قرضوں کا اتنا بوجھ ہے کہ شاید نسلیں بھی قرضہ نہ اتار سکیں: وزیر اعظم
وزیراعظم شہباز شریف نے کہا ہے کہ قرضوں کا اتنا بوجھ ہے کہ شاید ہماری نسلیں بھی یہ قرضے نہ اتار سکیں لیکن ہمیں اللہ تعالیٰ پر بھروسہ ہے۔ ہم نواز شریف کی قیادت میں دن رات محنت کریں گے۔
مانسہرہ جلسے سے خطاب میں وزیر اعظم کا کہنا تھا کہ پشاور کو لاہور کی طرح ترقی دلانی ہے تو آپ کو فیصلہ کرنا ہوگا، اس شخص سے نجات حاصل کرنا ہوگی جو انا پرست ہے، جو یوٹرن لیتا ہے۔ اس کے دور میں مہنگائی آسمانوں سے باتیں کرتی رہی، غربت میں اضافہ ہوا، ایک اینٹ نہیں لگائی، دو کروڑ نوکریاں دور کی بات ایک نوکری نہیں دی، لاکھوں لوگ بیروزگار ہوگئے۔
انہوں نے کہا کہ اللہ تعالیٰ نے موقع دیا تو خیبر پختونخوا کو پنجاب بناؤں گا۔ فیصلہ کرلو کہ پاکستان تعمیر کرنے والا نواز شریف چاہیے یا عمران خان والا۔ آپ سے وعدہ کرتا ہوں کہ زندگی لگا دوں گا اور آپ کو خوشحال بناؤں گا۔
مانسہرہ میں میڈیکل کالج بنانے کا اعلان کرتے ہوئے کہا کہ اس کالج سے ڈاکٹر بن کر عوام کی خدمت کریں۔
ان کا کہنا تھا مانسہرہ اور گرد و نواح کے علاقوں کی ترقی اور گلی محلوں کے مسائل کے لیے ایک ارب روپے کے پیکیج کا اعلان کرتا ہوں، اسی طرح ہزارہ کے لیے علیحدہ الیکٹرک کمپنی کا مطالبہ کیا گیا ہے، میں یہاں ہزارہ کی الیکٹرک کمپنی کا اعلان کرتا ہوں جس کے آپ کو بے پناہ فوائد ملیں گے۔
وزیر اعظم نےاگلے بجٹ میں نوجوانوں کے لئے فری لیپ ٹاپ مہیا کرنے کا اعلان کیا۔ انہوں نے کہا کہ نواز شریف نے پاکستان کو خوشحال اور ترقی سے ہمکنار کرانے کے لیے دن رات محنت کی۔
شہباز شریف کا کہنا تھا کہ دل پر پتھر رکھ کر پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتیں بڑھانا پڑیں لیکن 8 کروڑ لوگوں کو سبسڈی بھی دی، عمران خان نے آخری دنوں میں تیل کی قیمتیں کم کیں کیونکہ اس کو پتا تھا کہ وہ آئینی طریقے سے جارہا ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ بلوچستان میں بلدیاتی انتخابات میں 30 سے 35 فیصد ٹرن آؤٹ ہے جو حوصلہ افزا خبر ہے۔ اس سے یہ ظاہر ہوتا ہے کہ دور دراز رہنے والے لوگوں کو جمہوریت پر یقین ہے۔
پاکستان مسلم لیگ (ن) کی نائب صدر مریم نواز خیبرپختونخوا نے انتشار اور فتنے پر مبنی مارچ کو ایبسولٹی ناٹ کہہ کر مسترد کردیا۔ مریم نواز نے مانسہرہ جلسے سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ عمران خان کے ناکام ترین دھرنے کا اصل مقصد فتنہ اور انتشار تھا۔ خیبر پختونخوا کے عوام کی محنت اور خون پسینے کی کمائی پانی کی طرح بہا دی، خیبرپختونخوا کے مسائل پر آپ کا حق تھا جس سے سڑکیں، ہسپتال، اسکول و کالج بننے چاہیے تھے۔