امام خمینی کی برسی
- تحریر قیوم راجہ
- منگل 31 / مئ / 2022
ایرانی انقلاب کے حامی چار جون کو ہر سال کی طرح دنیا بھر میں امام خمینی کے یوم وفات کی تقریبات منعقد کر رہے ہیں۔
حضرت سید روح اللہ موسوی خمینی المعروف امام خمینی 24 ستمبر 1902 کو خمین میں پیدا ہوئے اور تین جون 1989 کو تہران میں وفات پائی۔ میں اس وقت برطانیہ میں ایک سیاسی قیدی کی حیثیت سے غیر معینہ مدت کے لیے خفیہ سزا بھگت رہا تھا۔ برطانوی میڈیا کے رد عمل کے مطابق امام خمینی کی وفات کے ساتھ ہی ایرانی انقلاب کو بھی موت ا گئی تھی مگر 33 سال بعد بھی برطانوی میڈیا کی پیش گوئی درست ثابت ہوتی ہوئی نظر نہیں آ رہی۔
خمین ایران کے روحانی شہر قم سے 160 اور دارالحکومت تہران سے 325 کلو میٹر دور واقع ہے۔ ان کے والد آغا مصطفی کے خاندان نے کشمیر سے ایران ہجرت کی۔ ان کی خاندانی نسبت سید علی شاہ ہمدانی سے ملتی ہے ان کی والدہ کا نام خانم حاجیہ تھا۔ امام کی عمر ابھی صرف پانچ ماہ تھی جب امام کے والد محترم مقامی لینڈ لارڈ کے حکم پر قتل کر دیے گے تھے۔ مستقبل کے امام خمینی اور اسلامی انقلاب کے قائد کی پرورش پہلے ان کی والدہ اور خالہ نے کی اور ان دونوں کی وفات کے بعد امام خمینی کے بڑے بھائی مرتضی نے کی جنہوں نے اسلامی اداروں میں ان کو ابتدائی تعلیم دلوائی۔
1922 میں امام خمینی نے قم میں سکونت اختیار کی جہاں فلسفہ کے ایک سکالر مرزاعلی اکبر یزدی ان کے استاد تھے۔ 1929 میں محترم یزدی کی وفات کے بعد جاوید آغا مالکی تبریزی اور رفیع قازوینی کی زیر سرپرستی امام خمینی کا تعلیمی سفر جاری رہا۔ 1930 تک امام خمینی ایک نامور سکالر کی حیثیت اختیار کر چکے تھے۔ یہی وہ وقت تھا جب انہیں خمین سے تعلق کی وجہ سے خمینی کا لقب دیا گیا۔ قم میں امام کی تحقیقی و تخلیقی صلاحیتیں ابھر کر سامنے آئیں۔ ادارہ راہ حق نے ان کی موجودگی میں کافی ترقی کی جس سے طلباء کی بھاری تعداد فیضیاب ہوئی جس نے آگے چل کر اسلامی انقلاب کی آبیاری کی۔ قانون، فلسفہ اور اخلاقیات امام خمینی کے اہم قلمی موضوعات تھے لیکن جس چیز نے انہیں پہلے قومی اور بعد میں عالمی سطح کی انقلابی شخصیت کے طور ہر متعارف و مشہور کیا وہ امام خمینی کا شاہ ایران کی اندرونی و خارجہ پالیسیوں کی مخالفت تھی۔ امام خمینی نے شاہ ایران کی مغرب پرستی اور سفید انقلاب کی ڈٹ کر مخالفت کی اور اسلامی پاکیزگی کی کھل کر حمایت کی۔ 1950 میں امام خمینی کو آیت اللہ اور 1960 میں عظیم أیت اللہ کے خطابات ملے۔ 1953 میں شاہ ایران کے جرنیلوں نے قوم پرست وزیر اعظم محمد مصدق کا تختہ الٹ کر تودہ پارٹی کے ہزاروں کارکنوں کو تہ و تیغ کیا تو ایرانی علماء نے اس کا سخت نوٹس لیتے ہوئے خود کو مزید منظم کیا۔
1960 میں شاہ ایران نے سفید انقلاب کے نام پر مذہبی حلقوں کو نشانہ بنا کر اپنے پاؤں پر کلہاڑی ماری۔ شاہ کی ان پالیسیوں نے ایران کی معیشت اور انسانی حقوق کی بری طرح پامالی کی۔ 1963 میں امام خمینی کو ان پالیسیوں کی مخالف کی وجہ سے گرفتار کر لیا گیا اور چار نومبر 1964 کو شاہ نے امام خمینی کو ملک بدر کر دیا۔ امام خمینی نے قم کے ہم پلہ عراقی شہر النجف کو اپنا مسکن بنایا جہاں انہوں نے اپنا روحانی اور اسلامی بیداری کا مشن جاری رکھا۔ النجف میں امام خمینی کا نیٹ ورک مضبوط ہونا شروع ہوا تو عراق کے اس وقت کے صدر صدام حسین نے چھ اکتوبر 1978 کو ملک چھوڑنے پر مجبور کیا۔ امام خمینی کویت بارڈر پر پہنچے جہاں ان سے پاسپورٹ طلب کیا گیا تو انہوں نے کہا ایک مسلمان کو ایک اسلامی ملک سے دوسرے اسلامی ملک میں داخلے کے لیے پاسپورٹ اور ویزے کی کیا ضرورت ہے۔
بد قسمتی سے مسلمان ممالک کے درمیان ان پابندیوں میں کمی کے بجائے دن بدن اصافہ ہی ہوتا جا رہا ہے۔ امام خمینی کے ساتھیوں نے امام کی پیرس نقل مکانی کے انتظامات کیے مگر جوں جوں امام خمینی ایران سے دور ہوتے گئے توں توں انقلاب ایران قریب آتا گیا۔ پیرس سے امام خمینی کی ٹیپ ریکارڈڈ تقاریر ان کی عوام تک ایران پہنچتی رہیں۔ پھر وہ وقت آ گیا جب شاہ ایران کے لیے ایران کی دھرتی تنگ ہونا شروع ہوئی۔ عوام شاہ کے خون کی پیاسی ہو گئی۔ 16 جنوری 1979 کو شاہ ایران ملک سے فرار ہو گئے۔ وہ امریکہ جانا چاہتے تھے لیکن امریکہ نے یہ خطرہ مول لینے سے انکار کر دیا۔ یکم فروری 1979 کو امام خمینی باوقار طریقے سے ایران واپس لوٹے اور 11 فروری کو انہوں نے اسلامی حکومت کے قیام کا اعلان کیا۔
یہی وہ سال تھا جب کم عمری کے باعث راقم کی سیاسی بیداری کے سفر کا باقاعدہ آغاز نہیں ہوا تھا کہ اس سال کے جون میں راقم نے اپنے بڑے بھائی نزیر راجہ صاحب کے پاس ہالینڈ جانے کے لیے یورپ کا رخت سفر باندھا۔ یورپ پہنچ کر حیرت ہوئی کہ جمہوریت کا حامی مغرب ایران کے جمہوری اسلامی انقلاب کا مخالف تھا۔ اپنے ملکوں میں جہاں اہل مغرب عوامی راج کے حامی تھے وہاں وہ ایران اور پاکستان میں جمہوریت کے مخالف تھے۔ ایران میں انہیں شاہ کی شکل میں اور پاکستان میں ایک فوجی ڈکٹیٹر کی شکل میں حکمرانوں کی ضرورت تھی جس کی وجہ سے دور سے میں جس مغرب سے متاثر تھا اسے قریب سے دیکھ کر کچھ مایوسی ہوئی۔
ایران پر امریکہ نے فوری طور پر اقتصادی پابندیاں عائد کروا دیں۔ تین سال قبل میں ایران گیا جہاں قم میں بیت خمین جانے کی دیرینہ خواہش پیدا ہوئی۔ بیت خمین کی مٹی کی دیواریں اپنی اصلی حالت میں ہیں لیکن اس کے در و دیوار بتا رہے تھے کہ کسی دور میں یہاں کوئی بڑی شخصیت رہی ہے۔ ہمیں وہ تمام کمرے دکھائے گئے جہاں امام خمینی مطالعہ، درس و تدریس کے فرائض سر انجام دینے ، آرام کرنے کے علاوہ مہمانوں سے ملا کرتے تھے۔ بیت خمین کے انچارج کو جب پتہ چلا کہ ہمارا تعلق کشمیر سے ہے تو اس نے مجھے امام خمینی کی وہ گفتگو سنائی جس میں وہ کہتے تھے کہ کس طرح ان کے خاندان کو ہندوستان نے کشمیر چھوڑنے پر مجبور کیا مگر جب وہ قائد انقلاب کی حیثیت سے ایران واپس آئے تو وہی ہندوستان انہیں خمینی ہندی کے نام سے پکارنے لگا۔
ایران مسلسل عالمی اقتصادی پابندیوں کا مقابلہ کرتا آ رہا ہے۔ ایرانی عوام اسلامی انقلابی حکومت کے ساتھ محض اس لیے کھڑی ہے کہ ان کے اندر اسلامی بیداری کی بے مثال قوت موجود ہے ورنہ چار دہائیوں سے زائد اقتصادی پابندیوں کی موجودگی میں زندہ رہنا ناممکن تھا۔ ایرانی عوام نے اپنے عمل سے دنیا میں ثابت کیا کہ کسی غیرت مند قوم کو بلیک میل نہیں کیا جا سکتا۔ اکثر مسلمان ملکوں کے بر عکس امام خمینی نے موروثی سیاست کو فروغ نہیں دیا بلکہ ایک مضبوط اسلامی جمہوری ریاست کی بنیاد رکھ کر اپنے اقتدار کی منتقلی کی بہترین مثال قائم کی۔ یہی ایرانی انقلاب کی کامیابی کا راز ہے۔ ایرانی عوام امام خمینی کے جانشین آیت اللہ خامنہ ای کے ساتھ چٹان کی طرح کھڑے ییں۔