جبری گمشدگیوں پر پالیسی سازی کے لئے کمیٹی قائم کردی گئی

  • سوموار 30 / مئ / 2022

وفاقی حکومت نے جبری گمشدیوں سے متعلق پالیسی پر غور کرنے کے لیے 7 رکنی کمیٹی تشکیل دے دی ہے۔

وفاقی حکومت نے اقدام  اسلام آباد ہائی کورٹ کے نوٹس پر لیا ہے۔ عدالت نے گمشدگیوں سے متعلق درخواست پر سماعت کے دوران حکومتی سربراہان سے سوال کیا تھا کہ اس بات کی وضاحت کریں کہ جبری گمشدگیاں ریاست کی حکمت عملی کیسے بنی۔

وزارت داخلہ کی جانب سے جاری نوٹی فکیشن کے مطابق کمیٹی کی سربراہی وزیر قانون و انصاف اعظم نذیر تارڑ کریں گے۔ اس کے دیگر اراکین میں وزیر داخلہ رانا ثنااللہ، وزیر برائے سماجی تحفظ و تخفیف غربت شازیہ مری، وزیر مواصلات اسعد محمود، وزیر دفاع پیداوار محمد اسرار ترین، وزیر بحری امور فیصل علی سبزواری اور وزیر سائنس و ٹیکنالوجی آغا حسن بلوچ شامل ہیں۔

نوٹی فکیشن میں کہا گیا ہے کہ کمیٹی کی سفارشات اور رپورٹ مزید غور کے لیے وفاقی کابینہ میں پیش کی جائیں گی۔ کمیٹی کو نامور ماہر قانون، انسانی حقوق کی تنظیموں کے نمائندوں اور دیگر اراکین کو کمیٹی میں شامل کرنے کی اجازت ہوگی۔

یہ پیش رفت اسلام آباد ہائی کورٹ کے چیف جسٹس اطہر من اللہ کے اتوار کے روز 15 صفحات پر مشتمل ایک حکم نامے کے بعد سامنے آئی ہے، جس میں وفاقی حکومت کو سابق صدر ریٹائرڈ جنرل پرویز مشرف اور ان کے بعد ملک کے چیف ایگزیکٹوز بشمول عمران خان اور موجودہ وزیر اعظم شہباز شریف جبری گمشدگیوں سے متعلق پالیسی کی غیر اعلانیہ منظوری سے متعلق نوٹس جاری کرنے کی ہدایت کی گئی تھی۔

عدالت نے یہ احکامات صحافی مدثر محمود نارو اور دیگر پانچ افراد کی گمشدگی سے متعلق کیس میں ان کی درخواستیں حتمی دلائل کے لیے مقرر ہونے کے بعد دیے، تاہم وفاقی حکومت نے سماعت ملتوی کرنے کی درخواست کی تھی۔