہے۔ سیکریٹری داخلہ کو ہدایت کی کہ اس حکم سے وزیر اعظم اور کابینہ کو مطلع کیا جائے۔

اسلام آباد ہائیکورٹ کے چیف جسٹس اطہر من اللہ نے 15 صفحات کا حکم  جاری کیا ہے جس میں آئین کی خلاف ورزیوں پر اٹارنی جنرل کو دلائل کے لیے آخری موقع دیتے ہوئے کہا کہ لاپتا افراد کو عدالت میں  پیش کریں یا ریاست کی ناکامی کا جواز دیں۔

عدالت نے وفاقی حکومت کو پرویز مشرف سےلےکر آج تک تمام وزرائے اعظم کو نوٹس جاری کرنے کا حکم دیا اور کہا کہ کیوں نہ عدالت تمام چیف ایگزیکٹوز پر آئین سے  انحراف پر کارروائی کرے؟ پرویز مشرف نے اپنی کتاب میں لکھا کہ جبری گمشدگیاں ریاست کی غیر اعلانیہ پالیسی تھی اور ہر چیف ایگزیکٹو اس تاثر کو زائل اور وضاحت کرے کہ کیوں نہ ان کے خلاف سنگین غداری کے جرم کے تحت کارروائی کی جائے۔

عدالت نے حکم دیا کہ 6 لاپتا افراد کو عدالت کے سامنے پیش نہ کرنے کی صورت میں مؤثر تحقیقات میں ناکامی کی وضاحت کی جائے۔ عدالتی فیصلے میں کہا گیا کہ وضاحت کریں کہ جبری گمشدگیوں کی غیر اعلانیہ پالیسی سے قومی سلامتی کو خطرے میں کیوں ڈالا گیا؟ عدالت نے حکم دیا کہ وفاقی حکومت عدالتی معاون آمنہ مسعود جنجوعہ کی تجاویز کو زیر غور لاکر آئندہ سماعت پر رپورٹ پیش کرے۔اور لاپتا افراد کی عدم بازیابی کی صورت میں موجودہ اور سابق وزرائے داخلہ عدالت میں پیش ہوں اور بتائیں کہ  ان پر غیر ذمہ داری  کی وجہ سے بھاری جرمانے کیوں نہ عائد کیے جائیں؟