الیکشن کمیشن کسی خوف کے بغیر فیصلے کرتا رہے گا: چیف الیکشن کمشنر

  • بدھ 01 / جون / 2022

چیف الیکشن کمشنر سکندر سلطان راجا نے کہا ہے کہ الیکشن کمیشن آف پاکستان انتخابات کے لیے ہمیشہ تیار ہےاور بغیر کسی خوف کے فیصلے کرتا رہے گا۔

2 نئے اراکین کی حلف برداری کے بعد صحافیوں سے غیر رسمی گفتگو کے دوران کمیشن پر تعصب کے الزامات کا جواب دیتے ہوئے کہا کہ الیکشن کمیشن اپنے فیصلے بے خوف ہو کر کرتا ہے اور وہ ایسا کرتا رہے گا۔ سب ہمارے دوست ہیں اور ای سی پی قانون اور آئین کے مطابق فیصلے کرتا ہے۔ اگر کوئی ان فیصلوں سے ناخوش ہے یا اس سے اختلاف کرتا ہے تو یہ ان کا مسئلہ ہے۔

صحافیوں سے گفتگو میں چیف الیکشن کمشنر سے عام انتخابات کے بارے میں سوال کیا گیا جس پر انہوں نے جواب دیا کہ ای سی پی ہمیشہ انتخابات کے لیے تیار ہے اور نئے انتخابات کا فیصلہ حکومت کو کرنا ہے۔ ای سی پی کا کام شفاف اور منصفانہ انتخابات کرانا ہے۔ حلقہ بندیوں پر کام تیزی سے کیا جا رہا ہے، مردم شماری کے سرکاری نتائج کے اجرا سے قبل حتمی حلقہ بندی ممکن نہیں۔

انہوں نے کہا کہ مردم شماری پر ای سی پی کا واضح مؤقف ہے۔ 2017 کی مردم شماری کے نتائج مئی 2021 میں جاری کیے گئے تھے اور اس کے بعد حلقہ بندی شروع کی گئی تھی۔  2018 میں حلقہ بندیوں اور انتخابات کے حوالے سے آئینی ترمیم متعارف کرائی گئی تھی۔ انہوں نے کہا  کہحکومت اب ڈیجیٹل مردم شماری چاہتی ہے اور اگر اس کے نتائج دسمبر 2022 تک جاری ہو جائیں تو حلقہ بندی وقت پر مکمل ہو سکتی ہے۔ اگر نتائج میں تاخیر ہوئی تو الیکشن 2017 کی مردم شماری کی بنیاد پر کرائے جائیں گے۔

ای سی پی کی جانب سے پی ٹی آئی کے اراکین اسمبلی کے استعفوں پر کوئی پیشرفت نہ ہونے سے متعلق سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ سابق ڈپٹی اسپیکر قاسم سوری نے کیس الیکشن کمیشن کو نہیں بھیجا تھا۔ غیر ملکی فنڈنگ کیس سے متعلق سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ کیس کی کارروائی جاری ہے، تمام فریقین کو وضاحت کا موقع دینا ضروری ہے۔

قبل ازیں چیف الیکشن کمشنر نے ای سی پی کے 2 نئے ارکان سے حلف لیا۔ جسٹس (ر) اکرام اللہ خان نے خیبرپختونخوا اور بابر حسن بھروانا نے پنجاب سے رکن الیکشن کمیشن کے عہدے کا حلف اٹھایا۔ واضح رہے کہ پی ٹی آئی نے سکندر سلطان راجا اور الیکشن کمیشن پر جانبداری کا الزام عائد کیا ہے۔ سابق وزیراعظم عمران خان اکثر ان سے مستعفی ہونے کا مطالبہ کرتے رہے ہیں۔

پی ٹی آئی نے چیف الیکشن کمشنر کے خلاف ریفرنس دائر کرنے کا اعلان بھی کرچکی ہے۔ الیکشن کمیشن کی جانب سے پی ٹی آئی کے خلاف غیر ملکی فنڈنگ کیس کی روزانہ سماعت کے اعلان کے ایک روز بعد 16 اپریل کو پی ٹی آئی رہنما اور سابق وزیر برائے انسانی حقوق ڈاکٹر شیریں مزاری نے ای سی پی پر الزام عائد کرتے ہوئے کہا تھا اس کا رویہ پی ٹی آئی کے خلاف متعصبانہ ہے۔