سپریم کورٹ نے تحفظ نہ دیا تو احتجاج کے لئے مختلف حکمت عملی بنائیں گے: عمران خان

  • سوموار 30 / مئ / 2022

پاکستان تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان نے کہا ہے کہ اگر مستقبل میں احتجاج کے لئے سپریم کورٹ نے تحفظ نہ دیا تو ہم دوسری حکمت عملی بنائیں گے اور حکومت کی رکاوٹوں کے خلاف منصوبہ بندی کر کے جائیں گے۔

پشاور میں وکلا کنونشن سے خطاب کرتے ہوئے عمران خان نے کہا کہ اس ملک کو بچانے کے لیے وکلا برادری کا اہم کردار ہے۔ آپ نے اسے جہاد سمجھنا ہے کیونکہ یہ اس قوم کی حقیقی آزادی کی جنگ ہے، بیرونی سازش کی وجہ سے جو وقت اس ملک پر آ گیا ہے، اگر ہم نے اس کا سامنا نہ کیا تو ہماری آنے والی نسلیں ہمیں کبھی معاف نہیں کریں گی۔

ہم نے ماضی میں دیکھا کہ جیسے ہی فوج جمہوری حکومت کو ہٹا کر اقتدار سنبھالتی تھی تو لوگ مٹھائیاں بانٹتے تھے، جشن مناتے تھے کیونکہ جمہوری حکومتوں کے لوگ جمہوریت کے لیے درکار اخلاقیات کھو بیٹھتے تھے۔ پیسے بنانے شروع ہو جاتے تھے، پاکستان میں ساری حکومتیں کرپشن پر گئی ہیں۔ یہ پہلی مرتبہ ہوا ہے کہ پاکستان میں ایک جمہوری حکومت کو ہٹایا گیا تو کرپشن پر نہیں ہٹایا گیا۔

ان کا کہنا تھا کہ سازش کر کے اپنے لوگ اوپر لا کر بٹھا دیے ہیں لیکن عوام ان کے ساتھ نہیں ہیں۔ یہ لوگ الیکشن کراتے ہوئے بھی ڈرتے ہیں۔ عوام میں جاتے ہیں تو چور اور غدار کے نعرے لگائے جاتے ہیں، اگر مدینہ میں نعرے لگے تو ہمارا کیا قصور تھا؟ اس سے بھی زیادہ کیا لعنت ہو گی کہ لوگوں نے آپ پر مدینہ میں بھی نعرے لگا دیے ہیں اور ایف آئی آر ہم پر کٹوا دی۔

سابق وزیراعظم نے کہا کہ میں وکلا اور عدلیہ سے کہنا چاہتا ہوں کہ آپ کو تاریخ معاف نہیں کرے گی کیونکہ قانون کی بالادستی یقینی بنانا آپ کا کام ہے۔ آپ آج کھڑے نہ ہوئے تو آپ کے بچے آپ کو معاف نہیں کریں گے۔ سب سے پہلے سپریم کورٹ کو اسٹینڈ لینا چاہیے۔ ہم سپریم کورٹ سے رولنگ لے رہے ہیں کہ پرامن احتجاج ہمارا جمہوری حق ہے یا نہیں۔ یہ پختونخوا اور گلگت بلتستان کے وزیراعلیٰ کو کیسے روک سکتے ہیں اور انہوں نے ہمیں کس قانون کی بنیاد پر روکا تھا۔

انہوں نے کہا کہ میں سپریم کورٹ سے کہہ رہا ہوں کہ ہمیں رولنگ دیں کہ ہمیں کس بنیاد پر روکا گیا اور ہمیں بتائے کہ جب ہم دوبارہ آئیں گے تو کیا سپریم کورٹ اس طرح کے غیرجمہوری رویے کی اجازت دے گا۔ اگر سپریم کورٹ ہمیں تحفظ دیتا ہے تو وہ ہماری ایک حکمت عملی ہو گی لیکن اگر وہ ہمیں تحفظ نہیں دیتا تو پھر میری دوسری حکمت عملی ہو گی اور وہ حکمت عملی یہ ہو گی کہ یہ جو بھی رکاوٹیں کھڑی کریں گے ہم منصوبہ بندی کر کے جائیں گے۔