عمران خان کے عزائم دہشت گرد جیسے ہیں، اس فساد کو روکنا عین جہاد ہے: مریم نواز
مسلم لیگ(ن) کی نائب صدر مریم نواز نے کہا ہے کہ عمران خان کے عزائم ایک دہشت گرد جیسے ہیں، دہشت گرد بھی اسی طرح ہتھیاروں کے ساتھ حملہ آور ہوتے ہیں۔ میں پورے وثوق کے ساتھ کہہ سکتی ہوں کہ یہ جہاد نہیں فساد ہے اور اس فساد کو روکنا عین جہاد ہے۔
مسلم لیگ(ن) کی نائب صدر مریم نواز نے کہا کہ آج پاکستان جس قسم کے حالات سے دوچار ہے اس میں ہم کس جماعت سے تعلق رکھتے ہیں اس سے قطع نظر ہماری پاکستانیت اور حب الوطنی ہم سب کو آواز دے رہی ہے، ہمارا ملک ہم سب کو آواز دے رہا ہے۔ گزشتہ چار سال کے دوران معیشت پر جو کاری ضربیں لگیں، اس بے حس حکومت نے چار سال سوائے انتقام اور سرکاری وسائل اپنی ذات پر خرچ کرنے کے سوا کچھ نہیں کیا۔
ان کا کہنا تھا کہ آئی ایم ایف کے ساتھ 30روپے لیٹر پیٹرول ڈیزل مہنگا کرنے کا جو معاہدہ عمران خان کر کے گیا تھا اور آئی ایم ایف کے ہاتھوں پاکستان کو گروی رکھ کر چلا گیا، اس سے بڑی سازش کسی اور نے پاکستان کے ساتھ نہیں کی۔ عمران خان ہر جگہ بارودی سرنگیں بچھا گیا ہے۔ حکومت پوری کوشش کررہی ہے اور کڑوا گھونٹ پینا پڑ رہا ہے۔
انہوں نے کہا کہ سعودی عرب جیسے دیرینہ دوست کے بارے میں اس نے وزیراعظم ہوتے ہوئے بدکلامی کی، جو برے کلمات ادا کیے وہ ہمارے تمام دوستوں تک پہنچے اور وہ پاکستان سے ناراض تھے، یہ وہ بارودی سرنگیں پاکستان کے لیے بچھا گئے ہیں۔ چینی وفد نے وزیر اعظم شہباز شریف سے ملاقات میں سابقہ حکومت کے حوالے سے اپنے تحفظات کا اظہار کیا جبکہ ترکی کی کاروباری برادری بھی ناراض ہے۔
مسلم لیگ(ن) کی رہنما نے کہا کہ عمران خان کہہ رہا ہے کہ یہ جہاد ہے، اس جہاد کے لیے نکلو۔ میں پورے وثوق کے ساتھ کہہ سکتی ہوں کہ یہ جہاد نہیں فساد ہے اور اس فساد کو روکنا عین جہاد ہے۔ کل انہوں نے خود ایک انٹرویو میں اعتراف جرم کیا کہ میرے لوگ لانگ مارچ میں مسلح تھے۔ وزیر اعظم اور وزیر داخلہ بھی تو یہی کہہ رہے تھے کہ ہمارے پاس انٹیلی جنس رپورٹس ہیں کہ یہ مسلح لوگ لے کر وفاق پر حملہ آور ہو رہے ہیں۔
ان کا کہنا تھا کہ وزیر خیبر پختونخوا نے بیان دیا کہ میں خیبر پختونخوا کی فورس کو استعمال کروں گا، اس کا مطلب یہ ہے کہ میں خیبر پختونخوا کو استعمال کر کے پاکستان اور وفاق پر حملہ کروں گا۔ لیکن خیبر پختونخوا کے غیور پختونوں نے ہم سے بھی پہلے عمران کے عزائم کو سمجھ لیا اور عمران کے لانگ مارچ میں حصہ نہ لے کر اس کو ناکام بنا دیا۔
انہوں نے کہا کہ ایک دہشت گرد اور عمران خان میں کیا فرق ہے۔ دہشت گرد بھی اسی طرح ہتھیاروں کے ساتھ حملہ آور ہوتے ہیں، ایک صوبے کو دوسرے صوبے سے لڑاتے ہیں۔ وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا کا بیان ایک صوبے کو وفاق سے لڑانے اور ایک صوبے کو دوسرے صوبے سے لڑانے کی گھناؤنی سازش ہے۔ اگر عمران خان کو دہشت گردی اور فساد کرنا ہے، فتنہ اور انتشار پھیلانا ہے تو اپنے چہرے سے سیاسی جماعت کا نقاب اتار کر آؤ اور ریاست پاکستان سے مقابلہ کرو، دیکھیں گے کہ کون جیتے گا۔ انشااللہ ریاست پاکستان جیتے گی۔