عوامی مفادات اور اقتدار کی جنگ
- تحریر سلمان عابد
- بدھ 01 / جون / 2022
سیاست، جمہوریت،اقتدار اور عوام یا قانون کی حکمرانی کی براہ راست تعلق عوامی مفادات پر مبنی حکمرانی سے جڑا ہوتا ہے۔ کیونکہ اگر اقتدار کی سیاست کا تعلق عوامی مفادات سے جڑا ہو ا نہ ہو تو ایسی سیاست ایک مخصوص طبقہ کے مفادات کو تو فائدہ دے سکتی ہے مگر اس کا کوئی تعلق عوامی مفادات سے نہیں ہوتا۔
اس طرز کی سیاست عوام کا ریاست، حکومت او راداروں سے تعلق کو کمزور بنانے کا سبب بنتی ہے۔پاکستان میں حکمرانی کی سیاست کا تعلق عوام سے کم او رایک طاقت ور طبقہ کے مفادات سے زیادہ جڑا ہوا ہے۔یہ ہی وجہ ہے کہ ہمارا حکمرانی کا نظام لوگوں میں محرومی، مایوسی یا غیر یقینی پیدا کرتاہے۔منصفانہ اور شفاف حکمرانی کا نظام بنیادی طور پر عام آدمی کے مفادات کو فوقیت دیتا ہے۔ اس نظام کی کوشش ہوتی ہے کہ وہ طاقت ور طبقہ کے مقابلے میں کمزور یا محروم طبقات کے مفادات کو اہمیت دے کر ان کے مقدمہ کو ریاست او رحکومت کے ساتھ مضبوط بنیاد پر استوار کرے۔مگر لگتا ہے کہ ہمارا حکمرانی کا مقصد استحصال یا تفریق کی سیاست کو اہمیت دینا ہے او راسی بنا پر ”طبقاتی بنیادوں پر قائم حکمرانی کے نظام“ کو قائم کرنا ہے۔یہاں ہمیں ایک مخصوص طاقت ور طبقہ یا کمپنیوں کے مفادات پر مبنی حکمرانی کے نظام کے مقابلے میں عام آدمی کے مفادات کو فوقیت دینی ہے۔ مگر بنیادی نوعیت کا سوال یہ ہے کہ عام آدمی کے مفادات کی جنگ کون لڑے گا او رجن لوگوں نے یا طبقات نے عام آدمی کے مفادات کی جنگ لڑنی تھی وہ کہاں گم ہوکر رہ گئے ہیں۔
پاکستان میں جو اقتدار کا جنگ کا کھیل ہمیں بڑے بڑے سیاسی طبقات یا طاقت کے مراکزمیں دیکھنے کو مل رہا ہے اس کے پیچھے بھی ملکی ترقی یا عام آدمی کے مفادات کے مقابلے میں طاقت ور طبقہ کی اپنی حکمرانی کی جنگ بالادست نظر آتی ہے۔ اس کھیل میں عام آدمی اسی طاقت ور طبقہ کے مفادات میں خود کو قربان کرتا ہے۔ مگر حکمرانی کا موجودہ نظام ا عام یا کمزور طبقہ کے خواب کو توڑتا ہے او راس میں اس احساس کو تقویت دیتا ہے کہ حکمرانی کے اس نظام میں عام آدمی کی کوئی گنجائش نہیں۔ہمارا سیاسی نظام بنیادی طور پر ”کارپوریٹ ماڈل“ کی شکل اختیار کرگیا ہے۔ یعنی اس سیاسی ماڈل میں جو بھی بڑی مالی سرمایہ کاری کرے گا اس کا اتنا ہی بڑا حصہ حکمرانی کے نظام میں قائم ہوگا۔سیاست جب منافع یا تجارت کی بنیاد پر چلانے کی حکمت عملی سے جڑی ہو تو عوامی مفادات کی سیاست بہت پیچھے رہ جاتی ہے۔کیونکہ جو لوگ سرمائے کی بنیاد پر ہمارے سیاسی و معاشی نظام کو یرغمال یا اپنے مفادات سے جوڑتے ہیں تو ایسی صورت میں عام آدمی کا مقدمہ بہت پیچھے چلاجاتا ہے۔
عام آدمی کا مسئلہ محض سیاسی جماعتیں، سیاسی قیادتیں یا حکمرانی میں شامل طبقات ہی نہیں بلکہ ریاست کے ادارے اور وہ ادارے جو رائے عامہ کو تشکیل دینے یا عوامی مفادات کے ساتھ جوڑ کر حکمرانوں پر دباو بڑھانے سے جڑے ہوتے ہیں، وہ بھی عام آدمی کے مسئلہ کی بجائے طاقت و ر طبقات کے ساتھ جوڑ کر اپنے ذاتی مفادات کو اہمیت دیتے ہیں۔ سول سوسائٹی او رمیڈیا خود بھی طاقت کی حکمرانی میں کہیں پھنس کر رہ گیا ہے اور عوامی دباؤ کی سیاست بہت پیچھے چلی گئی ہے۔عوامی مفادات کے مقابلے میں طاقت کی حکمرانی عملی بنیادوں پر ایک ایسے بڑے مافیا پر مبنی حکمرانی کے گٹھ جوڑ سے جڑ گئی ہے جس میں عام آدمی کاحصہ نہ ہونے کے برابر ہے۔ہم اگر اپنے سیاسی و سماجی مباحث پر نظر ڈالیں تو ہمیں اس میں بھی عام آدمی کو محض ایک ہتھیار کے طو رپر استعمال کیاجاتا ہے۔ کیونکہ زیادہ تر مباحث کی بنیاد طاقت ور طبقات یا شخصیات کے گرد گھومتی ہے او رہم یا پڑھا لکھا طبقہ شعوری یا لاشعوری طور پر اس کھیل کا حصہ بن کر عام آدمی کے مفادات کو فائدہ پہنچانے کی بجائے اس کو ہی نقصان پہنچاتا ہے۔
اگر واقعی اس ملک میں عام آدمی کا مقدمہ درست کرنا ہے یا اسے درست سمت میں لے جانا ہے تو ہمیں روائتی اور شخصی حکمرانی یا مرکزیت پر مبنی حکمرانی کے نظام سے باہر نکلنا ہوگا۔ ہمیں بنیادی طور پر پانچ باتوں پر توجہ دینی ہوگی۔ اول حکمرانی کے نظام میں ہماری ضرورت مرکزیت پر مبنی حکمرانی کے مقابلے میں عدم مرکزیت یعنی سیاسی، انتظامی او رمالی اختیارات کی اوپر سے لے کر نیچے تک منصفانہ اور شفاف تقسیم او راس کا عملی اقدام ایک مضبوط او رمربوط ملک میں تیسری حکومت کے طور پر ”مقامی حکومتوں کی خود مختاری پر مبنی نظام“ ہے۔ دوئم ہمیں اپنے سیاسی اور معاشی نظام میں وسائل کی منصفانہ تقسیم یا وسائل کو مختص کرنے کے نظا م میں بنیادی ترجیح پہلے سے موجود کمزور یا محروم طبقات کی زندگیوں میں ترقی یا خوشحالی کو پیدا کرنا او ران کو معاشی طو رپر خیراتی نظام کا حصہ بنانے کی بجائے معاشی خود مختاری کی طرف لانا ہوگا۔سوئم جب تک ہم ادارہ جاتی اصلاحات جن میں بیوروکریسی او رمقامی انتظامی صلاحیتوں میں بڑے پیمانے پر سرجری نہیں کریں گے او رایسی کڑوی گولیوں کو ہضم نہیں کریں گے جو نظام کی اصلاح کے لیے ناگزیر ہوگئی ہیں، کچھ نہیں ہوسکے گا۔ چہارم ملک کے نظام میں شفافیت کے لیے منصفانہ اور شفاف نگرانی، جوابدہی یا احتساب کے نظام کو فوقیت دینی ہوگی۔ پنجم ہماری مجموعی قومی منصوبہ بندی اوپر سے لے کر نیچے تک ایک دوسرے کے ساتھ جڑی ہونی چاہیے تاکہ ایک مربوط منصوبہ بندی کا پہلو نمایاں ہو اور سب ہی فریقین یا ادارے ایک دوسرے کے ساتھ جڑے ہوں تاکہ بہتر نتائج پر مبنی حکمرانی کا نظام سامنے آسکے۔
اب سوال یہ ہے کہ عام آدمی کے مفادات کی بنیاد پر حکمرانی کا نظام کیسے قائم ہوگا او رکون اس میں پہل کرے گا۔ پہلی ترجیح تو ایسے سیاسی عمل یا نظام کی تشکیل نو ہے جو ہمیں روائتی طرٖز سیاست اور حکمرانی سے باہر نکال سکے۔اس میں بنیادی کردار تو سیاسی نظام سے ہی جڑے ہوئے فریقین کا ہے جن کو آگے بڑھ کر اپنے موجودہ طرز عمل میں اصلاح پیدا کرنا ہوگی۔لیکن یہ کام سیاسی تنہائی میں ممکن نہیں اس کے لیے ہمیں غیر معمولی صورتحال میں غیر معمولی اقدامات اور تمام سیاسی، انتظامی، معاشی اور قانونی فریقین کو مل بیٹھ کر موجودہ بحران کا علاج تلاش کرنا ہوگا۔آئی ایم ایف جیسے مالیاتی اداروں کی پالیسیاں یا ان کی شرائط اپنی جگہ، لیکن ہمیں یہ سوچنا ہوگا کہ ہم کس حد تک اپنی عوام یا کمزور طبقات پر معاشی بوجھ ڈال سکتے ہیں۔ یہ سو چ اور فکر کہ ہم عالمی مالیاتی اداروں یا اپنی غلط معاشی پالیسیوں کا بوجھ طاقت ور طبقات یا غیر معمولی سطح کی پالیسیوں کو اختیار کرنے کی بجائے عام آدمی پر اس کا بوجھ ڈال کر خود کو بچانے کی کوشش کرتے ہیں۔ہمیں اپنے پورے حکمرانی کے نظام کی اصلاح کے لیے ایک بڑے جاندار او ربے لگ تجزیے او راس کی بنیاد پر کچھ سخت گیر فیصلوں کی ضرورت ہے۔
موجودہ سیاسی، انتظامی، قانونی او رمعاشی نظام اپنی اہمیت یا ساکھ کھو رہا ہے او رلوگوں میں اس نظام کے بارے میں ایک بڑی لاتعلقی کا احساس بڑھ رہا ہے۔ اس احساس کو کیسے کمزو رکیا جائے کہ ہمارے ریاستی نظام میں عام آدمی کی ترجیحات نہیں ہیں او را س کی عملی شکل یہ ہی ہے کہ ہمیں عملی طور پر ریاستی پالیسیوں، قانون سازی، ادارہ جاتی عمل او رعملی اقدامات میں یہ واضح اور شفاف نظر آنا چاہیے کہ عام آدمی ہی ہماری قومی ترجیحات کا حصہ ہے۔