عمران خان کے دھمکی آمیز بیانات کا جائزہ لینے کے لیے کمیٹی تشکیل دے دی گئی

  • منگل 31 / مئ / 2022

وفاقی وزیر داخلہ رانا ثنااللہ نے سابق وزیر اعظم عمران خان کے بیان کا نوٹس لیتے ہوئے کمیٹی تشکیل دینے کا اعلان کیا ہے۔ کمیٹی  لانگ مارچ کے دوران مبینہ طور پر مجرمانہ سرگرمیوں کا جائزہ لے گی اور اس کی روشنی میں مقدمات درج ہوں گے۔

وفاقی کابینہ کے اجلاس کے بعد پریس کانفرنس کرتے ہوئے رانا ثنااللہ نے کہا کہ عمران خان اور وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا محمود خان کے بیانات پر کمیٹی تشکیل دی گئی ہے۔

واضح رہے کہ وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا محمود خان نے گزشتہ کہا تھا کہ جب عمران خان ایک اور احتجاجی مارچ کی کال دیں گے تو وہ صوبے کی ’فورس‘ استعمال کریں گے۔ سابق وزیراعظم عمران خان نے نجی ٹی وی کو ایک انٹرویو میں کہا تھا انہیں خدشہ تھا کہ ’خونریزی‘ ہونے والی ہے کیونکہ ان کی پارٹی کے کچھ کارکن بھی مسلح تھے۔ اور حکام کے خلاف جوابی کارروائی کر سکتے تھے۔

رانا ثنا اللہ نے کہا کہ عمران خان کے مجرمانہ ایجنڈے کو آگے بڑھانے اور اس کی تکمیل کے لیے تمام سرکاری وسائل کو بروئے کار لایا گیا اور پولیس کے مسلح جوانوں کو غیر آئینی اور غیر قانونی حکم کے تحت کرمنل گینگ لشکر میں شامل کیا گیا۔ ان کا کہنا تھا کہ پولیس کے علاوہ دیگر محکموں کے وسائل کو بھی بروئے کار لایا گیا۔ اور اس طرح یہ لوگ اپنے ایجنڈے کے لئے وفاق پر حملہ آور ہوئے۔

وزیر داخلہ نے کہا کہ لانگ مارچ میں مسلح لوگوں کی تعداد چند ہزار تھی۔ وہ ملک کے دارالحکومت اسلام آباد کی طرف بڑھے اور جب ان کو روکا گیا تو انہوں نے پولیس پر فائرنگ کی اور مسلح انداز سے پولیس اہلکاروں کو یرغمال بھی بنایا۔ اس کرمنل گینگ کو روکنے کے لیے جو رکاوٹیں قائم کی گئی تھیں ان کو بھی لانگ مارچ کے شرکا نے ہٹایا اور عدالت عظمیٰ میں دھوکہ دہی اور غلط بیانی سے کام لیتے ہوئے، حکم نامہ جاری کروایا جس میں ان کو اسلام آباد میں داخل ہونے کے لیے راستہ دینے کا حکم دیا گیا تھا

رانا ثنااللہ نے کہا کہ عدالتی حکم کے باوجود ہم نے تحریک انصاف کو مقررہ وقت فراہم کیا مگر ان کا مقصد جلسہ کرنا تھا ہی نہیں، ان کا مقصد اسلام آباد میں داخل ہو کر افراتفری اور انارکی پھیلانا اور دارالحکومت پر قبضہ کرنا تھا۔ لانگ مارچ  سے قبل 3 سے 4 ہزار لوگ ڈی چوک پر جمع ہوگئے تھے اور ان سب کا تعلق ایک ہی صوبے سے تھا جو کسی سیاسی ایجنڈے پر نہیں بلکہ اس کرمنل گینگ کے فرنٹ کے طور پر ایک دن پہلے ہی آگئے تھے۔

انہوں نے کہا کہ تحریک انصاف نے عدالت عظمیٰ کے احکامات کی بھی توہین کی، معزز عدالت نے ہماری توہین عدالت کی درخواست پر سماعت نہیں کی لیکن میں سمجھتا ہوں کہ عمران خان کے اس بیان کے بعد کہ ہمارے ساتھ لوگ مسلح تھے، اس کے بعد ہماری کسی رپورٹ کی کوئی ضرورت باقی نہیں رہی۔

انہوں نے کہا کہ یہ کوئی جمہوری اور سیاسی سرگرمی نہیں بلکہ ایک مجرمانہ عمل تھا جو پاکستان پینل کوڈ کے تحت قابل سزا ہے۔ پولیس کی جانب سے ایک بھی گولی نہیں چلائی گئی صرف آنسو گیس اور ربر کی گولیاں چلائی گئی تھیں۔ عمران خان کا لانگ مارچ اگر ریاست مخالف ہوا تو سختی سے نمٹا جائے گا اور مقدمہ درج کیا جائے گا۔

قبل ازیں وفاقی کابینہ کا اجلاس وزیر اعظم شہباز شریف کی زیر صدارت منعقد ہوا۔ کابینہ نے عوام کو عمران خان کے 25 مئی کے لانگ مارچ کو مسترد کرنے پر مبارکباد دی۔ وزیر اعظم نے کابینہ کو بتایا کہ انہوں نے وزارت داخلہ اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کو ہدایت کی تھی کہ کسی بھی اہلکار کے پاس اسلحہ نہیں ہونا چاہے۔

وزیر داخلہ رانا ثنااللہ نے اجلاس کو بتایا کہ کسی بھی اہلکار کے پاس اسلحہ نہیں تھا۔ وفاقی کابینہ نے قانون نافذ کرنے والے تمام اہلکاروں کو اپنے فرائض بخوبی انجام دینے پر خراج تحسین پیش کیا۔

وزیر اعظم نے وفاقی وزیر داخلہ رانا ثنااللہ، مشیر برائے امور کشمیر و گلگت بلتستان قمر زمان کائرہ سمیت 5 رکنی کمیٹی تشکیل دی۔ وزیر داخلہ نے اجلاس کو باور کرایا کہ ریاست مخالف کوئی لانگ مارچ ہوا تو اس سے سختی سے نمٹا جائے گا۔