پی ٹی آئی نے احتجاج کے لئے سپریم کورٹ میں درخواست دائر کردی

  • بدھ 01 / جون / 2022

پاکستان تحریک انصاف نے اسلام آباد میں لانگ مارچ کے لیے سپریم کورٹ میں درخواست دائر کردی ہے۔ درخواست پی ٹی آئی کے سیکریٹری جنرل اسد عمر کی جانب سے علی ظفر ایڈووکیٹ نے جمع کرائی۔

درخواست میں وزارت داخلہ، آئی جی اسلام آباد اور ہوم سیکرٹریز کو فریق بنایا گیا ہے۔ عدالت سے استدعا کی گئی ہے کہ وفاقی اور پنجاب حکومت کو احتجاج کے لیے اجازت کا حکم دیا جائے۔ احتجاج کے دوران کسی کارکن کو گرفتار نہ کیا جائے، احتجاج کے راستے میں رکاوٹیں حائل نہ کی جائیں، وفاقی اور پنجاب حکومت کو تشدد اور طاقت کے استعمال سے روکا جائے۔

درخواست میں مؤقف اختیار کیا گیا کہ احتجاج ہر شہری کا بنیادی حق ہے۔ آئین پاکستان بھی پرامن احتجاج کی اجازت دیتا ہے، آرٹیکل 4 کے مطابق تمام شہریوں کو یکساں حقوق حاصل ہیں۔ آئین کا آرٹیکل 15، 16، 17 اور 19 پرامن طریقے سے نقل و حرکت، جمع ہونے، بولنے اور اظہار رائے کا حق دیتا ہے۔

تحریک انصاف کے کارکنوں کے خلاف مقدمات آزادی اظہار رائے پر قدغن کے مترادف ہیں۔ واضح رہے کہ گزشتہ ہفتے پی ٹی آئی کے آزادی مارچ کا کنٹینرز کے ذریعے راستہ روکا گیا، پارٹی کارکنان کو آنسو گیس اور پولیس کے لاٹھی چارج کا سامنا کرنا پڑا۔

مظاہرین کے ریڈ زون میں داخل ہونے کے بعد فوج کو طلب کرلیا گیا تھا۔ پی ٹی آئی کے منصوبے کو ناکام بنانے کے لیے حکومت کی جانب سے کریک ڈاؤن کیا گیا جس میں پی ٹی آئی کے ہزار سے زائد رہنماؤں اور کارکنوں کو گرفتار کیا گیا۔ لاہور، راولپنڈی، اسلام آباد اور کراچی سمیت ملک کے دیگر بڑے شہروں میں دفعہ 144 نافذ کر دی گئی جب کہ پنجاب حکومت نے امن و امان کی صورتحال پر قابو پانے کے لیے رینجرز کی طلب کرلی تھی۔