فرخ سہیل گوئندی کا سفرنامہ ’میں ہوں جہاں گرد‘

ترقی پسند خیالات اور ترقی پسند تحریک کے حوالے سے فرخ سہیل گوئندی سے میرا بہت پرانا تعلق ہے۔ وہ خالصتاً نظریاتی، کشادہ ذہن اور مثبت خیالات کا حامل کامریڈ ہے جس کی پوری زندگی معاشرے میں ترقی پسند سوچ کو آگے بڑھانے میں گزری ہے۔

وہ معاشرے میں جدیدیت کا قائل اور ایک ایسے معاشرے کا خواب دیکھ رہا ہے جس میں امن اور انصاف ہو۔ اس کے مطابق وہی معاشرہ ترقی کر سکتا ہے جس میں ہر فرد ملکی وسائل میں حصہ دار ہو اور ملک میں ہونے والی ترقی کے ثمرات صرف بالائی طبقے تک ہی محدود نہ ہوں بلکہ اس کے اثرات نچلے اور محروم طبقات تک بھی پہنچیں۔ اپنی اس سوچ کو پروان چڑھانے کے لئے اس نے”جمہوری پبلی کیشنز “ کے نام سے اپنا اشاعتی ادارہ قائم کیا۔ اور اب تک اس اشاعتی ادارے کے زیر اہتمام بیسیوں کتابیں شائع ہو چکی ہیں جن کی فہرست بڑی لمبی ہے۔

فرخ سہیل گوئندی ایک وسیع النظر، وسیع المشاہدہ اور وسیع المطالعہ شخص ہے۔ اپنے اس وژن کو ترقی دینے کے لئے وہ اکثر حالت سفر میں رہتا ہے۔ وہ اپنے اردگرد چیزوں، انسانوں اور ماحول کو اپنے ترقی پسندانہ نظریات کی روشنی میں دیکھتا اور پرکھتا ہے۔ پھر اپنے مشاہدات کو عام لوگوں تک پہنچانے کے لیئے انہیں تحریری شکل بھی دیتا ہے۔ حال ہی میں اس کا تازہ سفرنامہ ”میں ہوں جہاں گرد“ منصہ شہود پر آیا ہے۔ جس نے کم ترین مدت میں ترقی پسند سوچ کے حامل اور خالصتاً نظریاتی قارئین میں کافی مقبولیت حاصل کی ہے۔

فرخ سہیل گوئندی کا ضحیم سفرنامہ ”میں ہوں جہاں گرد“ آٹھ سو کے قریب صفحات پر محیط ہے۔ جس میں اس نے اسلامی انقلاب کے ملک ایران، خلافت عثمانیہ کی یادگارترکی، اشتراکی ملک ممنوع بلغاریہ ، یونان، یوگوسلاویہ ، چھپن سپوتوں کے شہر روم، عاشقوں کے شہر انقرہ کے درو دیوار، خاص یادگاری مقامات، ان کی تہذیب و ثقافت، وہاں بسنے والے لوگوں کے روزمرہ معمولات کے علاوہ وہاں ہونے والی انقلابی تبدیلیوں کا بھی تفصیل سے ذکر کیا ہے۔

اس سفرنامہ کے قابل ذکر موضوعات میں : میں نے انقلاب ایران دیکھا، اصفہان نصف جہان، اجڑا شاہی محل، تین تہذیبوں کا سنگم ترکی، چھپن سپوتوں کا شہر ارض روم، انقرہ میں عاشقوں کا پارک، بانوے حکمرانوں کا پایہ ءتخت، سکندر اعظم کا تابوت، شہزادوں کا جزیرہ اور جلاوطن کیمونسٹ، حنوط شدہ کیمونسٹ، سکندر اعظم کے باپ کا شہر، کیمونسٹوں کا ابوالہول، کیمونزم میں شگاف، چھو لیا آنکھوں سے یوگوسلاویہ، وغیرہ شامل ہیں۔

 فرخ سہیل گوئندی کے اس سفرنامہ کی ایک اور خصوصیت یہ ہے کہ اس نے عام سیاحوں کی طرح وہاں کے شہروں اور لوگوں کو نہیں دیکھا۔ وہ ایک روائیتی منظر باز نہیں بلکہ وہ اس پورے منظر کے پیچھے چھپی تاریخ کا ذکر کرتا اور ان حقائق پر روشنی ڈالتا ہے جو عام لوگوں کی نظروں سے ابھی تک چھپے ہوئے ہیں۔ کیمونسٹ نظریات اور اشتراکی فلسفے کیسے وقت کی ریت میں دب کر رہ گئے۔ موجودہ نسلیں ان کے حقیقی ثمرات سے کیوں کر محروم ہوتی جا رہی ہیں۔ ان کا اظہار اس نے بڑے دلچسپ انداز میں کیا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ قاری اکثر مقامات پر چونک سا جاتا ہے۔ کہیں افسوس کا بھی اظہار کرتا ہے ۔ اور کہیں اس کے دل میں امید کی ہلکی سی کرن بھی پھوٹنے لگتی ہے۔ بلکہ یوں کہنا چاہئے اس کہ سفر نامہ کو پڑھتے ہوئے قاری خود کئی انقلابی کیفیات سے دوچار ہوتا ہے۔

قصہ مختصر فرخ سہیل گوئندی کا سفرنامہ” میں ہوں جہاں گرد“ بھرپور سیاحتی دلچسپیوں کے ساتھ ساتھ معلومات کا خزانہ ہے۔ جو عصر حاضر میں لکھے جانے والے روائتی سفر ناموں سے ہٹ کر ایک منفرد انقلابی سفرنامہ کے طور پر پڑھا اور یاد رکھا جائے گا۔ اس سفرنامہ کو مزید دلچسپ اور معلوماتی بنانے کے لئے اس میں 174 رنگین تصاویر کا اضافہ کیا گیا ہے۔ اس کے علاوہ کتاب کے آخر میں 33 صفحات پر مشتمل اشاریہ دیا گیا ہے۔ جس سے کسی ملک، شہراور تاریخی مقام تک فوری رسائی میں مدد ملتی ہے۔

میری نوجوان نسل کے ان تمام افراد سے گزارش ہے  کہ وہ اس سفرنامہ کا مطالعہ ضرور کریں۔ یقیناً یہ ان کی روائیتی سوچ کو ترقی پسند سوچ میں تبدیل کرنے، اردگرد کے ماحول اور لوگوں کو وسیع نظر سے دیکھنے میں ان کی بھرپور مدد کرے گا۔